( گزشتہ سے پیوستہ ) "K” کے صفحے پر خلیل اللہ لابر سابق ایم پی اے جوچولستان میں بھٹک گئے اور پیاس کی وجہ سے جاں…
Browsing: شاکر حسین شاکر
یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔
یہ کتاب صرف روسی ادب کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شفاف اسلوبِ ترجمہ اور گہرے ادبی شعور سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ضرور خریدنی چاہیے۔ ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے اصل تخلیق اردو ہی میں لکھی گئی ہو۔
نیاز احمد نے جو کتب شائع کیں اس سے ان کتابوں کو نئے قاری ملے جو ایک عرصے سے الماریوں میں بند تھیں ان کے ایڈیشن ختم ہو چکے تھے۔ نیاز احمد نے ایسی بے شمار کتابوں سے مٹی جھاڑی، ان کو نئے انداز آسے شائع کیا جس سے ملک میں پبلشنگ کی دنیا میں انقلاب آیا۔ انہوں نے کتابوں سے عشق کیا اسی عشق نے ان کو لازوال شہرت عطا کی کہ نیاز احمد خود تو دس سال پہلے ہم سے جدا ہو گئے لیکن ان کی شائع کردہ کتب ان کی یادوں کو ہم سے محو نہیں ہونے دیتیں کہ بقول گلزار:
’’کتابیں جھانکتی ہیں اور نیاز احمد کتاب کے ہر ورق اور لفظ میں موجود ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اگر مجھے کسی نے ملنا ہو، یاد کرنا ہو، وہ کتابوں کا سنگ میل طے کرے اور مجھ سے ملاقات کر لے۔ مَیں ہر کتاب میں اپنے چاہنے والوں کو ملوں گا۔‘‘
ہمارے بچپن کی محبت میں ایک محبت حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے والد محترم کی دکان اندرون بوہڑ…
ملتان ٹی ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ ایک ورکشاپ کا انعقاد تھا۔وہاں سے فراغت کے بعد جب میں ارشد بخاری صاحب کے آفس میں حاضر ہوا۔تو…
دو ہفتے پہلے کی بات ہے۔ایک دوست کی والدہ کی تعزیت کے لیے اس کے کاسمیٹک سٹور پر گیا۔فاتحہ پڑھی۔پھر دنیا کے موضوعات کی طرف آ…
گزشتہ رات برادرم عقیل عباس جعفری کی وال سے ایک انتہائی افسوس ناک خبر پڑھ کریادوں کی البم سج گئی۔وہ خبر ڈاکٹر پرویز حیدر زیدی کے…
”جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ مجھے دیناج پورزیادہ پسند ہے کہ ملتان۔ تو میرے لیے جواب دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل مجھے…
ناہید نانو قریشی نےروزنامہ امروز ملتان کے خواتین کے ایڈیشن میں لکھنے کا آغاز کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان میں بہت کم لکھنے والیاں تھیں۔…
