ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد کا ایک روزہ دورہ کیا ہے۔ اس دورے نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے پاکستان کے کردار، غیر جانبداری اور امن کے لیے اس کی خواہش و کوشش کے بارے میں پیدا کیے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور کر دیے ہیں۔ تاہم عجلت میں طے کیے گئے اس دورہ سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ایران پر عائد کچھ پابندیاں ختم ہونے سے پاکستان کیا استفادہ کرسکے گا۔
یہ امر تو قابل فہم ہے کہ قومی اور عالمی سطح پر ثالثی کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر نت نئے سوالات اٹھانے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے عناصر ایسی گمراہ کن خبریں پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن اندرون ملک بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جنہیں موجودہ حکومت کی کسی کامیابی میں ملک و قوم کی فتح یابی دکھائی نہیں دیتی اور وہ مسلسل شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکہ کا ’پٹھو‘ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے ایسے تبصروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کی بھرمار رہی ہے جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی حیثیت امریکہ کے ’ایجنٹ‘ سے زیادہ نہیں تھی، ثالثی کا اصل سہرا قطر کے سر باندھنا چاہیے کیوں کہ قطری لیڈروں نے معاملات طے کروائے۔ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدہ ہونے کے فوری بعد صدر مسعود پزشکیان کے دورہ اسلام آباد نے اس قسم کے تمام پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
اس پس منظر میں ایرانی صدر کا دورہ ضرور بے حد اہم اور پاکستان کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ضروری تھا۔ اس موقع پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات منفرد، قریبی اور برادرانہ ہیں‘ ۔ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور عزیز دوست ہے۔ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو نئی جہت دی ہے ’۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے وہ معترف ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئے۔ اس عمل میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امن کے عمل میں کردار ادا کرنے پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
یہ خیالات اس خاص ماحول میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں جو عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی بے لوث سفارتی کوششوں کو گہنانے کے لیے بے بنیاد اور جھوٹی خبریں و تبصرے عام کر کے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران ایک مثبت اور اپنے مفادات کے قریب تر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ اب یہ ایرانی لیڈروں کی فہم و فراست پر مشتمل ہو گا کہ وہ اسرائیل جیسے گیم سپائیلر کو امن اور ایرانی عوام کی خوشحالی کا یہ راستہ کھوٹا کرنے کی اجازت دیتا ہے یا امن دشمن قوتوں کی کوششوں کو پاکستان جیسے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ناکام بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ آنے والے ہفتوں کے دوران ایران کی سفارت کاری کا امتحان ہو گا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ سوال کرنا بھی بے حد اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اس موقع پر پاکستان و ایران کے لیڈر دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کے کسی منصوبے کے بارے میں ہلکا سا اشارہ دینے میں بھی ناکام رہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان نہ صرف مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں بلکہ سوٹزرلینڈ میں ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ملک اب آگے بڑھنے پر بھی آمادہ ہوچکے ہیں۔ ایران عالمی انسپیکٹرز کو ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کے لیے واپس آنے کی اجازت دینے پر راضی ہو گیا ہے۔ یہ رابطہ گزشتہ سال کے وسط میں ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد معطل ہو گیا تھا۔ اب عالمی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) کے انسپیکٹر ایک بار پھر ایران آ کر دنیا اور ایران کے درمیان اس معاملہ پر پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو کم کر سکیں گے۔
اسی طرح امریکہ نے بھی ایران کو تیل برآمد کرنے کا عبوری لائسنس جاری کر دیا ہے جس کے تحت ایران آزادانہ طور سے تیل برآمد کرسکے گا۔ پاکستان درآمدی تیل پر انحصار کرنے والا ملک ہے اور وہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے تیل نہیں خرید سکتا تھا۔ بہتر ہوتا کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھنے کے بعد پاکستانی حکومت ایران سے تیل کی خریداری کا اعلان کرتی تاکہ اس کی درآمدی قیمت کم ہو سکتی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران کے ساتھ مشترکہ گیس پائپ لائن کا ایک منصوبہ مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھا دی تھی لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان اپنے علاقے میں پائپ لائن پر کام شروع نہیں کر سکا تھا۔ حالانکہ یہ پائپ لائن تعمیر ہونے سے پاکستان کو سستی گیس آسانی سے فراہم ہو سکتی ہے۔ ایرانی صدر کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر اس منصوبہ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی وضاحت سامنے آنی چاہیے تھی۔ کیوں اس معاملہ پر ایران کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا تنازعہ بھی موجود ہے جس کے تحت پاکستان، ایران کو کئی ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا پابند ہے۔
امریکہ کی طرف سے خیر سگالی کے اظہار اور پاکستانی لیڈروں کے لیے امریکی صدر کی نیک خواہشات اور پیغامات کے ہجوم میں پاکستانی عوام کو بھی بتانا ضروری ہے کہ اس اہم معاشی منصوبہ پر کیا پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایران پر سے کچھ پابندیاں ہٹنے کا فائدہ پاکستان کو بھی ملنا چاہیے۔ اور اگر اس حوالے سے کوئی رکاوٹ موجود ہے تو اسے خاص طور سے واشنگٹن کے ساتھ مل کر طے کرانا چاہیے۔ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں اس وقت تک اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے۔ انہوں نے ایران کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میری طرف سے رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے‘ ۔ یہ سب باتیں اہم ہونے کے باوجود پاکستانی عوام کی بنیادی ضرورتوں اور مسائل کا احاطہ نہیں کرتیں جو مہنگے داموں توانائی خریدنے اور اس کی فراہمی کے معاملہ پر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ یہ معاملہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے حل ہو سکتا ہے۔
ایران امریکہ کے ساتھ امن قائم کرنے میں یقیناً سرخرو ہوا ہے اور اس نے اپنی متعدد ریڈ لائنز کو تسلیم بھی کرایا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی علاقے میں دیرپا امن کے لیے صرف ایران کے مفادات ہی اہم نہیں ہیں بلکہ ایرانی لیڈروں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے ہمسایہ ملکوں کی خود مختاری اور مالی و سیاسی مفادات کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور علاقے میں ایک پرامن اور ذمہ دار ملک کے طور پر زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایرانی لیڈر اس حوالے سے اپنا واضح موقف بیان کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ ایران کی زیادہ تر توجہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت پر مرکوز رہی ہے لیکن ایران کے ساتھ معاملات صرف حزب اللہ کی حفاظت سے ہی مربوط نہیں ہیں بلکہ اسے دیگر عرب ممالک کو بھی یقین دلانا پڑے گا کہ ایران ان کی خودمختاری اور معاشی مفادات کا احترام کرتا ہے۔ ان ممالک نے ایرانی حملوں کے باوجود صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے جوابی حملے نہیں کیے تھے۔ پاکستان نے اس تصادم کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
خلیجی ممالک کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ابوظہبی پہنچنے پر اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران کی قیادت دہشت گردی پھیلانے والی ایک انقلابی تحریک کے بجائے ایک عام ریاست کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کرے تو اسے بڑے پیمانے پر ترقی اور مواقع حاصل ہو سکتے ہیں‘ ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار آنے والے دنوں میں متعدد سکیورٹی مسائل کے حل اور ان پر پیش رفت سے ہو گا۔ امریکی و یورپی لیڈر مفاہمی یادداشت کے بعد یہی بات ایران کے ذمہ دارانہ رویہ کا ذکر کر کے دہراتے رہے ہیں۔جنگ کے بعد حالات معمول پر لانے کے لیے ایرانی لیڈروں کو اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔ تاہم ایرانی صدر نے پاکستان کے دورہ کے دوران اس طرف بھی کوئی اشارہ دینا ضروری نہیں سمجھا۔
( بشکریہ : کاروان )
فیس بک کمینٹ

