مردان : خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک گردواے میں فائرنگ کے نتیجے میں سکھ میاں بیوی ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مردان کے بابو محلہ، خواجہ گنج بازار میں واقع گردوارے کے اندر نامعلوم ملزم نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس عبادت گاہ کے نگراں میاں بیوی ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او مردان مسعود احمد، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ماریہ مصطفی، اے ایس پی سٹی، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کا جائزہ لیا جپ۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
بی بی سی اردو کو اراکین صوبائی اسمبلی گرپال سنگھ اور سریش کمار نے بتایا ہے کہ دونوں بزرگ میاں بیوی اس گردوارے کے رکھوالے تھے اور ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی
انھوں نے بتایا کہ مرد کی عمر لگ بھگ 72 سال اور خاتون کی عمر 69سال تک ہوگی۔
سریش کمار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے میاں بیوی کے چہروں پر گولیاں ماری ہیں۔
گرپال سنگھ نے بتایا کہ دونوں کی آخری رسومات آج رات مردان میں ادا کی جائیں گی۔ انھوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔مردان میں سکھوں اور ہندوؤں کی کُل تعداد 300 تک بتائی جاتی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

