امن پر اتفاق کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی، اختلافات اور حتمی معاہدے کےبارے میں نقطہ نظر کا فرق موجود ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران اگرچہ تہران نے ’ باہمی مفاہمت کی یادداشت‘ کے بارے میں متضاد اور اختلافی باتیں کیں لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس یادداشت پر پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق اتوار کو ڈیجیٹلی دستخط ہوگئے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدے یا یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں اور اب اس میں کوئی رد و بدل ممکن نہیں ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کررکھا ہے کہ جمعہ کو جنیوا میں پاکستان کی سرکردگی میں اس یادداشت پر باقاعدہ دستخط کی تقریب منعقد ہوگی۔ امریکی صدر و نائب صدر کے علاوہ تہران میں تمام ذرائع اس خبر کی تصدیق کرچکے ہیں۔ اس لیے اب اس بارے میں تو ابہام موجود نہیں ہے کہ جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حتمی معاہدے پر 60 دن کے اندر معاملات طے کیے جائیں گے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے کے بعد اس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری لی جائے گی۔ جمعہ کو یادداشت پر باقاعدہ دستخط ہونے کے بعد اس بارے میں بات چیت کا آغاز ہوگا۔ اگرچہ یہ طے نہیں ہے کہ یہ مذاکرات کہاں ہوں گے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا ان مذاکرات کے دوران پاکستان اور ثالثی کے عمل میں شامل دیگر ممالک معاونت کریں گے یا ایران اور امریکہ براہ راست معاملات طے کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔
گو کہ فریقین کے درمیان بداعتمادی کی موجودہ فضا میں کسی ثالث کے بغیر براہ راست بات چیت کا امکان دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے لیکن جمعہ سے پہلے اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں گی۔ ایران اور امریکہ کے عوام کے علاوہ پوری دنیا کے لوگ یہ امید کریں گے کہ یادداشت پر اتفاق رائے کے دوران زبانی اور عملی جنگ جوئی کے جو مناظر دیکھنے میں آئے تھے، اب دونوں ملک اس سے گریز کریں گے اور بات چیت اور اتفاق رائے کے لیے زیادہ خوشگوار ماحول پیدا کیا جائے گا۔ ایران کی طرف سے تمام تر مزاحمت کے باوجود یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے کا حتمی اور دائمی معاہدہ کرنا پڑے گا اور اس بات پر بھی راضی ہونا پڑے گا کہ ساٹھ فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم کی افزودگی کی سطح یا تو کم کی جائے یا یہ مواد کسی تیسرے غیر جانبدار ملک کے حوالے کیا جائے ۔ اس معاملہ پر ایران اور امریکہ دونوں طرف سے پوائینٹ اسکورنگ ہوتی رہی ہے لیکن البتہ یہ نکتہ حتمی ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔ یہ واضح ہے کہ ایران یادداشت کے مسودے میں اس اصول سے اتفاق کرچکا ہے۔ امریکی صدر دو ٹوک الفاظ میں اس کا اعلان بھی کررہے ہیں۔
تنازعہ کا دوسرایا اہم ترین نکتہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ امریکی نقطہ نظر سے اس آبی شاہراہ کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن میں واپس لایا جائے گا اور تمام بحری جہاز اس راستے کو کسی رکاوٹ کے بغیر استعمال کرسکیں گے۔ امریکی حکام واضح الفاظ میں اس پوزیشن کا اعلان کررہے ہیں۔ البتہ ایران کی طرف سے ابھی تک ملے جلے اشارے دیے جارہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ تمام بحری جہاز کوئی ٹول ادا کیے بغیر اس راستے سے گزریں گے اور دنیا کو تیل کی فراہمی حسب سابق فوری طور سے شروع ہونی چاہئے۔ البتہ ایرانی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کامجاز نہیں ہوگا لیکن ان سے سروس چارجز لیے جائیں گے۔ امریکی ذرائع ایسی کسی رعایت کا ذکر نہیں کرتے۔ اب یہ عقدہ اس یادداشت کا اصل متن سامنے آنے کے بعد ہی کھل سکے گا کہ ایران کو کس حد تک آبنائے ہرمز کی بحری ٹریفک کو ’کنٹرول‘ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ یادداشت پر دستخط ہوجانے کے بعد یہ تو طے ہے کہ ایران کوئی فیصلہ یک طرفہ طور سے کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف یا تنازعہ کا ایک اہم نکتہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ تمام محاذوں پر جنگ بند ہوگی اور یہ معاہدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے خاص طور سے لبنان میں اسرائیلی جنگ جوئی کا حوالہ دیا۔ جبکہ امریکی سرکاری ترجمان اس کی براہ راست تصدیق نہیں کررہے ۔ ایک سینئر امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے لیکن اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت جاری ہے۔اگر ایران حزب اللہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا اور وہ اسرائیلی ٹھکانوں یا شہروں پر حملہ کرتے ہیں تو اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور جواب دینے کا حق حاصل ہوگا۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ایران اور اس کے اتحادی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ، دشمنی ختم کرنے اور ایک حتمی امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں امید ہے کہ ان پراکسی گروپوں میں سے بہت سے شامل ہوں گے‘۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر یادداشت میں تمام محاذوں پر جنگ بندی کا ذکر موجود ہے تو امریکہ نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ ایران حزب اللہ کو کنٹرول کرے گا اور اسرائیل پر میزائل حملے بند کیے جائیں گے۔ ورنہ امریکہ کبھی بھی اسرائیل کے نام نہاد ’حق دفاع‘ سے انکار نہیں کرے گا۔ یہ پوزیشن پوری دنیا کو معلوم ہے اور ایرانی حکام کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا ہوگا۔ اس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ اگرچہ یادداشت میں ایران کے پراکسی گروپوں کی حمایت ختم کرنے کا براہ راست ذکر شاید موجود نہ ہو لیکن اس پر واضح کردیا گیا ہے کہ حزب اللہ یا حوثی اگر اسرائیل پر حملے کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس طرح یہ معاملہ بھی دو طرفہ افہام و تفہیم اور احترام کے اصول کا تقاضہ کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اس معاہدے کو غیرمناسب اور ’نقصان دہ ‘ قرار دے رہے ہیں۔ تل ابیب نے اگرچہ سرکاری طور پر اس یادداشت پر کوئی رائے نہیں دی لیکن اسرائیل سے یہ اشارے موصول ہوئے ہیں کہ اسرائیل نہ تو اس معاہدے کا فریق ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ صدر ٹرمپ کی اتھارٹی کے لیے چیلنج ثابت ہوسکتی ہے لیکن ایران کا طرز عمل بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔ ایران اگر حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف جنگ جوئی سے روکنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ امریکہ کے ذریعے اس گروہ کو اسرائیل کے عذاب سے بچا بھی نہیں پائے گا۔ تہران کو امریکہ کے ساتھ یادداشت پر اتفاق کرنے اور جنگ بندی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے تنازعہ کے تمام پہلوؤں کے بارے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ورنہ کوئی یادداشت خطے میں ایک نئی جنگ کا راستہ نہیں روک سکے گی۔
اس تنازعہ میں ایران کے عرب ہمسایہ ممالک نے شدید نقصان اٹھایا ہے۔ ایران نے امریکہ کے اڈوں کے بہانے عرب ممالک پر حملے کیے اور بعض صورتوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے باوجود اہم عرب ممالک مثلاً سعودی عرب ، قطراور عمان نے امن معاہدہ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ممالک نے انتہائی زیرکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی اشتعال انگیزی کے باوجود جوابی حملے نہیں کیے اور جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کو مستقبل میں اسے عربوں کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے بلکہ مثبت سفارت کاری کے ذریعے ان ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ اسی صورت میں مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم ہوسکے گا اور اسرائیل کو کسی مزید جارحیت یا تشدد سے باز رکھا جاسکے گا۔
مختصراً فریقین کے درمیان طے پانے والی یادداشت کا خیر مقدم کرنے کے باوجود صدر ٹرمپ اور یورپی لیڈروں کے اس انتباہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اب ایران کو اپنا رویہ اور طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ پیرس میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ آئی تو صورتحال دوبارہ اسی مقام پر جا سکتی ہے جہاں سے حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں اچھے تعلقات قائم ہوں گے مگر انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیاکہ اگر ایسا نہ ہوا تو حالات دوبارہ پہلے جیسے ہو سکتے ہیں‘۔یورپین کمیشن کی صدر ارسلا وون در لیوین نے بھی ایران پر سے معاشی پابندیاں اٹھانے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہےکہ ’اس کا تعلق ایران کے رویہ سے ہے۔ یہ پابندیاں ایرانی پالیسیوں کی وجہ سے لگائی گئی تھیں۔ اب اگر زمینی حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے طریقے تبدیل کیے ہیں ، تب ہی پابندیاں ختم ہوسکتی ہیں‘۔
امریکہ و یورپی لیڈر وں کے بیانات ایران کی طرف سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی، ہمسایہ ملکوں کے خلاف تخریب کاری اور جوہری ہتھیار بنانے سے گریز کی حتمی پالیسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ ایران نے اگر ان اشاروں کو سمجھنے اور خوشحال ایران کے لیے تصادم کی پالیسیاں تبدیل کرنے کے اقدامات نہ کیے تو تمام تر نیک تمناؤں کے باوجود ایران کی مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں ہوسکےگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

