بنوں : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب ڈومیل کے علاقے میں مسافر گاڑیوں کے قریب وقفے وقفے سے دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔
ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ڈومیل کے علاقے میں تھانہ احمد زئی کی حدود میں پیش آیا۔
مقامی علاقے سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی کے رہنما نور دراز نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’مقامی ڈرائیور اللہ نور کی گاڑی سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی اور جیسے مرکہ بیرہ کے پاس پہنچی وہاں دھماکہ ہوا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس گاڑی میں ڈرائیور کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور چند دیگر افراد بھی سوار تھے جن پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا۔‘
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مسافر گاڑی پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر بھی کچھ فاصلہ پر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا اس میں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔‘
یاسر آفریدی کا کہنا ہے کہ ’ان دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو خلیفہ گلنواز ہسپتال بنوں میں داخل کیا گیا ہے۔‘
بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تین زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال لایا گیا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔‘
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ’سات افراد کی لاشوں کو مقامی سطح پر ڈومیل کے صحت مرکز میں لے جایا گیا ہے جہاں سے پھر انھیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔
اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ابتدائی طور پر پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکے ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے ہیں تاہم پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
ریجنل پولیس افسر ربنواز کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’بکتر بند گاڑیاں (APCs)، بم ڈسپوزل ٹیمیں اور پولیس کی نفری کو علاقے میں فوری طور پر روانہ کیا گیا ہے جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے تفتیش کی جا رہی ہے۔‘
بنوں کے قریب واقع تحصیل ڈومیل میں اپریل سنہ 2026 میں ڈومیل پولیس سٹیشن کو ایک خودکش کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے ہدف تک مکمل طور پر پہنچنے میں ناکام رہا، تاہم دھماکے کے اثرات مقامی آبادی تک محسوس کیے گئے۔
پھر مئی 2026 میں بنوں کے فتح خیل علاقے میں پولیس چوکی پر ایک بڑا حملہ ہوا جس میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے ڈومیل اور ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز میں اضافہ کیا، جن کے دوران کئی مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
بنوں کے ساتھ لکی مروت میں بھی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں گزشتہ روز لکی مروت میں غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں امن کمیٹی کے رہنما کے حجرے پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔ خیرو خیل میں ایک ہفتہ پہلے جمعہ کے روز ہی مسجد کے قریب دھماکہ ہوا تھا جب لوگ جمعہ نماز ادا کر رہے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

