Browsing: امریکا

اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(

ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اس تصویر کا یہ رخ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایران آزادانہ فیصلے کرنے کا جو حق اپنے لیے مانگتا ہے، ہمسایہ عرب ممالک کو وہی حق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے ایران نے خلیجی و دیگر عرب ممالک کے خلاف غیرعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس نے خاص طور سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن اور عمان پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

براک او باما واحد امریکی صدر ہیں جن سے براہ راست پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔ براک او باما نے اس سوال کے جواب میں بس اتنا کہا کہ ’ میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ (اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے پونے دو سو تک جوہری ہتھیار ہیں)۔

ہمارے ہمسائے میں لہٰذا دونوعیت کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ خلیج سے آئے تیل اور گیس بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ا یرانی حکومت کی اجازت اور تعاون درکار ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوئے ایرانی جہازوں کو مگر امریکی بحریہ کے دستے چیک کرتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش اور بحرہند میں ایران سے آئے جہازوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ کا برقرار رہنا جنگ بندی میں توسیع کے با وجود میرے وہمی دل کو دیرپاامن کی امید دلانے میں ناکام ہورہا ہے۔ گولی چلائے بغیر برقرار رکھی بے یقینی دل ودماغ کو حقیقی جنگ سے کہیں زیادہ ذہنی خلجان میں مبتلا رکھے گی۔