اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(
Browsing: ایران
خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
حملوں سے پہلے، امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اس استثنیٰ کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران پر عائد تیل فروخت کرنے کی پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔
ایرانی حکام کو توقع ہے کہ ایران اور عراق مختلف شہروں میں چھ روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کریں گے۔
جنازے کے شرکاء انتقام اور مرگ بر امریکا کے نعرے لگا رہے ہیں ۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی نماز جنازہ کیلئے انتظامات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان کی آخری رسومات کی…
یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹرمسعود پزشکیان کل جب امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کے بعد پاکستان آئے تو یہ معمول سے ہٹ کر دورہ تھا۔بے شک…
پاکستان سے محاورے والی ’’بی فاختہ‘‘ جیسی مشقت کروالینے کے بعد امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ’’ڈائریکٹ‘‘ ہوگئے ہیں اور ہمیں استعمال کرنے کے بعد بھلادیا گیا ہے۔
جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔
امن پر اتفاق کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی، اختلافات اور حتمی معاہدے کےبارے میں نقطہ نظر کا فرق موجود ہے۔ گزشتہ چند روز…
