( گزشتہ سے پیوستہ )
"K” کے صفحے پر خلیل اللہ لابر سابق ایم پی اے جوچولستان میں بھٹک گئے اور پیاس کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ، خالدچوہان معروف آریکٹیٹ ، خورشید عباس گردیزی، اور پروفیسر خالد پرویز ادیب خاکہ نگار اور ماہر تعلیم کے نمبر محفوظ ہیں، مگر اب ان نمبروں پر کسی شناسا آواز کی امید نہیں رہی۔
اور جب "L” کے صفحے پر پہنچا تو پروفیسر لطیف الزمان خان ماہر غالبیات ، عبداللطیف اختر صحافی اور کئی دوسرے احباب کے نام سامنے آگئے۔
میری انڈیکس کا اگلا پڑاؤ ایم تھا۔جس میں پہلا نام نامور شاعر مبارک شاہ کا دیکھنے کو ملا۔پھر اس کے بعد مجید نظامی،منصورہ احمد ،ملک محمد عاشق نقاش،محسن بھوپالی،مفتی غلام مصطفی رضوی، منو بھائی،محمد علی واسطی،نامور شاعر مقبول قریشی ،پروفیسر محمود الحسن،سیاستدان ملک مظفر اعوان،مخدوم محمد راجو شاہ گردیزی سجادہ نشین حضرت شاہ یوسف گردیز،سمیت بہت سے ایسے نمبر دکھائی دیے جن کو ڈائل کیے ہوئے کئی برس بیت گئے۔
انڈیکس میں اگلی باری این کی تھی۔جس میں گلوکار نعیم الحسن ببلو ،ملتان کی متحرک ثقافتی ادبی شخصیت نعیم چوہدری کے نمبر دیکھ کر دل اداس ہو گیا۔
فون انڈیکس کو دیکھتے دیکھتے جب میں پی کے صفحے پر گیا۔دانشور اور ممتاز قانون دان پرویز آفتاب کا نام دیکھ کر بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔اسی طرح پیرزادہ عبد السعید کا نام پڑھتے ہی گلگشت میں ان کے گھر میں ہونے والی تقریبات یاد آگئیں۔
کیو کا صفحہ کھولا کہ سب سے پہلا نام برادرم قسور سعید مرزا کا دیکھا۔پھر روزنامہ قومی آواز کے آگے ایثار راعی صاحب کا نام لکھا ہوا تھا۔قرات کے حوالے سے ایک اہم نام قاری عبدالغفار نقشبندی،ملتان میں کرائم رپورٹر کے طور پر مشہور ہونے والے قاسم جعفری،محمد بن قاسم بلائنڈ سینٹر کے قائم کرمانی اور آخری نام ڈاکٹر قاضی عابد کا تھا۔ڈاکٹر قاضی عابد کے بارے میں کیا لکھوں کہ وہ جب اس دنیا سے گیے تو ان کے جانے کی عمر نہ تھی۔
آر کا صفحہ کھولتے ہی ہاتھ دل پر چلا گیا۔رانا اعجاز محمود، رحمان فراز، راشد سیال،راشد رحمان، ریاض حسین قریشی اور مولانا عبدالوحید ربانی کہ نمبر تو موجود ہیں۔ لیکن ان کو ڈائل نہیں کر سکتا تھا۔لیکن یاد کی نگری ان سے مکالمہ اکثر کرتی ہے۔ان تمام شخصیات پر میں نے طویل مضامین بھی لکھے۔
ایس کا سفر کھولتے ہی نامور شاعرہ ثمینہ راجہ، سابق ایم پی اے شیخ خلیل احمد،سابق ایم پی اے سلطان عالم ،سماجی رہنما شہنشاہ زیدی،سابق صوبائی وزیر میاں سعید احمد قریشی،استاد محترم شوکت مغل،جماعت اسلامی کے رہنما حافظ سعید انور اور بے شمار ایسے نام دکھائی دیے۔جن سے تقریبا ہر دوسرے دن رابطہ ہوتا تھا۔اور اب ان کی آواز سننے کی برسوں بھی تھے۔
ٹی کا صفحہ کھولتے ہی سرائیکی پارٹی کے تاج محمد لنگاہ کا نمبر نظر آیا۔ڈاکٹر طاہر تونسوی ،تنویر الحسن گیلانی کے نام دیکھ کر یاد کیا کہ میں ان تینوں احباب پر الگ الگ مضمون لکھ چکا ہوں۔
یو کے صفحے پر عمر علی خان بلوچ، عمر کمال خان کے نام دیکھ کر بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ کہ ان دونوں شخصیات نے ملتان کے ادبی ثقافتی اور سماجی رتبے کو بلند کرنے کے لیے بہت سا کام کیا۔
ڈبلیو کے صفحے پر ولی مظہر ایڈووکیٹ ،پاکستان میں فیبرک کلر متعارف کروانے والے وسیم وامق،وسیم بلال ایڈووکیٹ کے نام اور نمبر دیکھ کر خیال آیا۔کہ ان احباب سے مسلسل رابطے میں رہ کر زندگی کا احساس ہوتا تھا۔
وائی کا صفحہ دیکھ کر حکیم یزدانی قریشی ہاشمی اور یونس لعل دین مشن ہسپتال والے یاد آئے۔یہ دونوں احباب میری ہر غمی خوشی میں شریک ہوتے رہے۔
انڈکس کا آخری صفحہ زیڈ ہے۔ جس میں اج بھی ضیا شاہد ،پروفیسر صغری خاکوانی،ضمیر احمد قریشی ،کتاب دوست ضیاء الاسلام قریشی،ضیا شبنمی کے بارے میں کیا کہیں،کچھ لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔
مصور ،شاعر زوار حسین ،ماہر آثار قدیمہ، ادیب ،شاعر زبیر شفیع غوری کے نام دیکھ کر خیال آیا۔یہ جب یہاں موجود ہوتے تھے۔ان سے مکالمہ کرنے کا کتنا لطف آتا تھا۔
ایک عرصے بعد ٹیلی فون انڈیکس کھولی تو یادوں کی ایک ایسی البم سج گئی۔جس میں کہیں قہقہے ہیں تو کہیں آنسو۔
یہ انڈیکس سامنے رکھے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ اس انڈس کو صرف میں ہی کبھی کبھار کھولتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ میرے بیٹے نے کبھی اس انڈیکس کو کھولا بھی نہیں ہوگا۔اور یہ بھی یقین ہے کہ جب میں اس دنیا میں نہیں ہوں گا۔تو مجھ سے متعلق جو چیزیں سب سے پہلے ردی کی ٹوکری کا حصہ بنے گی اس میں یہ انڈیکس بھی شامل ہوگی۔جس طرح بوڑھے لوگ اس معاشرے میں اہستہ اہستہ ان فٹ ہو جاتے ہیں۔ متروک چیزوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ہم سے متعلق بہت سی چیزیں ایسی ہمارے جانے کے بعد پسماندگان کو ملیں گی۔ جن کے بارے میں ان کا حتمی فیصلہ یہ ہوگا کہ اس کو گھر سے نکالا جائے۔تاکہ ان کی جگہ پر کوئی اچھی چیزیں رکھی جا سکیں۔
آج ٹیلی فون انڈیکس دراز میں دوبارہ رکھتے ہوئے اچانک احساس ہوا کہ یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔
وقت نے ان میں سے بہت سوں کو ہم سے جدا کر دیا، مگر یہ پرانا فون انڈیکس آج بھی ان سب کی خاموش موجودگی کا گواہ ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ پرانے نمبر ڈائل کیے جائیں تو شاید دوسری طرف سے وہی مانوس آواز سنائی دے: "جی فرمائیے!” مگر حقیقت یہ ہے کہ اب یہ نمبر نہیں، صرف یادیں بجتی ہیں۔
فیس بک کمینٹ

