چار اپریل 1979 کی صبح میں اپنے ننھیال مخدوم رشید میں تھا اور اپنی نانی کے پاس بیٹھا فجر کی نماز کے بعد ان کو قرآن پاک پڑھتے دیکھ رہا تھا ، اور حیران تھا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہ کہتی تھیں ’’ یا اللہ خیر ہو یا اللہ خیر ہو ‘‘ اسی اثنا میں میرے ماموں خورشید اقبال جو کہ سکول ٹیچر تھے وہ گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں داخل ہونے کے بعد اپنے بالوں کو زور زور سے ںوچنے لگے اور اپنے سر کو دیوار سے ٹکرانے لگے ۔ میں سخت پریشان ہو گیا کہ یہ کیا ہو گیا ؟ مجھے فوری طور پر ہمارے گھر میں گزرا ہوا ایک سانحہ یاد آگیا جب میرے چھوٹے چچا کا قتل ناحق ہوا تھا ۔ اس وقت بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے میں آ ئے لیکن یہ عمل اس وقت ہماری خواتین کر رہی تھیں ۔
چچا بڑے حسین تھے کم عمر تھے میرے والد کے چھ بھائیوں میں انتہائی حسین اور یہ سانحے کا منظر میرے ذہن میں اٹکا ہوا تھا یا میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ کوئی بڑا سانحہ گزر گیا کیونکہ ہم اہل تشیع کے گھر میں رونا اور عزاداری کوئی نئی چیز نہیں لیکن ہر رونے اور عزاداری کے نتیجے میں ہر سال محرم میں ایک تابوت آ تا ہے اور اس تابوت کو پکڑ کر تھوڑی دیر گریہ و زاری ہوتی ہے اور وہ گریہ و زاری بہت ہی شدید ہوتی ہیں کیونکہ معصومین سے محبت ہمیں گھٹی میں ملتی ہے اور ہم اس کا اظہار محرم کے ایام میں کر لیتے ہیں لیکن یہ محرم کے دن بھی نہیں تھے ۔ میں بڑا حیران تھا کہ شاید ابھی تھوڑی دیر بعد کوئی خبر لے کر آ ئے گا کہ ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی سانحہ گزر گیا ، لیکن جب میرے مامو ں کو زبردستی پکڑ کر میرے کمزور نانا اور دیگر لوگوں نے پوچھا کیا ہوا َ ؟ تو ان کے منہ سے نکلا ’’ ظالموں نے اسے مار ڈالا، ظالموں نے اسے مار ڈالا اور بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی ہے ‘‘
یہ ایک بڑا عجیب و غریب بات تھی کیونکہ میں ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ واقف نہیں تھا چھوٹا تھا میری عمر زیادہ نہیں تھی چھ سات سال کی عمر میں زیادہ شور بھی نہیں ہوا کرتا لیکن اتنا اندازہ ضرور تھا کہ کچھ عرصہ پہلے میرے والد ہمارے چچا ہمارے ماموں کو جلوسوں میں جایا کرتے تھے اور پھر یہ جلوسوں کا سلسلہ اس وقت رکا جب ہمارے کچھ قریبی عزیز اور رشتہ دار گرفتار ہوئے کچھ سے ملاقات ہو پاتی کچھ کے متعلق یہ کہا جاتا کہ پتہ نہیں وہ کہاں ہیں اور کچھ کے متعلق یہ کہتے کہ ان کی زندگی کی دعائیں مانگو لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی کیا ملک کے وزیراعظم کو پھانسی لگائی جا سکتی ہے یہ ایک بڑی عجیب بات تھی اور یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی میت کو ایک طیارے میں رکھ کر ان کے گھر لاڑکانہ لے جایا گیا ہے ۔۔پھر کچھ خواتین آ سمان کی طرف ہر گزرتے ہوئے جہاز کو دیکھتی ہیں اور شاید یہی سمجھتی ہیں کہ یہ وہ بدقسمت طیارہ ہے جس میں بھٹو کی میت ہوگی مگر مگر وہ اس بات سے شاید ناواقف تھیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی میت نہیں تھی یہ پوری امت مسلمہ کی میت تھی ۔۔ دراصل امت مسلمہ وہ بدقسمت قوم ہے جب میں موجودہ حالات کو دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف ہمارے ایران جیسے دوست پر بم گر رہے ہیں دوسری طرف ایران اسلامی ملکوں پر میزائل چلا رہا ہے اور ایک بدمست بدبخت اور بد کردار شخص صیہونی ملک کے ساتھ مل کر بار بار دھمکیاں لگا رہا ہے اور اپنے کردار کی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے وہ دنیا کو تہہ و بالا کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔ تو ہمارے درمیان ایک ایسا شخص پیدا ہو گیا تھا لیکن وہ کیوں پیدا ہو گیا تھا کمزور قومیں تو ایسے بندے پیدا نہیں کیا کرتی ہیں کمزور قومیں تو غلام پیدا کرتی ہیں لیکن اس کو کیا ہوا تھا کہ یہ ملتان میں وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر سائنس دانوں سے کہتا تھا کہ مجھے ایک ایٹم بم بنا دو اسلامی دنیا سے کہتا تھا کہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرو تم ایک اسلامی بلاک بناؤ وہ شخص شیعہ و سنی اور عرب کے عجم کے جھگڑے مٹانے پہ تل گیا تھا ۔ وہ تاریخ کو نئے سرے سے رقم کرنا چاہ رہا تھا ۔
وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔ یہ کیوں زندہ ہے ؟ اس کو نہیں ہونا چاہیے اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک سازش تیار کی اور وہ بڑے بڑے کردار جن میں جناب شاہ فیصل اور دیگر کو پہلے قتل کروایا اور اس کے بعد ذولفقار علی بھٹو صاحب کو پھانسی لگوا دیا گیا اور پھانسی کس کے ہاتھوں لگا یہ سب جانتے ہیں لیکن شکر ہے خدا کا کہ اب وقت کی عدالت نے جس جھوٹے مقدمے میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کو ملوث کر کے مجرم قرار دیا تھا اب وہ عدالت اپنا جرم تسلیم کر رہی ہیں لیکن کیا جرم تسلیم کرنے سے ہمارا مسئلہ حل ہوا ہے نہیں ایران اور اس تنازع نے یہ بات بتا دی ہے کہ تم کمزور تھے تم کمزور ہو اور تم کمزور رہو گے کیا خوفناک بات ہے کہ جہاں پر بیٹھ کر کبھی اسلامی بلاک کی بات ہوئی تھی جن ملکوں نے اسلامی بلاک کو مضبوط کرنا تھا آ ج وہی آ پس میں دست بہ گریباں ہیں شاید اسی وجہ سے تو ذوالفقار علی بھٹو کو مار دیا گیا تھا کہ ایسا شخص ان میں کیوں پیدا ہو گیا ہے جو ہمارے مستقبل کے ارادوں کو ملیا میٹ کرنے پر تل گیا ہے۔۔
مجھے یاد ہے جب میں یونیورسٹی میں تھا تو میں نے ایک کتاب پڑھی تھی "اگر میں قتل کر دیا گیا ‘‘ اب وہ کتاب دستیاب نہیں ہے اس میں جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ "جب استعماری اور دنیا کی قوتوں کے درمیان اسلامی دنیا کو میں بغیر کسی ایٹمی قوت کے اور ایٹمی چھت کے دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ایک ہی چیز نظر آ تی ہے وہ ہے رسوائی اور مسلم امہ کی تباہی "واقعی اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ رسوائی اور تباہی کیا ہوگی کہ کئی ہزار میل سے آ یا ہوا دشمن ہمارے درمیان بیٹھ کر ہمیں تباہ کر رہا ہے اور جو ہمارے پاس تھے کسی کو ہم نے گولی مروا دی اور کسی کو ہم نے پھانسی لگا دی رہ گیا ہے رونا دھونا وہ ہمارے نصیب میں ہے ہم روتے رہیں گے شاید تاریخ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو تو واپس نہ کر سکے لیکن اس کے چھوڑے ہوئے افکار اب بھی زندہ ہیں جن کو ہم اکثر یہ کہہ کے مذاق میں اڑا دیتے ہیں چاہے مر گیا مگر بھٹو زندہ ہے بھٹو زندہ نہیں ہے بھٹو ہر اس سوچ میں زندہ ہے جو یہ چاہتا ہے کہ پاکستان ترقی کرے بھٹو ہر اس سوچ میں زندہ ہے جو چاہتا ہے اسلامی دنیا ترقی کرے لیکن کچھ کمزور لوگوں کو شاید اور تو کوئی بات سمجھ نہیں آ تی لیکن وہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ یہ کسی پیپلز پارٹی کی زندگی نہیں ہے یہ کسی ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کی جماعت کی زندگی نہیں ہے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کی سوچ اسلامی دنیا کی ترقی کی سوچ ہے یہ اسلامی دنیا کی ترقی کا نعرہ ہے کاش کہ ہم ذوالفقار علی بھٹو کے نام کے ساتھ وابستہ اس سوچ کو سمجھ سکیں اور ہم اپنے پاکستانی معاشرے اور اسلامی دنیا ایک بار متحد کر سکیں اور وہ خوفناک تباہی جو ہمارے دروازے پر دستک دے سکی ہے اس سے بچ سکیں۔ اسی کتاب میں بھٹو صاحب نے لکھا تھا کہ ” پی این اے کی بانجھ قیادت میں اتنا دم نہیں کہ وہ ایسی تحریک منظم کر سکیں اس کے پیچھے وہی ڈالر ہیں جو پاکستان کی سڑکوں پر بہہ رہے ہیں ، اس تحریک کے نتیجے میں امریکہ کو ایک غلام اسلامی دنیا ملے گی مجھے موت اور پی این اے کو حلوہ”
تو دیکھ لیں موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ
بھٹو اپنے افکار کے ساتھ زندہ ہے اور رہے گا ۔۔ غلام قوم میں پیدا ہونے والے بھٹو کے افکار کو کوئی سولی نہیں چڑھا سکتا

