صبح کا وقت تھا۔ شہر کے ایک مصروف پٹرول پمپ پر لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ لوگ گاڑیوں میں بیٹھے بے چینی سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک شخص نے جھنجھلا کر کہا، “جنگ کہیں بھی ہو، مار تو ہم جیسے لوگوں پر ہی پڑتی ہے…”۔ یہ جملہ محض ایک عام شہری کی شکایت نہیں بلکہ اس عالمی حقیقت کا عکس ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پندرہ روزہ جنگ بندی بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے، مگر اگر اس کے پس منظر میں جھانکا جائے تو کہانی کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ بندی کیوں ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اتنی شدت کے بعد اچانک یہ خاموشی کیوں چھا گئی؟
چند دن پہلے تک فضا میں سخت بیانات کی گونج تھی۔ امریکی قیادت، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، جس انداز میں ایران کو للکار رہے تھے، اس سے یہی تاثر مل رہا تھا کہ شاید ایک فیصلہ کن تصادم ناگزیر ہو چکا ہے۔ مگر پھر اچانک لہجہ بدلا، بیانات نرم پڑے، اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہو گئی۔ کیا یہ محض سفارتی چال ہے یا واقعی پسپائی؟
یہ ماننا مشکل ضرور ہے مگر حقیقت کے قریب یہی بات لگتی ہے کہ امریکہ نے اس بار ایک ایسے حریف کا سامنا کیا جسے وہ ماضی کی طرح آسانی سے زیر نہیں کر سکا۔ عراق اور افغانستان میں امریکی حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی، لیکن ایران کا معاملہ مختلف نکلا۔ یہاں نہ صرف جغرافیہ پیچیدہ ہے بلکہ حکمت عملی بھی روایتی نہیں۔
ایران نے براہِ راست محاذ پر لڑنے کے بجائے ایک وسیع دائرہ اختیار کیا۔ خطے میں اس کے اثر و رسوخ، اتحادی قوتوں، اور غیر روایتی حربوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ وہ جنگ نہیں تھی جس کے لیے امریکہ مکمل طور پر تیار تھا۔
اس سارے منظرنامے میں اسرائیل کی شمولیت کے باوجود کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی سطح پر یہ سوال ابھرنے لگا ہے کہ کیا واقعی طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟ یا پھر یہ محض ایک عارضی تاثر ہے؟
آبنائے ہرمز کا ذکر کیے بغیر یہ بحث ادھوری رہے گی۔ جب ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے کو بند کرنے کا عندیہ دیا گیا تو گویا دنیا کی نبض تھم سی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، عالمی منڈیاں لرز گئیں، اور ترقی پذیر ممالک ایک بار پھر مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے لگے۔
پاکستان میں بھی اس کے اثرات واضح محسوس کیے گئے۔ ملتان، کراچی یا لاہور—کہیں بھی چلے جائیں، عام آدمی کی گفتگو کا محور مہنگائی ہی ہے۔ آٹا، چینی، پٹرول—ہر چیز کی قیمت بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال کرنا فطری ہے: کیا اس جنگ بندی کے بعد حالات بہتر ہو جائیں گے؟
سچ یہ ہے کہ ایسا فوراً ممکن نہیں۔ عالمی معیشت کسی سوئچ کی طرح آن یا آف نہیں ہوتی۔ جنگ بندی وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر اعتماد کی بحالی، منڈیوں کا استحکام، اور قیمتوں میں کمی ایک طویل عمل ہے۔ اور پھر، اگر کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تو یہ سارا عمل الٹا بھی ہو سکتا ہے۔
اب آتے ہیں ایک نہایت اہم سوال کی طرف:
کیا اس صورتحال کے بعد ایران کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے گا؟
یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، مگر مغربی دنیا اس دعوے پر مکمل اعتماد نہیں کرتی۔ حالیہ کشیدگی میں ایران نے جس صبر اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے اس کی پوزیشن کو مضبوط ضرور کیا ہے۔
مگر دنیا صرف طاقت کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی—کم از کم بظاہر تو نہیں۔ کسی ملک کو ایٹمی طاقت تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے، سفارتی عمل، اور بڑی طاقتوں کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ فی الحال ایسا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا کہ ایران کو باضابطہ طور پر یہ حیثیت دے دی جائے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اب اس کے ساتھ بات چیت کا انداز پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
“یہ جنگ کسی نے جیتی نہیں، مگر سب ہارنے سے بچ گئے ہیں…”
اور یہی اصل کہانی ہے۔
آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے کہ یہ پندرہ دن کی جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے—سوچنے کا، اپنی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا، اور شاید اگلی چال کی تیاری کا۔ دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں امید بھی ہے اور خدشہ بھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ خاموشی واقعی امن میں بدلتی ہے یا پھر ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ بعض اوقات سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب سب کچھ بظاہر پر سکون نظر آرہا ہوتا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

