کوئٹہ : بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ اپیلیں انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں دونوں رہنماؤں کو سزا سنائی گئی تھی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سکیورٹی اہلکار جولائی 2024 میں ’بلوچ راجی مچی‘ نامی جلسے میں پتھر لگنے سے ہلاک ہوئے تھے۔
بی وائی سی کے دونوں رہنماؤں پر الزام تھا کہ ان کے اکسانے پر ایک ہجوم نے ایف سی کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار جان سے گیا۔
اپیل میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ ون کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ، شعیب ایڈووکیٹ اور نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
ان کے مطابق سیشن کورٹ گوادر نے اسی مقدمے میں استغاثہ کی پیش کردہ شہادتوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا، جبکہ انھی شہادتوں کی بنیاد پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والا ٹرائل قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ درخواست گزاروں کے اپنے وکلا موجود ہونے کے باوجود عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔
خالد خان بلوچ کے مطابق مبینہ غیر منصفانہ ٹرائل کے خلاف نہ صرف درخواست گزاروں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا بلکہ فیصلے سے قبل اس حوالے سے ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف اپیلوں پر ہائیکورٹ کے بینچ نے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ان کے مطابق سزا سنائے جانے سے قبل غیر منصفانہ ٹرائل اور جج کی تبدیلی کے لیے ایک آئینی درخواست بھی ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم وہ درخواست تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

