ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عرب ممالک کو علاقے میں مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کا مشورہ دیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ایران پر امریکی حملوں اور جواب میں خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں کے بعد زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ایران کی تجویز ہے کہ نئے سکیورٹی نظام میں کوئی غیر ملکی مداخلت شامل نہ ہو۔
عباس عراقچی نے یہ باتیں بغداد کے مختصر دورہ کے دوران عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک نیا سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جس میں خطے کے تمام ممالک شامل ہوں اور خطے سے باہر کسی بھی ملک کی موجودگی یا مداخلت نہ ہو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد ضروری ہو گیا ہے جو امریکی حملوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اس موقع پر عراق کے وزیر خارجہ نے مہمان وزیر کے اس بیان پر کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگرچہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد روز اول سے یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ مغربی ایشیا کے ممالک میں امریکی اڈے نہیں ہونے چاہئیں۔ آج بھی مشترک دفاعی انتظام کی بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے درحقیقت علاقے کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سے امریکی اڈے ختم کردیں ورنہ انہیں ایران چین سے نہیں رہنے دے گا۔ عباس عراقچی کی یہ تجویز ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکہ کے ساتھ نئی جھڑپوں کے دوران بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ خلیج تعاون کونسل نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی جارحیت قرار دیا ہے۔ اس کونسل میں متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور سعودی عرب شامل ہیں۔
اس پس منظر میں دو باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک تو یہی کہ ایرانی وزیر خارجہ اس تجویز کے ذریعے اپنے ہمسایہ ملکوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ایک دوستانہ مشورہ، تجویز یا باہمی تعاون کے کسی منصوبے کا خاکہ ہے یا یہ ایران کی خواہش ہے۔ تاہم عراق جیسے کمزور اور غیر مستحکم ملک کے دورہ کے دوران دھمکی آمیز انداز میں یہ تجویز پیش کرکے ایرانی لیڈر نے تہران کی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل کے مغربی ایشیا میں اسے غیر مشروط طاقت مان لیا جائے ورنہ وہ کسی ملک کو امن و چین سے زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اس حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ خود مختار عرب ممالک کو کسی سکیورٹی نظام پر متفق ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ایران اپنی حفاظت کی بات کررہا ہے یا ہمسایہ ممالک کو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس کی بات نہ مانی گئی تو وہ ان کا جینا حرام کئے رکھے گا۔
اس حوالے سے اس سوال کا جواب دینا ضروری ہوگا کہ کسی اہم تجویز کو دھمکی کے ساتھ منسلک کرکے ایران کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا وہ عرب ممالک کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہاہے کہ ایران غیر معمولی طور سے طاقت ور ملک ہے اور اس علاقے کےسب ممالک کو اب اسی کی شرائط پر معاملات طے کرنے ہوں گے۔ اس لیے اگر تہران یہ کہہ رہاہے کہ آؤ مل کر سکیورٹی انتظام پر اتفاق کرلیں تو یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے طریقے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ دعوے کرنے کے جوش میں ایرانی لیڈر کسی بھی قسم کا کوئی بھی دعویٰ کرسکتے ہیں لیکن دیکھنا ہوگا کہ کیاایرانی حکومت اس قسم کے دعوے پورا کرنے کے قابل بھی ہے۔ تباہ حال معیشت، بدحال اور ناراض عوام کی اکثریت اور منتشر اور آپس میں دست و گریباں ایرانی قیادت، کیا اس قابل ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں کو اپنی شرائط پر سکیورٹی انتظامات کرنے پر آمادہ کرسکے۔
عباس عراقچی کی تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ مجوزہ سکیورٹی انتظامات میں ’ خطے سے باہر کسی بھی ملک کی موجودگی یا مداخلت نہ ہو‘۔ یہ مشورہ سنتے ہی عام طور سے یہی قیاس کیا جاتا ہے کہ ایرانی لیڈر مغربی ایشیا کے ممالک میں امریکی موجودگی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایران یہی کہتا رہا ہے کہ وہ مجبوری کے عالم میں عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے ورنہ وہ اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کا احترام کرتا ہے۔ شروع میں ایسے حملوں کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عرب ممالک سے معافی بھی مانگی تھی۔ یہ دعویٰ بھی کیاجاتا ہے کہ یہ حملے صرف ان امریکی اڈوں پر کیے جاتے ہیں جہاں سے امریکی افواج ایران کو نشانہ بناتی ہیں۔ لیکن ایران کبھی اس بات کا ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ اس پر ہونے والے امریکی حملے درحقیقت کس ملک میں واقع امریکی اڈے سے ہوئے تھے۔ کیوں کہ ایک تو امریکہ کے متعدد عرب ممالک میں اڈے موجود ہیں لیکن اس کے علاوہ اس کا طاقت ور بحری بیڑا بھی ایرانی بحری حدود کے قریب ہی موجود ہے۔ ان میں ہر بحری بیڑا کسی بھی عسکری اڈے سے زیادہ مؤثر طریقے سے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن ایران نے کبھی کسی بھی امریکی بیڑے کو نشانہ بنانے اور اسے تباہ کردینے کے دعوے نہیں کیے۔ عرب ممالک میں امریکی اڈوں کا نام لے کر جو حملے کیے گئے، ان میں بھی بین الاقومی ہوائی اڈے، تیل و گیس کی تنصیبات اور شہری مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے کبھی اس بے اعتدالی پر معافی مانگنے یا اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ دوسری طرف عرب ممالک میں بیشتر امریکی اڈے اس جنگ کے دوران ’غیر فعال ‘ رہے ہیں۔ ایران کے پاس ایسی فنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ وہ کسی امریکی حملے کا درست سراغ لگا کر بتا سکے کہ وہ کہاں سے شروع کیے گئے تھے۔ اس لیے ایسے دعوے درحقیقت ایران کے پروپیگنڈے اور عرب ممالک کو ہراساں کرنے کا ہتھکنڈا ہیں۔
ایران جب ’باہمی سکیورٹی نظام‘ میں خطے کے باہر کے ملکوں کو پرے رکھنے کی بات کرتا ہے تو اس کا اشارہ امریکہ کے علاوہ پاکستان کی طرف بھی ہوسکتا ہے جس نے گزشتہ سال ہی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب ایک پر حملے کی صورت میں دوسرے پر حملہ تصور کرنے کے پابند ہیں۔ اسی لیے پاکستانی لیڈروں نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے دوران واضح کیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں چند حملے کرنے کے بعد ایران، سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے باز رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس معاملہ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کیسے اپنے خود مختار عرب ممالک کو کسی سکیورٹی نظام کی تجویز دیتے ہوئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ دفاعی تعاون سے روکنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ طریقہ کسی بھی ملک کی خود مختاری اور آزادانہ فیصلوں کے خلاف شرط رکھنے کے مترادف ہے۔ جس کا آسان مطلب یہی ہے کہ عرب ممالک کو امن سے رہنے کے لیے ایرا نی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
امید ہے تہران عباس عراقچی کی طرف سے پیش کیے گئے سکیورٹی پلان کی تفصیل پیش کرے گا جس میں دھمکی کے عنصر سے گریز کیا جائے گا۔ تاہم ایرانی لیڈروں کو اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ عرب مملک عسکری لحاظ سے ایران سے کمزور ہیں یا ایران طاقت کے زور پر ان سے کوئی بھی بات منوا سکتا ہے۔ عرب ممالک نے اگر ایرانی حملوں کا جواب دینے سے گریز کیا تو اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک یہ ممالک جنگ کو توسیع نہیں دینا چاہتے تھے۔ دوسرے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے ہولناک حملوں کے بعد سب مسلمان ممالک ایران کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران اسے عربوں کی کمزوری سمجھنے کی غلطی کرنے لگے۔ ایسا اندازہ قائم کرتے ہوئے تہران اپنی مشکلات میں ہی اضافہ کرے گا۔
تہران کو ضرور علاقے میں سکیورٹی انتظام کا حصہ بننا چاہئے لیکن ایسے کسی بھی منصوبہ کے خد و خال ایرانی شرائط کی بجائے باہم صلاح مشورہ سے طے ہونے چاہئیں۔ دریں حالات ایران کی گرمجوشی اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کے تناظر میں ایران ایک ناقابل اعتبار اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آرہاہے۔ اس کے ’زیر سایہ‘ کسی بھی ملک کو تحفظ کا احساس نہیں ہوسکتا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

