Browsing: ایران

اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اس تصویر کا یہ رخ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایران آزادانہ فیصلے کرنے کا جو حق اپنے لیے مانگتا ہے، ہمسایہ عرب ممالک کو وہی حق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے ایران نے خلیجی و دیگر عرب ممالک کے خلاف غیرعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس نے خاص طور سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن اور عمان پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

براک او باما واحد امریکی صدر ہیں جن سے براہ راست پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔ براک او باما نے اس سوال کے جواب میں بس اتنا کہا کہ ’ میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ (اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے پونے دو سو تک جوہری ہتھیار ہیں)۔

ہمارے ہمسائے میں لہٰذا دونوعیت کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ خلیج سے آئے تیل اور گیس بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ا یرانی حکومت کی اجازت اور تعاون درکار ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوئے ایرانی جہازوں کو مگر امریکی بحریہ کے دستے چیک کرتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش اور بحرہند میں ایران سے آئے جہازوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ کا برقرار رہنا جنگ بندی میں توسیع کے با وجود میرے وہمی دل کو دیرپاامن کی امید دلانے میں ناکام ہورہا ہے۔ گولی چلائے بغیر برقرار رکھی بے یقینی دل ودماغ کو حقیقی جنگ سے کہیں زیادہ ذہنی خلجان میں مبتلا رکھے گی۔

تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔

ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔