سیدہ معصومہ شیرازی کا نام رثائی ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے وہ ایک طویل عرصہ سے ادب کی دنیا میں سرگرم ہیں ، انہیں کئی زبانوں ٰ( خاص طور پر اردو ، سرائیکی ، فارسی اور عربی ) پر عبور حاصل ہے ۔ معصومہ شیرازی کئی ممالک کے دورے کر چکی ہیں ۔غزل ہو یا نظم ، دونوں میں انہیں کمال کی مہارت حاصل ہے۔ وہ چونکہ غمِ حسین بھی بیان کرتی ہیں مجالسِ عزا میں بھی شریک ہوتی ہیں تو ان کا ایک عالمہ اور ذاکرہ کے طور پر بھی دنیا بھر میں معتبر حوالہ ہے ۔ ان کی گفتگو سننے والے مبہوت رہ جاتے ہیں ان کے پاس جو لفظوں کا خزانہ ہے اور جس طرح مختلف علوم اور زبانوں پر انہیں جو عبور حاصل ہے وہ ان کی مدد سے جب گفتگو کرتی ہیں تو ہم سب ان پررشک کرتے ہیں ۔
گزشتہ ہفتے ان کے رثائی اور رزمیہ کلام کا مجموعہ ’’ صدائے ابابیل ‘‘موصول ہوا تو ہمیں وہ زمانہ یاد آ گیا جب ہم روزنامہ جنگ ملتان سے وابستہ تھے اور معصومہ صاحبہ بھی ملتان میں ہی مقیم تھیں ۔۔ ان کی نظمیں اور غزلیں تسلسل کے ساتھ موصول ہوتیں اور روزنامہ جنگ کی زینت بنتیں ۔۔ روزنامہ جنگ کے بعد ہم جب توقیر بیگ صاحب کی قیادت میں وسیب ٹی وی کے ساتھ وابستہ ہوئے تو وہاں بھی مختلف پروگراموں خاص طور پر ایامِ عزا کے دوران ہماری درخواست پر وہاں تشریف لاتیں اور مختلف پروگراموں میں مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتیں ۔۔
ان کی نئی کتاب خانہ فرہنگ ایران نے شائع کی ہے ۔ کتاب کے نام میں حالیہ ایران امریکا جنگ کے تناظر میں ایک نئی معنویت پیدا ہوئی ہے ۔۔ ہمیں اس کے مطالعے کے دوران ایران ایک ابابیل کی طرح امریکی ہاتھیوں کے لشکر کو کنکریوں کے ذریعے بھس کے ڈھیر میں تبدیل کرتا نظر آتا ہے ۔۔
یوں صدائے ابابیل ایک استعارہ بھی ہے اور تلمیح بھی ۔۔
نام ور شاعر افتخار عارف صاحب جس کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں یہ کہہ دیں کہ ان کی شاعری ان کی ہنروری کی عکاس ہے ۔ وفور شدت ِ فن اور دسترس باہم آ میز ہو کر ان کے ایک ایک مصرعے کو تاثیر سے ہمکنار کرتے ہیں تو اس کے بعد ہماری رائے کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے افتخار عارف صاحب کے علاوہ کتاب کے فلیپ پر ڈاکٹر ہلال نقوی اور ڈاکٹر جاوید منظر صاحب کی آرا بھی ہمیں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حمدیہ نظمیں بھی ہیں نعتیں بھی ہیں مناجات بھی اور امام عالی مقام اور سیدہ زینب کی شان میں بہت سی نظمیں اور سلام بھی اس میں موجود ہیں ۔۔ کتاب کا رزمیہ آہنگ اس کی بنیادی خوبی ہے ۔۔ معصومہ صاحبہ نے اگرچہ غزل بھی کہی لیکن نظم میں انہیں کمال مہارت حاصل ہے ۔۔ان کی نظم لا پتا افرادگم ہو جانے والی ایک پوری نسل کا نوحہ ہے کے چند مصرعے دیکھیئے ۔ ۔۔
دیے امیدوں کے بجھ رہے ہیں / ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں /اداس بچوں کے زرد چہرے دلوں پہ خنجر چلا رہے ہیں / ملول ماؤں کی سرد آ ہیں/ ضعیف باپوں کے بے سہارا لرزتے بازو صدائے ہل من میں ڈھل رہے ہیں / یہ عہدِ ظلمت کے قید خانے ہماری نسلیں نگل رہے ہیں /ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں
ایک اور نظم کے چند مصرعے
جناب والا ابھی نہ سوئیں / کہ قصر شاہی سے دور / ٹھنڈی اداس قبریں /کہر میں لپٹی بریدہ لاشوں کی منتظر ہیں /بلکتی ماؤں کے ہاتھ یخ ہیں/ یتیم بچوں کی سرخ آنکھیں حضور والا کی منتظر ہیں / جنابِ والا ابھی نہ سوئیں
قاسم سلیمانی کی شہادت پر ان کی نظم قاسم سلیمانی کا ہی نہیں بغداد کا بھی نوحہ ہے ۔۔نظم کے چند مصرعے اس طرح ہیں
ہائے بغداد ترے کوچہ و بازار پہ خاک/ اتنے جاں باز یہاں خون میں نہلائے گئے/ ہائے اس شہر ِ ستمگار میں سادات کے سر /کاٹ کر کوچہ و بازار میں چنوائے گئے / پھر اسی شہر کی سفاک گزر گاہوں میں/ آ ج سردار کا پاکیزہ لہو جذب ہوا / کھو گئیں خاک میں سردار کی روشن آنکھیں / مسکراتا ہوا چہرہ سر مقتل ڈوبا
اس کے علاوہ کتاب میں بہت سے ترانے بھی موجود ہیں جو خاص مواقع پر کہے گئے ۔ یہ ترانے ایک جوش اور ولولہ پیدا کرتے ہیں جو ترانے کی بنیادی خوبی ہے ۔۔ معصومہ شیرازی صاحبہ کے لیے دعا ہے کہ ان کا علمی ادبی و فکری سفر اسی طرح جاری رہے کہ وہ جہاں بھی جائیں ہمارے ملتان کی شان میں اضافہ ہوتا ۔۔
فیس بک کمینٹ

