Browsing: امریکا

تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔

ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے

2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری مرتبہ مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔

ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔

وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔