Browsing: ادب

انہوں نے سیکڑوں طلبہ اور ادیبوں کی فکری تربیت کی۔ انہوں نے جابر علی سید، ڈاکٹر اسلم انصاری اور عاصی کرنالی جیسے اکابرین کی رفاقت میں رہ کر ادب کی جو شمع روشن کی، اس سے ان گنت شاگردوں نے فیض پایا۔وہ نام ور ماہر تعلیم ڈاکٹر وحید الرحمان خان اور توحید الرحمان خان کے والد تھے ۔۔

قم کو آپ نے اس نایاب کتب خانے کی بنیاد دی جہاں اس وقت 40 ہزار کے قریب خطی نسخے اور کتابیں موجود ہیں یہ کتاب خانہ نہ صرف علمی خزانے سے مالا مال ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی حیثیت کا حامل بھی ہے کیونکہ یہاں کئی ہزار سال پرانے خطی نسخے موجود ہیں جن سے آ ج بھی استفادہ کیا جا رہا ہے اگر دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قاہرہ اور ترکی کے کتب خانوں کے بعد اسلامی دنیا کا تیسرا بڑا کتب خانہ آ یت اللہ نجفی مرعشی کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے

جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔

ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔

-اگر میں قتل ہو جاتا اور لوگ یہ کہتے رہیں کہ یہ بے گناہ تھا تو مجھ مقتول کو اس سے کیا ملے گا. کیا خرافات ہے کہ مقتول کو انصاف ملنا چاہئے. مقتول کو انصاف مل ہی نہیں سکتا. قاتلوں کو مل سکتا ہے جو کہ زندہ ہیں (ص 202).
-میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میرا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب میں عام آدمی ہوتے ہوئے عام آدمی کی طرح سوچتا نہیں ہوں (ص 203).
-کافر مرنا اتنا جرم نہیں ہے جتنا شاید کافر جینا جرم ہے(ص 203).

دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔