1967 میں پیدا ہونے والے وجے پرشاد ایک ہندوستانی مارکسی مورخ، صحافی، سیاسی مبصر، اور ایڈیٹر ہیں۔ وہ ٹرائی کانٹینینٹل انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اشاعتی ادارے لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر، گلوب ٹروٹر میں رائٹنگ فیلو اور چیف نامہ نگار، نیز چین کے چونگ یانگ انسٹی ٹیوٹ فار فنانشل اسٹڈیز کی رینمن یونیورسٹی میں سینئر نان ریذیڈنٹ فیلو ہیں۔ وجے پرشاد سرمایہ داری، نوآبادیاتی نظام، خود مرکزیت پر مبنی امریکی استثنا پسندی کے ناقد ہیں۔ ہم عصر اہل دانش میں مغربی سامراج پر تنقید اور کمیونزم اور گلوبل ساؤتھ کی حمایت کرنے والوں میں وجے پرشاد نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
*** ***
حالیہ عرصے میں جس طرح ایران نے ڈٹ کر اہل مغرب کا مقابلہ کیا ہے، اس سے سابق نوآبادیاتی ممالک میں ایران کی قدر و قیمت میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل ایران میں اس اعتماد کا سرچشمہ کہاں ہے؟
ایران پر مسلط کردہ غیر قانونی امریکی اسرائیل جنگ کے کچھ بدترین دنوں کے دوران، میں ان ایرانی دوستوں سے بات کر رہا تھا جو شہری علاقوں پر ہونے والی بمباری کی زد میں تھے۔ ان میں سے کچھ اسکالر ہیں، کچھ شاعر اور فنکار، کچھ حکومت میں کام کرتے ہیں، کچھ مختلف قسم کے اداروں میں۔ یہ سب افراد، ایرانی حکومت کے بارے میں اپنے خیالات سے قطع نظر، جارحیت کے خلاف مزاحمت میں یک زبان اور غیر متزلزل تھے۔ کسی ایک شخص نے بھی محسوس نہیں کیا کہ ان کی دنیا خطرے میں ہے۔ وہ ثابت قدم رہے، ان کی ہمت ایرانی تہذیب کی توانائی میں بے پناہ ایقان سے پھوٹ رہی تھی۔
مارکسی اور قومی آزادی کی فکر میں ’تہذیب‘ کے تصور کی ایک بہت پیچیدہ تاریخ رہی ہے۔ کلاسیکی مارکسزم ’تہذیب‘ کے تصور کو مسترد کرتا تھا، کیونکہ تہذیب ایک مفروضہ ثقافتی یکسانیت کے کمبل تلے طبقاتی تقسیم کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے طبقاتی جدوجہد کی ضرورت کی نفی کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن تاریخی ارتقا میں مارکسزم عالمی فاشسٹ مخالف جنگ کے بعد کی عظیم نوآبادیاتی جدوجہد میں ایک اہم فکری کردار اختیار کر گیا اور اس کے نتیجے میں ’تہذیب‘ کا تصور ایک مختلف معنی کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوا۔ سامراج کے خلاف ثقافتی جدوجہد میں تہذیب محض ایک جامد طبقاتی تقسیم کی بجائے قومی تسلسل نیز طبقاتی استحصال کے خلاف سیاسی جدوجہد کے اخلاقی میں ایک قیمتی اثاثہ بن کر ابھری۔ تاہم تہذیب کے تصور کی اس بحالی کو ایک ایسی آزاد حکمت عملی کے زاویے سے مرتب کرنا تھا جو خود اس تہذیب کے اندر موجود ناگزیر طور پر موجود رجعتی ورثے سے انحراف کے لیے تیار ہو۔
مثال کے طور پر، چین کے معاملے میں، ماؤزے تنگ نے چینی مارکسزم کا ایک ایسا امتزاج تیار کیا جو قبل از انقلاب کی چینی روایت کے بدترین اجزا ورثے مثلاً کنفیوشس کی فکر کے مطابق انسانوں میں درجہ بندی، نیز صنفی امتیاز کے استرداد پر اصرار کرتا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے ’چینی کی قومی آزادی کی لڑائی میں‘ چینی تہذیب اور حب الوطنی ’کو طبقاتی جدوجہد اور نظریاتی تبدیلی کے ہتھیار کے طور پر اپنایا۔
ایرانی انقلاب ( 1978۔ 1979) کی بنیاد متنوع سیاسی قوتوں نے رکھی تھی۔ جن میں مارکسسٹ بھی شامل تھے، ان میں سے بہت سے افراد بعد ازاں قائم ہونے والی ’اسلامی جمہوریہ‘ کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بن کر مارے گئے۔ زیر عتاب ہونے کے باوجود ’اسلامی جمہوریہ‘ کے فکری ڈھانچے میں بہت سے مارکسی تصورات بھی راہ پا گئے۔ اس کی بنیادی وجہ بہت سے مارکسی دانشوروں کا کام تھا۔ ان میں احسان طبری (1917۔ 1989)، جلال آل احمد (1923۔ 1969)، علی شریعتی (1933۔ 1977)، بیژن جَزنی (1938۔ 1975)، اور خسرو گلسرخی (1944۔ 1974) شامل تھے۔ میں چاہتا تھا کہ ان مفکریں کے بارے میں مزید کچھ لکھا جائے لیکن وہ تو بذات خود ایک مکمل کتاب کا مضمون ہو گا۔ ان اہل دانش میں خسرو گلسرخی سب سے زیدہ متاثر کن تھے جنہں بھری جوانی میں قتل کیا گیا۔ انہں نے اپنے بوکھلائے ہوئے جج سے کہا تھا،
”میں اپنے بیان کا آغاز مولا علی کے کے ایک قول سے کرتا ہوں، جو مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے ایک عظیم شہید ہیں۔ میں ایک مارکسسٹ۔ لیننسٹ ہوں، میں نے سب سے پہلے اسلام کے مکتب میں سماجی انصاف کی تلاش کی، اور وہاں سے سوشلزم تک پہنچا۔ میں اس عدالت میں اپنی جان کا سودا نہیں کروں گا، ایک طویل عمر کے بدلے میں نہیں۔ میں ایران کے جنگجو عوام کی جدوجہد اور محرومیوں کا ایک معمولی سا قطرہ ہوں۔ ہاں، میں اپنی زندگی کا سودا نہیں کروں گا، کیونکہ میں لڑنے والے اور بہادر لوگوں کا بچہ ہوں۔ میں نے اپنی بات کا آغاز اسلام سے کیا۔ ایران میں حقیقی اسلام نے ہمیشہ ایران کی آزادی کی تحریکوں کا قرض چکایا ہے۔ سید عبداللہ بہبہانی، شیخ محمد خیابانی، ان تحریکوں کے حقیقی نمونے ہیں۔ اور آج بھی حقیقی اسلام ایران کی قومی آزادی کی تحریکوں کا قرض چکا رہا ہے۔ جب مارکس کہتا ہے کہ“ طبقاتی معاشرے میں ایک طرف دولت جمع ہوتی ہے اور دوسری طرف غربت، بھوک اور بدحالی، جب کہ دولت پیدا کرنے والے خود محروم ہوتے ہیں ”، اور مولا (امام) علی کہتے ہیں،“ کوئی محل اس وقت تک نہیں بنتا جب تک ہزاروں غریب نہ ہوں ”، ان دونوں بیانات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس طرح، کوئی بھی تاریخ کے پہلے سوشلسٹ کے طور پر مولا [امام] علی کا نام لے سکتا ہے، اور اسی طرح سلمان فارسی اور ابوذر غفاری کے اسما بھی۔
انقلاب کے وقت تک، ایرانی بایاں بازو۔ فدائین گوریلوں، کمیونسٹ تودے پارٹی اور اسلامی انقلابی مجاہدین میں بٹا ہوا تھا۔ یہ لوگ سمجھ چکے تھے کہ وہ مذہبی قوتوں کے بغیر شاہ کا تختہ الٹ نہیں سکتے۔ لیکن وہ ایرانی معاشرے بالخصوص محنت کش طبقے کے مقابلے میں علما کی طاقت کا درست اندازہ نہیں لگا سکے۔ اندازے کی اس غلطی نے ایک سال کے اندر ایرانی انقلاب کو اسلامی جمہوریہ میں بدل دیا۔ پھر بھی ایک عام ملائیت کے قیام کی بجائے، انقلاب کے بعد کے ایران نے ایک بہت پرانی تہذیبی وراثت پر توجہ مرکوز کی، جو سائرس اعظم ( 559۔ 530 BCE) اور اخمانشی سلطنت (c۔ 550۔ 330 BCE) کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایران میں شیعہ عقائد کی بطور ریاست آمد سے تقریباً دو ہزار سال قبل یہی پرانی تہذیبی وراثت ہے ایرانی معاشرے میں بنیادی کردار ادا کرتی تھی، جو اسے اندرونی اختلافات کو جذب کرنے اور خودمختاری کے دفاع کی بنیاد کے طور پر خوفناک بحران کے وقت ایک گہری تاریخی جواز سے رجوع کرنے کے قابل بناتی تھی۔ 1971 میں، شاہ نے سائرس دی گریٹ کے بعد سے 2500 سال کی مسلسل تہذیب کا جشن منانے کے لیے پرسیپولیس میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا۔ بعد ازاں، 1980 سے 1988 تک ایران پر عراق کی جارحیت کی جنگ کے دوران، جب صدام حسین نے اس تنازعے کو فارس کے خلاف عربوں کی جنگ قرار دینے کی کوشش کی، تو اسلامی جمہوریہ نے اس فریم ورک کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ یہ ایک ’وطن کا دفاع‘ ہے، ’ایسے وطن کا دفاع جسے کبھی کسی نے فتح نہیں کیا اور جو کبھی کسی کا مطیع نہیں رہا۔ عوام کو ہر قیمت پر وطن کا دفاع کرنا چاہیے‘ ۔
ان لوگوں کے لیے جو نوآبادیاتی معاشروں سے تعلق نہیں رکھتے، ’وطن کے دفاع‘ اور ’تہذیبی وراثت‘ جیسے بیانات کی طاقت کو سمجھنا مشکل ہے۔ نوآبادیاتی نظام نے ان گنت سماجی تشکیلات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ استعمار دولت چوری کرتا ہے اور اسے اجنبی لوگوں کی ترقی کے لیے غیر زمینوں پر صرف کرتا ہے۔ یہ نوآبادیاتی لوگوں کی آبائی ثقافتوں کی تذلیل کرتا ہے اور اکثر مقامی آبادیوں کی اپنی زبانوں اور ان کے اپنے تاریخی تشخص سے انکار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نقشے پر جنوبی منطقوں میں بسنے والے بہت سے لوگ حیران ہیں کہ ایران نے امریکہ سے ٹکر لینے کی جرات کی ہے اور تزویراتی سطح پر موجودہ تنازع میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان لوگوں کے لیے جو قدیم ورثے کو مسخ کرنے کی تاریخ کو تسلیم کر چکے ہیں، چین یا ایران جیسے ان معاشروں میں نظر آنے والے وقار کا مشاہدہ کرنا حیران کن ہے، جہاں فریب نظری سے (ماضی کی دست ساختہ تخلیق کے ذریعے) یا ثقافت کے اجنبی مظاہر پر فخر کرنے کی روایت کمزور ہے۔ چین یا ایران جیسے معاشروں میں نوآبادیاتی تجربہ قدیم ثقافت کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا چنانچہ ایسے معاشرے میں تہذیبی روایت کی مکمل تباہی کا فقدان انہیں مغرب کے دام فریب میں الجھنے کی بجائے اپنی تاریخ کے اظہار کا موقع دیتا ہے۔ اور اپنی تہذیبی روایت کی تعمیر نو کی خواہش برقرار رکھتا ہے۔ استعمار دھوکہ دہی سے اپنی نوآبادیوں کی تہذیب اور ثقافت کو مسترد بھی کرتا ہے اور ان کی تضحیک بھی کرتا ہے۔ ان منفی اثرات کی عدم موجودگی میں ایران جیسے ممالک امریکہ کی تباہ کن طاقت کا وقار کے ساتھ سامنا کرتے ہیں اور ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کے کھوکھلے اور تحقیر آمیز لیگو میمز کا جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔
دسمبر 1997 میں، اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) نے تہران اعلامیہ جاری کیا، جس نے ’تہذیبوں کے مکالمے‘ کے خیال کو آگے بڑھایا۔ یہ اعلامیہ سیموئل ہنٹنگٹن کے 1993 کے مضمون اور 1996 کی کتاب The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order کا براہ راست جواب تھا۔ فارن افیئرز میں شائع ہونے والے اس ابتدائی مضمون میں ہنٹنگٹن نے پیش گوئی کی تھی کہ ’تہذیبوں کے درمیان تصادم جدید دنیا میں تنازعات کے ارتقا کا تازہ ترین مرحلہ ہو گا‘ ۔ ہنٹنگٹن کے لیے، تاریخ نظریات کے تصادم (کمیونزم بمقابلہ سرمایہ داری) سے تہذیبوں کے تصادم کی طرف چلی گئی تھی (جس کی اس نے مذہبی ثقافتی اصطلاحات میں ’مغربی، کنفیوشس، جاپانی، اسلامی، ہندو، سلاوی آرتھوڈوکس، لاطینی امریکی، اور ممکنہ طور پر افریقی تہذیب‘ کے طور پر تعریف کی تھی) ۔ ہنٹنگٹن نے خبردار کیا کہ نئی فالٹ لائنز ان محوروں کے گرد کھینچی جائیں گی۔ او آئی سی نے متنبہ کیا کہ دنیا کو دیکھنے کا یہ طریقہ بیان کردہ ممکنہ تنازع روکنے کی بجائے اسے پیدا کر سکتا ہے۔ چنانچہ اور یہ کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کا انتظار کرنے کے بجائے ان کا مکالمہ کرنا بہتر ہو گا۔
تہران اعلامیہ نے اقوام متحدہ میں تو توجہ حاصل کی لیکن مغربی دارالحکومتوں کے ایوانوں میں نہیں، جہاں 2001 سے پہلے کی دہشت گردی مخالف بیان بازی مزید زور پکڑ گئی۔ اسلام کے خلاف نفرت انگیزی معمول بن گئی اور یہ تیزی سے تارکین وطن سے منسلک ہو گئی۔ ایک دوہرا خوف جو یورپ اور امریکہ کو مفلوج کر رہا ہے۔ 1998 میں، اقوام متحدہ نے 2001 کو تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا سال قرار دیا، اور 15 اکتوبر سے 3 نومبر 2001 تک پیرس میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کی 31 ویں جنرل کانفرنس میں ایرانی فلسفی اور سفارت کار احمد جلالی کو صدر منتخب کیا گیا، ایران کے صدر سید محمد خاتمی کو اجلاس سے خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔ یہ کانفرنس ستمبر میں امریکہ پر حملوں اور دہشت گردی مخالف جنگ کے تسلسل میں افغانستان پر امریکی حملے کے ایک ماہ بعد منعقد ہوئی۔ خاتمی کا خطاب پراثر رہا ہے، انہوں نے دنیا کو ’جھوٹی سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم‘ کے خلاف متنبہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی ”اندھی عدم برداشت اور وحشیانہ طاقت کے درمیان ناپاک اتحاد کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ایک واہمے کو مضبوط کرنا ہے جو اپنے تمام تر پروپیگنڈے کے علیٰ الرغم اجتماعی لاشعور میں موجود زہر آلود مواد کو بڑھاوا دینے کے سوا کچھ نہیں“ ۔
خاتمی نے کہا کہ کسی دہشت گرد حملے کا بدترین ردعمل اس کا بدلہ لینا ہے۔ ”انتقام نمکین پانی کی طرح ہے جو پانی کی طرح نظر ضرور آتا ہے لیکن پیاس بجھانے کی بجائے اسے مزید بڑھکاتا ہے اور دنیا کو تشدد، نفرت اور انتقام کے دائمی منجدھار میں پھنسا دیتا ہے“ ۔ خاتمی نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کی بنیادی ضرورت مکالمہ ہے ’۔
مکالمے کا مطالبہ اہم اور ضروری ہے کیونکہ متبادل ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ایک طرف سرمایہ داری عدم مساوات کو گہرا کر کے ہمارے سیارے کی تباہی کا سامان کرتی ہے تو دوسری طرف سامراج جنگیں مسلط کر کے معاشروں کو ملیامیٹ کرتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ انسانی آزادی کا راستہ تہذیب یا مکالمے سے برآمد نہیں ہو گا۔ اس کے لیے بتدریج طبقاتی جدوجہد کو تیز کرنا ہو گا، انسانی ضروریات کو مادی عدم مساوات اور طاقت کے رشتوں پر ترجیح دینا ہو گی۔ اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی کی بجائے ہماری پیچیدہ مقدرات کے تقاضے پورے کرنے کے لیے عالمی نظام بدلنا ہو گا۔
کارلوس گٹیریز کروز ( 1897۔ 1930) نے انقلاب میکسیکو کے بعد ابھرنے والے ادبی دھاروں کے درمیان اپنی شاعرانہ حسیات کی تشکیل کی۔ وہ سیاسی طور پر محب وطن گروہ سے منسلک تھا لیکن بعد ازاں زیادہ دوٹوک موقف اپنانے کے باعث اس نے اپنے راستے جدا کر لیے۔ 1923 میں، اس نے اپنی تصنیف ’محنت کش کیسے سوچتے ہیں (How the Plebs Think) میں حوزے جوآن تبلاڈا ( 1871۔ 1945) سے منسوب صنف سخن ہائیکو کو مارکسی ادبیات کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ کارلوس گٹیریز کروز سمجھ چکے تھے کہ اگر اگر محنت کشوں عوام کو اس سے کچھ حاصل نہ ہو تو‘ قوم کا دفاع ’ایک بے معنی نعرہ ہے۔ ہم یہاں یہی نکتہ دہرانا چاہتے ہیں۔ کسی تہذیب کا دفاع ایک تجرید کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کا کوئی مطلب ہے تو تہذیب کا دفاع تاریخ بنانے والوں کے زندہ ریکارڈ کے طور پر کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ گٹیریز کروز اپنے ایک ہائیکو میں کہا تھا۔
اے دہقان تیرے بوئے ایک دانے سے زمین سو دانے پیدا کرتی ہے
لیکن تیرے اگائے ہوئے سو دانوں میں سے تجھے صرف ایک دانہ نصیب ہوتا ہے۔
(مترجم: وجاہت مسعود)

