تہران : ایران کے متعدد سرکاری عہدیداروں، جن میں حکومتی ترجمان بھی شامل ہیں نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں ’مایوسی پھیلانے کے مترادف اور جھوٹی اطلاعات‘ قرار دیا ہے۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی، صدر پزشکیان کی حکومت کی اطلاعاتی کونسل کے ارکان الیاس حضرتی اور علی احمدنیا نے الگ الگ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں صدر کی مسلسل سرکاری سرگرمیوں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے ان کی کوششوں کا حوالہ دیا۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے اتوار کے روز متعدد ویڈیو رپورٹس جاری کیں، جن میں صدر مسعود پزشکیان کو مختلف داخلی تقریبات میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ان رپورٹس میں صحافیوں سے ان کی گفتگو بھی شامل ہے، جس میں انھوں نے سنہ 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ سمیت مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر اپنے فرائض معمول کے مطابق انجام دے رہے ہیں اور استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی خبر رساں ادارے ’ایران انٹرنیشنل‘ کی جانب سے سب سے پہلے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی گئی تھی کے ایرانی صدر نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حکومتی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد دُنیا بھر بشمول امریکی میڈیا کے متعدد خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس پر ایک بحث شروع ہو گئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

