”جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ مجھے دیناج پورزیادہ پسند ہے کہ ملتان۔
تو میرے لیے جواب دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل مجھے دونوں شہر بہت عزیز ہیں۔ دیناج پور میری جائے پیدائش ہے۔یہاں پر میرا بچپن گزرا، یہاں کی گلیوں میں میں نے چلنا سیکھا انسان کی اپنی پیدائشی شہر یا گاؤں سے محبت فطری عمل ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لہذا میں اب بھی دنیاج پور کی گلیاں اور ان گلیوں میں جن دوستوں کے ساتھ کھیلا تھا وہ سب مجھے اب بھی یاد آتے ہیں ۔
میں آج بھی انہیں نہیں بھلا پایا لیکن مجھے ملتان بھی بہت عزیز ہے۔ یہاں کے سبھی دوست میرے دل میں بستے ہیں۔ اب ملتان ہی میرا شہر ہے۔ دنیاج پور میں صرف میرا بچپن گزرا ہے ۔لیکن ملتان میرا لڑکپن ،جوانی اور اب میں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکا ہوں۔مجھے دنیاج پور میں رہنے کا موقع ملے تو میں وہاں پر زیادہ دن نہیں رہ پاؤں گا کہ مجھے وہاں پر ملتان کی یاد ستائے گی ۔اورایک بار مجھے دوبار واپس ملتان آنا پڑے گا۔“
یہ خوبصورت اقتباس میں نے اپنے ہمزاد اور ملتان میں میری ادبی دنیا کے پہلے دوست ،نامور مزاح نگار،انشائیہ نگار،نقاد اور بچوں کے معروف ادیب محمد اسلام تبسم کی تازہ کتاب ”میں نے بھی ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“سے لیا ہے۔
اسلام تبسم میرا اس زمانے کا دوست ہے ۔جب ہمیں دوستی کے مطلب کا بھی علم نہ تھا۔ لیکن دلوں میں خلوص بہت زیادہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسلام تبسم سے پہلی ملاقات کے لیے خونی بوج سے حرم گیٹ پیدل آیا ۔جبکہ اسلام تبسم مجھ سے ملنے کے لیے پرانا شجاع آباد روڈ سے سائیکل پر آیا۔وہ دن اور آج کا دن ،ہم میں کبھی نہ ختم ہونے والا تعلق قائم ہو گیا۔
اسلام تبسم نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے سے کیا۔اس کا مطالعہ ہم سب سے بہت بہتر ہے۔ اس لیے وہ ایک آل راؤنڈر کی طرح اس میدان میں آیا۔کبھی وہ مزاحیہ کہانیاں لکھتا۔تو کبھی وہ سندھی اور بنگلہ زبان کے ترجمے شروع کر دیتا۔انشائیہ ایسا لکھا کہ ڈاکٹر وزیر آغا اور انور سدید اس کے پہلے مداحین ٹھہرے۔اوراق سے لے کر قومی زبان،اور پاکستان کے ہر بڑے اخبارو جرائد اس کی تخلیقات ہمیشہ نمایاں جگہ پر شائع کرتے رہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کے سب ہی معترف ہیں۔اسلام تبسم پاکستان کی ادبی تاریخ میں پہلی مرتبہ انشائیہ کا سالانہ جائزہ لکھنا بھی شروع کیا۔جس کو ملکی اور عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی۔
محمد اسلام تبسم کے یوں تو چاہنے والوں کی تعداد یقینی طور پر ہزاروں میں ہے۔لیکن اگر ہم اس کے دوستوں کی اسم شماری کریں تو ہم دس سے زیادہ دوستوں کی فہرست نہ بنا سکیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مردم بیزار تو نہیں ہے لیکن شرمیلا بہت ہے۔اس کے سامنے سے اگر کوئی خوبصورت لڑکی گزر رہی ہو تو یہ سر جھکا کے اس کے برابر سے گزر جاتا ہے۔کہ اس کی یہ عادت بہت پرانی ہے۔اسی لیے رضی اس کو شرمیلا ٹیگور بھی کہتا ہے۔
میں نے اسلام تبسم کی نئی کتاب "میں نے بھی ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا”اس لیے غور سے پڑھی کہ اس سے قبل ہم اس سے بنگلہ دیش کے بارے میں بہت سی باتیں سن چکے تھے خود اس کی خوراک ،اس کے فیشن اور اس کی گفتگو میں بنگلہ دیش کی یادیں ہمہ وقت زندہ رہتی ہیں۔ اس لیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے احساس نہیں ہوا کہ ہم ایک نئے اسلام تبسم سے ملاقات کر رہے ہیں۔کیونکہ یہ وہی اسلام تبسم ہے، جو ہمیں گزشتہ چار عشروں سے مل رہا ہے۔ اس کے پہلے دن کے ملنے میں اور آج کی ملاقات میں کوئی فرق نہیں ۔وہی خلوص، وہی چاشنی اور گرم جوشی جو پہلے دن تھی آج بھی ویسے کی ویسے ہے ۔اس نے زندگی کو جیسا دیکھا ویسا ہی لکھ دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب جہاں پر بنگلہ دیش کی سیاست، تاریخ، ثقافت، مذہب اور ادب کو سامنے لاتی ہے وہاں پر اس کتاب کو ہم اسلام تبسم کی خود نوشت بھی کہہ سکتے ہیں اس کا انداز نگارش اتنا جی موہ لینے والا ہے کہ اس کتاب کو ایک نشست میں پڑھتے ہوئے اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ بلکہ بعض ابواب تو ایسے ہیں جن کو بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے میں سمجھتا ہوں اسلام تبسم نے جس اسلوب میں یہ کتاب لکھی ہے وہ اس سے قبل بنگلہ دیش کے بارے میں کسی کتاب میں نہیں ملتا اور اس کے ساتھ اس نے کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کا سانحہ کیوں ہوا؟ اور پھر جب یہ پاکستان آئے اور پاکستان آنے کے بعد جن مشکلات کاسامنا ان کے خاندان کو کرنا پڑا وہ بھی افسوسناک ہے. لیکن محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور آخر کا ر ان کے والد کو محکمہ ڈاک خانے میں دوبارہ نوکری مل گئی۔
میرے پیارے محمد اسلام تبسم کی پوری زندگی محنت سے عبارت ہے اور اس نے آج کے اس دور میں بھی انتہائی سادگی اور خلوص سے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ وقت گزارا اور آج بھی وہ گھر میں بیٹھا صرف کتاب کے ساتھ جی رہ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں زمانے کی کوئی چالاکی دکھائی نہیں دیتی وہ آج کے دور میں فرشتہ صفت انسان ہے۔ جس میں مجھے کوئی برائی نہیں دکھائی دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تحریر میں ایسی سچائی نظر آتی ہے ،جو اس کے ہم عصر لکھنے والوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ میں رضی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ اس کو مبارکباد بھی دیتا ہوں کہ اس نے اسلام تبسم کی یہ کتاب شائع کر کے بہت سے ایسے گوشوں کو سامنے لے آیا ہے۔ جو ہماری نظروں سے اوجھل تھے ۔کتاب گرد و پیش نے 800 روپے میں شائع کی ہے. جو کتاب نگر خاور سینٹر نصرت روڈ ملتان کینٹ پر بھی دستیاب ہے۔
فیس بک کمینٹ

