Browsing: ادب

ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔

-اگر میں قتل ہو جاتا اور لوگ یہ کہتے رہیں کہ یہ بے گناہ تھا تو مجھ مقتول کو اس سے کیا ملے گا. کیا خرافات ہے کہ مقتول کو انصاف ملنا چاہئے. مقتول کو انصاف مل ہی نہیں سکتا. قاتلوں کو مل سکتا ہے جو کہ زندہ ہیں (ص 202).
-میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میرا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب میں عام آدمی ہوتے ہوئے عام آدمی کی طرح سوچتا نہیں ہوں (ص 203).
-کافر مرنا اتنا جرم نہیں ہے جتنا شاید کافر جینا جرم ہے(ص 203).

دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔

جدوں جہاز تو لتھا تے شیروانی میرے ڈھڈ تے لش لش کردی پئی سی، میں ایمرجنسی لئی بریف کیس وچ دھوتی وی رکھی ہوئی سی۔ خیر میرے ایتھاں اپڑن دا ایہ مقصد وی سی جے قومی ترقی وچ دیگاں دی اہمیت تے چانن پاواں۔۔۔۔
مینوں دیگاں نال نکے ہوندیاں تو بڑا پریم سی، دیگاں گلی دی نکر تے پیاں ہوندیاں سی تے میں اُنہاں نوں ہلا ہلا کے سائنسی تجربے کردا رہندا سی۔

’’ زبان محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری تہذیب کی منتقلی ہے۔ رائے کے جملوں میں جو مزاح طنز اور داخلی تضاد ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا کبھی کبھی کٹھن مرحلہ بن جاتا۔ مثال کے طور پر جب وہ اپنی ماں کی سخت مزاجی کو طنز آمیز لہجے میں بیان کرتی ہیں تو اردو میں اس کا ترجمہ محض شکایت بہنے کا خطرہ رکھتا تھا۔ مجھے بار بار یہ دیکھنا پڑا کہ کہاں پر لفظوں کو سیدھا رکھوں اور کہاں پر ان میں چھپی ہوئی معنوی لہر کو کھول دوں ۔ ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم خود بھی مصنف کے ساتھ شریک تخلیق بن جاتا ہے ۔