کراچی : پاکستان کے نامور کرکٹ صحافی قمر احمد 88 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پا گئے ہیں۔
انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران 400 سے زیادہ ٹیسٹ میچز اور 600 سے زیادہ ون ڈے میچز سمیت مختلف آئی سی سی ایونٹس کی کوریج کی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے بی بی سی کے لیے بھی کام کیا تھا۔
قمر احمد 23 اکتوبر 1937 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور طویل عرصے انگلینڈ میں بھی مقیم رہے۔ وہ 17 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیلے تھے اور انھوں نے قائد اعظم ٹرافی میں حیدر آباد ٹیم کی قیادت کی تھی۔
سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف بتاتے ہیں کہ قمر احمد ’عارضہ قلب میں مبتلا تھے دو ہفتے قبل ان کا ایک آپریشن بھی ہوا تھا۔‘
قمر احمد کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے صحافی عبدالغفار نے لکھا کہ ’قمر صاحب نے اپنی زندگی کے تقریباً پچاس سال کھیلوں کی صحافت کے لیے وقف کیے اور ان کا شمار پاکستان کے معتبر ترین کرکٹ رائٹرز میں ہوتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’قمر صاحب کی وفات صرف پاکستانی سپورٹس جرنلزم ہی نہیں بلکہ عالمی سپورٹس جرنلزم کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔
’ان جیسا تجربہ، مشاہدہ اور تاریخِ کھیل پر گرفت رکھنے والے صحافی کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔‘
سلیم خالق نے لکھا کہ ’قمر احمد صاحب پاکستانی سپورٹس صحافت کا بہت بڑا نام تھے۔ ٹورز خاص طور پر انگلینڈ میں ان سے دلچسپ واقعات سننے کا بھی موقع ملتا تھا۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔‘
مرزا اقبال بیگ یاد کرتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب میں نے 1998 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کمنٹری کے سلسلے میں کیا تھا تو اس دورے میں قمر احمد بھی موجود تھے۔ انھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی اور اپنی وسیع معلومات اور تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔‘
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے ایک پیغام میں لکھا کہ قمر احمد نے گواسکر کا 10000واں رن، ہیڈلی کی 400ویں وکٹ، کمبلے کی 10 وکٹیں، کرکٹ کا ہزارواں ٹیسٹ اور 2011 میں 2000واں ٹیسٹ کوور کیے تھے۔
( بشکریہ ؛بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

