میں نے 1963 سے 1967 تک چار سال ولایت حسین اسلامیہ کالج میں بطور طالبِ علم گزارے، اور اسی دوران نیشنل عوامی پارٹی کے کارکنوں سے بھی میرا تعارف ہوا، میں اس زمانے میں ’’ نیا مکتبہ ‘‘ جایا کرتا تھا۔ عطا اللہ ملک، جو ایک معروف اور بے خوف ترقی پسند رہنما تھے اور میرے دوست و شاعر عابد عمیق کے ماموں بھی تھے، اس دکان کے مالک، منتظم اور کارکن تھے۔
اسی مکتبہ پر ولادی میر لینن کی کتاب Three Components of Marxism، What Is to Be Done? اور ماؤ زے تنگ کی کتاب ریڈ بک Quotations from Chairman Mao Tse-tung (ریڈ بک) میرے لیے تحریک کا ذریعہ بنیں، مگر اصل تحریک معصوم محنت کش عوام کی ذاتی اور اجتماعی تکالیف تھیں۔ سوال یہ تھا کہ اب کہاں جاؤں ؟
ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی ، وہ دراصل ایک نہایت شفیق انسان تھے۔ کالج کے احاطے میں ہونے والی یہ بحثیں عمومی طور پر نصابی پالیسیوں کے برعکس ہوتی تھیں۔
ایک دن ایک بحث جھگڑے میں بدل گئی اور خان صاحب ناراض ہو گئے۔ چنانچہ مجھے ایک ماہ کے لیے کالج میں داخلے سے روک دیا گیا۔ مگر چند ہی روز بعد جب میں عام خاص باغ میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایک رکشہ مرکزی دروازے پر رکا اور خان صاحب اس میں سے اترے۔ احترام کی روایت ابھی زندہ تھی، اس لیے میرے تمام دوست وہاں سے اِدھر اُدھر ہو گئے۔خان صاحب نے میرا کندھا پکڑا، مجھے نواں شہر رکشے تک لے گئے اور کہا:
"سنو! میں نے علی گڑھ میں بہت سے باغی دیکھے ہیں۔ تمہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا… مگر میں نے حکم دے دیا ہے، تم کل سے دوبارہ کالج آ سکتے ہو۔”
فیس بک کمینٹ

