جب معروف قلمکار، شاعر اور ناشر رضی الدین رضی صاحب نے اپنے اشاعتی ادارے ” گردوپیش” سے چھپی کتاب ” عشق آباد سے اشک آباد” بطور تحفہ مجھے پیش کی اور چند دنوں بعد صاحب کتاب مہدی لغاری صاحب سے ڈاکٹر عباس برمانی صاحب نے ملاقات کرائی تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک باکمال مصنف کا ایک شاندار ناول پڑھنے جا رہا ہوں.
یہ ناول نہیں ایک جہان حیرت ہے جس میں ناول نگار قاری کی انگلی پکڑ کر پہلے پہل تو اسے عشق آباد کی گلیوں میں گھماتا ہے جہاں کی سب سے مشہور گلی سوہانی گلی ہے جو ایک پکھی واس خاندان کی لڑکی کے نام سے منسوب ہے جس سے سیٹھ ملی رام نے شادی کرکے اس کے لئے اس گلی میں ایک شاندار گھر تعمیر کیا جس کی ہر منزل پر ایک بارہ دری تھی اور گھر کی تین منزلیں تھیں.
اور پھر نہ سیٹھ زندہ رہا اور نہ ہی اس کے بعد سوہانی کیونکہ ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو گلی کے ہر مکان کو لوٹ لیا گیا اور سوہانی کو قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ اس سونے کا پتا نہیں بتا رہی تھی جو شاید اس کے پاس تھا ہی نہیں.
ایک روایت کے مطابق سوہانی کی روح اوپر والی سالخوردہ سنسان منزل پر اب بھی بھٹکتی ہے اور ہر سال وہ بدلہ لیتی ہے کسی نہ کسی بلوائی کی اولادوں سے اور ان کی اولادوں سے جو بلوائی تو نہ تھے پر چپ رہے تھے اس موقع پر جب بولنا ضروری تھا. سوہانی گلی والے مکان میں اس خوف سے بھی کوئی رہائش نہ رکھ سکا مستقل طور پر.
ناول کے ہیرو شرافت (شیری) کو یہ قصہ اس کی نانی ثمن نے سنایا تھا جو بقول رمضان موچی کے خود بھی پکھی واس خاندان سے آئی تھی اور جمن میراثی سے شادی کی تھی.
اور ایک بڑے خان بہادر تھے جن کے تصرف میں سوہانی کی حویلی تھی قبضہ کرنے کے بعد جو انہوں نے جمن میراثی اور ثمن کو دی تھی رہائش کے لئے اور بدلے میں ان کی بیٹی جنت حویلی میں کام کے لیے بھیج دی گئی تھی جو اسی گھر میں چھوٹے خان بہادر کے ساتھ بڑی ہوئی.
شرافت کی نانی شمن کا ماننا تھاکہ سوہانی کی روح اپنا بدلہ لے کر ایک دن صحراؤں میں نکل جائے گی.
یوں پھر ایک دن جمن میراثی سوہانی حویلی کی اوپری منزل سے گرکر مرا اور پھر جب شمن نے جنت کی شادی جھٹ پٹ جو نگل میراثی کے ساتھ کی تو شرافت کی پیدائش سے پہلے جونگل ایک دفعہ چھوٹے خان بہادر کے ساتھ شکار پر گیا تو سانپ کے ڈسنے سے چل بسا، یوں جنت پھر خان بہادر کے گھر آگئی.
اور پھر نانی شمن بھی گزر گئی اور شرافت کی ماں بھی جب شرافت خان بہادر کی کوٹھی میں پل کر جوان ہو چکا تھا اور ان کی مدد سے لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا.
عشق آباد میں خان بہادر کا منشی مرید حسین بھی ہے اور نتھو اور خیرا بھی ہیں جو شرافت کی آؤ بھگت تو بہت کرتے ہیں جب بھی وہ لاہور سے عشق آباد آتا ہے پر ساتھ ہی کچھ باتیں جانے انجانے میں ایسی بھی کر جاتے ہیں جو نہ صرف شرافت کا سکون برباد کر دیتی ہیں بلکہ اسے بہت کچھ سوچنے، سمجھنے اور اپنی پہچان کی تلاش پر مجبور کردیتی ہیں اور ان باتوں کا تعلق ہوتا ہے خان بہادرسے ، رمضان موچی سے اور جنت سے.
اور شرافت کا جب ان باتوں سے دم گھٹتا ہے تو وہ بس میں بیٹھ کر لاہور کو روانہ ہو جاتاہے جہاں سفینہ ہے جس کے لیے وہ شرافت نہیں شیری ہے یا پھر اس کی یونیورسٹی کے ہاسٹل کی زندگی ہے جس میں کینٹین کا ناشتہ اور کھانا ہے اور کینٹین کا چھوٹا منگو ہے.
ناول نگار قاری کی انگلی پکڑ کر کبھی نیو ہوسٹل میں تو کبھی لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر گھماتا ہے تو کبھی میانی صاحب کے قبرستان سے سنگیتا کے کوٹھے تک اور وہاں سے شبانہ کے گھر کی کوٹھڑی تک لے جاتا ہے جہاں ایک اور کہانی، ایک اور امتحان ،ایک اور مرگی اور پاگل پن کا دورہ اس کا منتظر ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی تلاش کا ایک سرا بھی.
اسے تلاش ہے ایک ایسے سوال کے جواب کی جو اس کی رگوں میں نشتر بن کر اتر رہا ہے اور اس کی روح کو کچوکے لگا رہا ہے اور اس کی یہ تلاش قاری کو بھی بےچینی اور تجسس میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ سوال ہے ہی ایسا.
سوال ہے اس کی اور اب ساتھ ہی سفینہ،کی بھی پہچان کا ،شناخت کا، میراث کا اور ولدیت کا.
اس تلاش کا کیا انجام ہوا یہ جاننے کے لیے تو آپ مہدی لغاری صاحب کےاس شاندار ناول کو پڑھئیے، ابھی تو اس میں سے کچھ اقتباسات آپ کے پیش نظر ہیں
– ضرورت مند تخلیق کاری میں بھی ضرورت مند پہلے اور تخلیق کار بعد میں ہوتا ہے(ص 26)
-مطلب ماں سے متعلق ہر چیز سکھ ہے (ص 28)
– یہ اتنے خود کفیل ہیں کہ کبھی ترقی کا خیال ہی نہیں آیا(ص 30).
– عورتیں جب بڑی ہو جاتی ہیں تو مرد ان کو بہت چھوٹے لگتے ہیں، بچوں جیسے (ص 43).
-عشق میں نیند نہیں آتی، انس میں آجاتی ہے (ص 43).
-محبوبہ بولتی ہے، ماں چپ رہتی ہے. جب محبوبہ چپ ہو جاتی ہے تو ماں بن جاتی ہے ( ص 44).
– بھاگ جانے کی بجائے بھاگ جاگنے کا انتظار نہ کر لیں(ص 50).
– لیکن محبت شہادت کے درجے پر فائز ہو چکی تھی اور غازیوں کو محبت کی جنگ میں کوئی منہ نہیں لگاتا (ص 50).
– ننگے سچ کی بے لباسی گناہگاروں کو توبہ نہیں کرنے دیتی، تو گنہگار جھوٹ کے تیشے لے کر پتھروں سے صنم تراشتے ہیں اور خود کو بخشوا کر ہی دم لیتے ہیں (ص 59).
– جیسے قوموں کی تاریخ ہوتی ہے ایسے ہی ہر فرد کی بھی ایک تاریخ ہوتی ہے، پر وہ ہماری عمروں سے بڑی ہوتی ہے، ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے اور ہمارے پیدا ہونے سے پہلے بھی موجود ہوتی ہے (ص 67).
– جو بات سمجھ نہ آئے تو عقیدت بہترین راستہ ہے اطمینان کا(ص 68).
-حالانکہ میں آدھا خود دار ہوں جیسے سبھی ہوتے ہیں، حالانکہ دنیا میں کوئی بھی مکمل خود دار نہیں ہو سکتا(ص 68).
-میں دوستوں کو جاتے ہوئے اور لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا(ص 69).
-لیکن سارے غلط برے تھوڑی لگتے ہیں(ص 75).
-تو ہوا یوں کہ لوگوں نے دریا کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا اور دریا نے یہ قبضہ واگزار کروایا (ص 77).
-انسانی شخصیت پیاز کے جیسی ہوتی ہے، اس کی پرتیں حسب ضرورت اتارا کریں ورنہ آخر میں کچھ نہیں بچے گا (ص 78).
– غریب اور کمزور لوگ محبت میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں جیسے بیماری میں (ص 82).
– جیسے راستہ گم ہو جائے تو ایک اور بھٹکا ہوا مسافر بھی رشتہ دار لگتا ہے (ص 89).
-پرانے یار ردالی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو تمھارے دکھ پتا ہوتے ہیں (ص 90).
– معاشرہ بڑا جسہ رکھنے والا ایک دیو ہے.. اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے (ص 96).
-سارے سچ اچھے نہیں ہوتے، ایسے سچ کا چھپا رہنا بعض اوقات ٹھیک رہتا ہے (ص 193)
– خدا کی دی ہوئی زندگی اور دنیاوی زندگی میں فرق کرنا سیکھو (ص 111).
-ویسے گھر میں کوئی اجنبی آگ بجھانے کی نیت سے بھی آئے تو برا لگتا ہے (ص 118).
-لوگوں کو مرنے کے بعد قبرستان میں دفن کر دیا جاتا ہے پر ان کی بچھائی ہوئی بساط ان کے مرنے کے بعد بھی ہر گھر میں ایک کہانی کی صورت میں زندہ رہتی ہے اور ستی ہونے سے انکار کر دیتی ہے (ص 125).
-جو ضروری ہوتا ہے وہ ہمیشہ اچھا تو نہیں ہوتا (ص 131).
-پاگل کر دینے کے لیے پہلے پاگل ہونا پڑتا ہے (ص 131).
-ایک عمر ہوتی ہے جس میں ہنسی اور آنسو بس بہانہ ڈھونڈ تے ہیں (ص 132).
-غریب آدمی کو اللہ خوبصورت بیوی اور بیٹی نہ دے، اس کے پاس رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہوتی(ص 140).
-جملے پکی دیوار پہ گولیوں کے نشان کی طرح ہوتے ہیں جو بارشوں سے نہیں دھلتے(ص 140).
-اس کا مطلب ہے مجھے گناہ نہیں احساس گناہ نے عذاب میں مبتلا کیا ہے، کیا یہی عذاب ہے جس میں گناہ گاروں کو گذارا جاتا ہے (ص 145).
– کتنی تھوڑی دیر لگاتا ہے احساس گناہ کا پودا بڑا ہو نے میں.. بانس جیسا ،اور محبت سکھ چین جیسی مہربان اور سست(ص 146).
-گناہ کیا ہے سکھایا جاتا ہے. گناہ کیا ہے بتایا جاتاہے. محبت سکھائی نہیں جاتی ہوجاتی ہے (ص 146).
-کیا ہر لمحہ ایک اور لمحے کی آبیاری کرنے کے لئے آتا ہے تو یہ وقت کا عنکبوت ہے. ہم سب اس میں پھنسے ہوئے ہیں اور تمام تر عقل و دانش کے دعووں کے باوجود انسان کو اتنا معمولی نکتہ سمجھ نہیں آتا (ص 150).
-یہ بہترین موقع ہے اپنے گناہ سے بھاگنے کاکہ کسی دوسرے کے گناہ میں گھس جاؤ(ص 153).
-کھو جاؤ تو رک جاؤ ورنہ مزید گم ہو جاؤ گے (ص 156).
-گھر نہ ہونے کا فائدہ ہوا کہ کم از کم میں لاپتہ نہیں ہوا(ص 158).
-پاگل ہونا بھی کتنا برا ہے اور پاگل ہونا بھی کتنا اچھا ہے(ص158).
-بے پروا ہونے سے بے نیاز ہونا اچھا لگتا ہے، لیکن بے نیاز ی میں رعونت ہے اور رعونت اکیلا کر دیتی ہے(ص 161).
– کہاں گم ہو جاتے ہو. محبت گم کر دیتی ہے انسان کو بھرے پرے شہر میں (س 165).
– بچے ماں پیدا کرتے ہیں جیسے ماں بچے پیدا کر تی ہے (ص 165).
-ادھوری بات اور مختصر جملے ،خوف اور خواہش کی کی خودکلامی ہوتی ہے ،جس میں سنے جانے کی خواہش اور سمجھے جانے کا خوف ہوتا ہے(ص 166).
-شیری تم فرائیڈ اور مارکس کو گڈ مڈ نہ کرو، خوشی پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں. خوشی دائمی نہیں ہو تی ایسے ہی محبت بھی دائمی نہیں ہو سکتی. جیسے خوش رہنا پڑتا ہے ایسے ہی محبوب رہنا پڑتا ہے(ص 168).
-بے طلب تعلیم پرا پیگنڈا ہوتی ہے (ص 171).
– ہیروز کبھی بھی زمان و مکان سے آزاد نہیں ہوتے. ہر زمانے کے اپنے ہیروز ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ دیو ہیکل بنتے جاتے ہیں.. بونے لوگوں کے ہیروز زیادہ دیو ہیکل ہوتے ہیں(ص 172).
– کمزور لمحوں اور مضبوط ارادوں سے ڈر لگتا ہے (ص 174).
-کیا پیاس میں پانی چرانا گناہ ہے (ص 179).
-صحیح کہتے ہیں کہ کچھ روحیں عالم بالا میں کبھی اکٹھے رہی ہوتی ہیں اور وہ زمین پر ملتی ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو مدتوں سے جانتے ہیں (ص 181).
– جواب ہمارے اندر ٹکڑوں میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں.. اور جب جڑ کرسامنے آتے ہیں تو ہم خود بھی ان سے پہلی بار جیسے مل رہے ہوں (ص 183).
-کچھ زندگی کے تجربے انسان کے ذاتی ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنا صرف اولیاء کا کام ہے. (ص 200).
-عام آدمی کو جتنا بتانے کی اجازت زمانہ دیتا ہے بس اتنا ہی بیان کر سکتا ہے.
( ص 200).
-اگر میں قتل ہو جاتا اور لوگ یہ کہتے رہیں کہ یہ بے گناہ تھا تو مجھ مقتول کو اس سے کیا ملے گا. کیا خرافات ہے کہ مقتول کو انصاف ملنا چاہئے. مقتول کو انصاف مل ہی نہیں سکتا. قاتلوں کو مل سکتا ہے جو کہ زندہ ہیں (ص 202).
-میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میرا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب میں عام آدمی ہوتے ہوئے عام آدمی کی طرح سوچتا نہیں ہوں (ص 203).
-کافر مرنا اتنا جرم نہیں ہے جتنا شاید کافر جینا جرم ہے(ص 203).
-خواب کیا ہوتے ہیں، حقیقت تو نہیں ہوتے نا، پر حقیقت اتنی معمولی ہو تو خواب اچھے لگتے ہیں (ص 207).
-کیا کم نسل ہی گناہگار ہوتے ہیں شیری یا گناہ کرنے والے کم نسل ہو جاتے ہیں(ص208).
-جو ڈرتے ہیں وہ پھر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں (ص 218).
-گناہ کرنے والوں کو چوکس رہنا پڑتا ہے(ص 219).
-گناہگار ی کے ماضی قبرستانوں کی طرف کھینچتے ہیں، زندگی سے گفتگو کرو تا کہ تمھیں ہنسنا آئے (ص227).
-حسن اور محبت کی پناہ گاہ میں صرف عقیدت دیکھی جاتی ہے، ہم ایک دوسرے کی پناہ میں ہیں، تم حسن کی پناہ میں ہو اور میں محبت کی. یہاں نام و نسب نہیں پوچھے جاتے (ص 228).
– مجھے ایسے جوابوں نے بیمار کیا جو میرے سوالوں کا جواب تھے ہی نہیں. میں نے انسانی سوال کئے اور مجھے سماجی جواب ملے(ص 228).
-دکھنے کا لطف دیکھنے میں کہاں (ص228).
-میرا جسم ہی تو ہے جوصرف میرا ہے ،میرا خوف تو لوگوں کا دیا ہوا ہے، وہ تم نے پہلے دیکھا، جو خدا نے عطا کیا وہ بعد میں(ص 230).
-تم مسافر کی مانند سوچتے ہو اور میں سرائے کی مانند سوچتی ہوں (ص 231).
-صرف مرجانے کے خوف سے زندگی نہیں بچائی جاتی، خوش ہونے کا نام بھی زندگی بچانا ہے، مطمئن ہونے کا نام بھی زندگی بچانا ہے، دیکھو نا تمھیں مرنے کا خوف نہیں پرکھے جانے کا خوف ہے (ص 232).
-روشنی سے آئے ہو اس لئے اندھیرے میں دیکھنے کو کچھ وقت لگے گا (ص 233).
-لوگ لوگوں جیسا دیکھنا چاہتے ہیں، جو لوگ لوگوں جیسا نہیں دکھتے تو دیکھنے والے یا تو ڈر جاتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں (ص 235).
– ان کو تین خصوصیات عطا ہوئی ہیں، یہ پوجا کرتے ہیں، خوف کی ،مال کی، اور جنس کی، اور ان میں سے جس کی پوجا یہ نہیں کرتے اس سے نفرت کرتے ہیں، غیر جانبدار یہ رہ ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کو غیر جانبدار ی عطا ہی نہیں ہوئی (ص235).
-انفرادی گناہگار اجتماعی صالح بن جاتے ہیں… انفرادی جاہل اجتماعی عالم بن جاتے ہیں (ص 235).
-اور میں اجازت چاہوں گا اور دور جاکر مڑوں گا اور بلند آواز اعلان کروں گا… تمام دکھ ہے. (ص 243).
فیس بک کمینٹ

