بیروت : فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں لبنان کے تاریخی بیفورٹ قلعے پر قبضے کے بعد انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
ژاں نویل بارو نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا: ’ہم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی ہے۔ اگرچہ ہم دیگر ممالک کی طرح اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہیں لیکن کوئی بھی چیز اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور لبنانی سرزمین میں مزید پیش قدمی کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔‘
انھوں نے لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی فوجی موجودگی میں توسیع پر تشویش کا اظہار کیا اور اس مسئلے کا سلامتی کونسل سے جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
یا رہے اسرائیلی وزیر دفاع نے آج اعلان کیا ہے کہ شقیف کے تاریخی اور تزویراتی قلعے (بیفورٹ) پر ان کی افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔
انھوں نے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا: ’بیفورٹ کی بہادرانہ جنگ کے 44 سال بعد اور اس دن جو پہلی لبنان جنگ (1982) میں مارے گئے فوجیوں کی یاد منایا جاتا ہے، ہماری افواج ایک بار پھر اس قلعے میں واپس آئیں اور اسرائیلی پرچم بلند کیا۔‘
یہ 900 سال پرانا قلعہ جنوبی لبنان کا وسیع منظر پیش کرتا ہے اور اسے عسکری لحاظ سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی اور جنگی اعتبار سے اہمیت کے حامل شقیف (بیوفورٹ) قلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے خلاف جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کاٹز نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں لکھا کہ ’بیوفورٹ کی تاریخی جنگ کے 44 سال بعد اور سنہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد کے دن، ہماری افواج ایک بار پھر اس قلعے میں داخل ہوئیں اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرایا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی ہدایات اور میرے احکامات کے تحت اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی، دریائے لیتانی عبور کیا اور بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا، جو الجلیل (گیلیل) کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم مقام ہے۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک تصویر میں اس کے فوجیوں کو اُس مقام کے قریب دکھایا گیا ہے جو بظاہر بیوفورٹ قلعہ معلوم ہوتا ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

