ایک طرف ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات طے کرنے اور کسی مستقل امن معاہدہ پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کے شیڈول پر بات چیت و مواصلت کے آخری مراحل میں ہیں تو دوسری طرف اسرائل لبنان میں جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ آج ہی اس نے ایک تاریخی قلعے قلعۃ الشقیف پر قبضہ کرلیا۔ لبنان کی سرحد کے کئی کلو میٹر اندر یہ جنگی کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب اسرائیل، لبنان حکومت کے ساتھ جنگ بندی پر راضی ہوچکا ہے اور مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے۔
لبنان پر اسرائیلی کارروائی کا آغاز ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے چار دن بعد ہؤا تھا کیوں کہ حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہار یک جہتی دکھانے کے لیے اسرائیل پر چند میزائیل پھینکے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل فوج نے جنوبی لبنان کے خلاف مکمل عسکری کارروائی شروع کردی اور وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ پاکستان کی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے موقع پر تہران حکومت کا مطالبہ تھا کہ یہ جنگ بندی اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب تمام محاذوں پر جنگ بند کی جائے۔
اس مؤقف سے یہی مراد لی جاتی ہے جنگ محض ایران اور امریکہ کے درمیان ہی بند نہ ہو بلکہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں بھی بند کی جائیں۔
اسی ایرانی مطالبے کے بعد امریکہ نے دباؤ ڈال کر اسرائیل کو لبنان حکومت کے ساتھ 17 اپریل کو چھے ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کرنے پر آمادہ کیا تھا ۔ اس جنگ بندی میں بعد ازاں مزید چھے ہفتے کی توسیع کی جاچکی ہے۔اس کے باوجود اسرائیل نے اس ساری مدت میں لبنان کے خلاف جنگی کارروائی جاری رکھی ہے۔ شروع میں یہی دعویٰ کیاجاتا تھا کہ حزب اللہ کے حملوں کا جواب دینے کے لیے اسرائیل دفاعی کارروائی پر ’مجبور‘ ہے۔ لیکن اس کی فوج مسلسل جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتی رہی ہے اور آج اسرائیلی حکومت نے اسٹریٹیجک اہمیت کے قلعۃ الشقیف پر قبضہ کا فخریہ اعلان کرکے واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی لبنان کے خلاف جنگ بند نہیں کی تھی اور نہ ہی اسے جنگ بندی معاہدے کی اس خلاف ورزی پر کوئی شرمندگی ہے۔ حتی کہ امریکہ ،جس کے دباؤ میں اسرائیلی حکومت کو لبنان جنگ میں وقفے پر آمادہ ہونا پڑا تھا، بھی اس اسرائیلی جنگ جوئی کو مسترد نہیں کرتا ۔ حیرت ہے کہ واشنگٹن کس منہ سے پھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے۔ امریکہ نے کبھی اسرائیل کی منہ زور پالیسیوں کی مذمت نہیں کی اور خاص طور سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے نیتن یاہو حکومت کو غیر معمولی ڈھیل دے کر اسے مشرق وسطیٰ میں بے لگام طاقت کی حیثیت دے رکھی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا کا ہرملک جانتا ہے کہ اسرائیلی حکومت صرف امریکی دباؤ قبول کرتی ہے ۔ لیکن امریکہ کو صرف ایران کی جارحیت اور لاقانونیت دکھائی دیتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر تہران کی رجیم یوں تو سب محاذوں پر جنگ بند کرنے کو اہم قرار دیتی ہے اور اسلام آباد مذاکرات سے پہلے لبنان میں جنگ بند کرانے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔ اسی ایرانی مطالبے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ کو لبنان میں امن کی ضرورت پر آمادہ کیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ہونے والی پیش رفت میں لبنان میں اسرائیلی جارحیت پس پشت جاچکی ہے۔ ایران بڑی حد تک خود پر معاشی پابندیاں ختم کرانے، منجمد اثاثے حاصل کرنے اور جنگ میں فتح کے شادیانے بجانے کا موقع تلاش کرنے میں مصروف ہے ۔ اس ساری مدت میں حزب اللہ کو ایران کی حمایت پر ’سزا‘ دینے کے لیے اسرائیل کی جنگی کارروائیاں جاری رہی ہیں اور نیتن یاہو دھڑلے سے اعلان کرتے ہیں کہ وہ حزب اللہ کے مکمل خاتمے تک جنگ بند نہیں کریں گے۔ بدقسمتی سے اس جنگ میں حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصان کا تو کوئی دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آتا لیکن جنوبی لبنان میں درجنوں دیہات اور سینکڑوں مکانوں کو تہ خاک کیا جاچکا ہے۔ اسرائیلی فوج مزید لبنانی علاقوں کو خالی کرنے اور گھروں کو تباہ کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ار در بدر ہیں جبکہ 3300 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حزب اللہ کی عسکری طاقت ختم کرنے کے نام پر اسرائیلی فوج لبنانی شہریوں کی زندگی عذاب بنانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ تو امریکی ویٹو طاقت کی وجہ سے پہلے ہی اسرائیلی جارحیت کے سوال پر عضو معطل بن چکی ہے۔ البتہ قبل ازیں عرب ممالک اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے اپنا سفارتی اثر رسوخ استعمال کرتے تھے لیکن ایک طرف امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے اور دوسرے ایرانی حملوں کے باعث عرب ممالک اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن کے بارے میں نئے اندازے قائم کرنے اور خود اپنی حفاظت کا کوئی قابل اعتبار میکنزم تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں اسرائیل نے موقع غنیمت جان کر لبنان کے وسیع علاقوں کو زیر نگیں کرکے اپنے خیال میں اسرائیل کی سکیورٹی کا اہتمام کیا ہے۔ حالانکہ اسرائیل جس جارحانہ طرز عمل پر کاربند ہے، اس کی روشنی میں اس کے ساتھ امن کی خواہش کی بجائے نفرت اور غم و غصہ کے احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ ایک طرف ابراہم معاہدوں کے تحت زیادہ سے زیادہ مسلمان ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں اور اسے جائز ریاست ماننے پر مجبور کرناچاہتے ہیں لیکن ناجائز طور سے ہمسایہ ملک کو جارحیت کا نشانہ بنانے والے ملک کو اس غیر قانونی حرکتوں سے روکنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی لیے اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے ارادوں کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں جو ابراہم معاہدوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
اس پس منظر میں اسرائیل کا یہ مقصد تو واضح ہے کہ جس وقت امریکہ اور دنیا ایران کے ساتھ امن معاہدہ کی تفصیلات طے کرنے میں مصروف ہے، اسی دوران وہ لبنان کا زیادہ سے زیادہ علاقہ ہتھیا لینا چاہتا ہے۔ اور شام کی گولان پہاڑیوں کی طرح انہیں اسرائیل کی حفاظت کے لیےضروری قرار دے کر ان پر قابض رہنے کا اردہ رکھتا ہے۔ قلعۃ الشقیف پر قبضہ اسی اسرائیلی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔ تاہم یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟
اس بات کا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں۔ حالانکہ اگر ایران حزب اللہ ، حوثی اور حماس کی سرپرستی اور حمایت سے گریز کا اعلان کردے تو اسرائیل پر لبنان کے خلاف جنگ بند کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔ ایران کو اس حوالے سے اپنی پوزیشن جلد ہی واضح کرنا ہوگی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

