خواتین و حضرات بھائی الہ دین غیر سیاح بلکہ کالے سیاہ کے بارے میں تو آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ ان کی سیاحت کے قصے سن سن کر ابھی کل ہی ابن بطوطہ ہمراہ واسکوڈی گاما ان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہہ گئے ہیں کہ یا استاد سیاحت کے قصے سناتے ہوئے ذ را ہتھ ہولا رکھا کرو۔ آگے سے بھائی الہ دین اتنے بھولے ہیں کہ آپ واسکوڈی گاما کو گامے پہلوان کا رشتے دار سمجھتے ہوئے بار بار اس سے لسی پانی کا پوچھتے رہے۔ ان کے بارے میں دشمن نے یہ ہوائی بھی درست ہی اڑائی تھی کہ آپ شرافت اور حماقت کے اس سنگم پر تشریف فرما ہیں کہ جہاں عقل واجبی بھی قدم رکھنے سے پہلے غسلِ صحت کرنا لازم سمجھتی ہے۔جناب اب آپ خود بتائیں اتنے بڑے اعزاز کے لیے جناب کی ایک تعریف تو بنتی ہے نا ۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ درست، لیکن ابھی ابھی بھائی الہ دین غیر سیاح بلکہ کالے سیاہ کے بارے میں ملا ہد ہد نے انکشاف فرمایا ہے کہ خوف خدا کے واسطے آپ کبھی کبھار سچ بھی کہہ سن لیتے تھے۔ ملا ہدہد کے اس بیان کی توضیح و توسیع خواجہ کے گواہ ڈڈو ڈڈو مطلب ملا کھد بد نے بھی کر دی ہے۔اس لیے اب مندرجہ ذیل واقعہ کو درست اور صحیح مانا جائے ۔تو صاحبان و صاحبات، بھائی الہ دین غیر سیاح بلکہ کالے سیاہ فرماتے ہیں کہ کرنا خدا کا یوں ہوا کہ ایک دفعہ میں شہرِ ناپرساں سے چلتے چلتے، جانے کیسے اندھیر نگری چوپٹ راج میں داخل ہو گیا۔ وہاں میں نے اک عجب تماشا دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ شہر کا ہر چھوٹا بڑا، مرد و زن، پیر و جوان، اپنے سر پر جوتا اور ہونٹوں پر انگلی دھرے، دبے پاؤں کچھ اس خوف سے چل رہا تھا کہ جیسے کہیں سویا ہوا فتنہ جاگ نہ جائے۔ شہر کے یہ پراسرار حالات دیکھ کر مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ تجسس نے سر اٹھایا دل میں وسوسہ آیا کہ آخر اندھیر نگری چوپٹ راج پر ایسی کیا افتاد آن پڑی ہے کہ جوتے پاؤں کی زینت بننے کے بجائے سر کی دستار بن گئے ہیں؟ معلوم کرنا چاہیے کہ شہر والوں نے سروں پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی کیوں رکھی ہے۔
چنانچہ اب میں اس کھوج میں لگ گیا کہ کسی خرد مند سے اس کا سبب پوچھا جائے۔یہاں بھائی الہ دین غیر سیاح بلکہ کالے سیاہ کف افسوس ملتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے شہر میں پھرتے ہوئے صبح سے شام ہو گئی لیکن اس چوپٹ راج میں مجھے کوئی خرد مند نظر آیا نہ ملا۔ اس سے پہلے کہ مایوس ہو جاتا کہ میری نظر ایک ایسے شخص پر جا پڑی جو کہ لباس بے ہودہ پہنے بڑے تفاخر سے چلا آ رہا تھا۔پوچھنے پر ایک مرد ضعیف نے بتلایا کہ اس کی خرد مندی کا تو معلوم نہیں البتہ شاہ کا مصاحب ہے اس لیے اکثر اتراتا نظر آتا ہے۔ چنانچہ میں نے دل پہ پتھر رکھتے ہوئے اسے روک لیا۔ پھر بڑی عاجزی سے پوچھا اے مرد دانا اے دانش کے پیکر! شہر کا شہر سر پہ جوتے رکھے پھر رہا ہے کچھ بتا تو سہی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ پہلے تو اس نے مجھے سر سے پاؤں تک حیرت بھری نظروں سے دیکھا پھر عجیب سے لہجے میں بولا۔نواں آیاں ایں سوہنیا؟
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اس نے کمال مہربانی سے جوتے اتروا کر میرے سر پر فکس کیے اور بازو سے پکڑ کر مجھے شہر کے دوسرے کونے میں لے گیا۔ وہاں ایک بڑی سی عمارت کے پاتال میں کھڑے ہو کر پہلے پہل تو اس نے حاکم وقت کی شان میں اک قصیدہ ، دو رباعیاں اور ایک شعر پڑھا پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا یہ سب انہی کا ویژن و کمال ہے اتنے میں اسے یاد آیا کہ میں نے اس کے اشعار سنانے پر واہ واہ نہیں کیا تھا۔ یہ سوچ آتے ہی وہ مجھے حکم دیتے ہوئے بولا کہ ‘بے وقت کی راگنی’ ہی سہی، مگر میرے سنائے ہوئے اشعار کی تعریف و توصیف کا غلغلہ بلند کر۔ چنانچہ جب میں زبردستی کی واہ واہ کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کی بھی تحسین کر چکا تو پھر وہ پیکر بے دانش فخریہ انداز میں بولا، اے اجنبی ہر چند کہ شکل سے تم نرے چغد لگتے ہو ۔ پھر بھی کہے دیتا ہوں کہ یہ سب ہمارے حاکمِ اعلیٰ کا ویژن ہے!۔ اس پر میں اس کے کان میں چپکے سے بولا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن مجھے وچلی بات بتا۔۔میری بات سن کر اس نے بڑی احتیاط اور محتاط نظروں سے چاروں اور دیکھا۔پھر میرے کان میں اپنا منہ گھساتے ہوئے بولا۔۔۔۔سن اجنبی! ہمارے ہاں آقائے ولی نعمت کے نائب سجادہ نشین صاحب تشریف لائے ہیں۔ وہ پڑوسی ملک کے کسی عہدیدار کے ساتھ شہر کی سب سے اونچی عمارت کی پچاسویں منزل کی چھت پر میٹنگ کر رہے ہیں۔ کہیں بڑے صاحب کے عالی مرتبت کانوں میں ہمارے قدموں کی چاپ یا گفتگو کا شور شرابہ نہ پہنچ جائے، اس لیے پورے شہر کو حکم ہے کہ سر پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چلا جائے ۔اتنا کہہ کر وہ بڑے تفاخر سے میری طرف دیکھ کے بولا۔ آفٹر آل ایسے موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ موقع ملے کدی کدی ۔
دانش مند کی بات سن کر میں نے بہ وزنِ چھوٹا کدو ایک سرد آہ بھری۔ پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بے ساختہ پکار اٹھا غلامی میں اسیروں کی یہی خاص ادا ہے۔ اتنا کہہ کر میں نے خواہ مخواہ ہی دانت نکالتے ہوئے سر تسلیم خم کر دیا۔ میری یہ اطاعت گزاری دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا پھر نہال ہوتے ہوئے بولا چلو کہ تمہیں شہر کے دانشمندوں سے ملاتا ہوں۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر قریب ہی ایک کنونشن سینٹر لے گیا۔ وہاں جا کر میں نے ایک اور عجب نظارہ دیکھا کہ دانشمندان شہر سر پہ جوتے باندھے کوئی بریانی پہ ٹوٹا پڑا ہے۔ تو کسی کا سر کڑاہی میں تھا۔پیکر بے دانش نے میرے سامنے گرما گرم سموسوں اور چاشنی میں ڈوبے گلاب جامنوں کا ڈھیر لگا دیا۔ایک ساتھ اتنے سموسے اور گلاب جامن دیکھ کر میری نیت اور پیٹ میں جنگ چھڑ گئی۔ چنانچہ جلدی میں جو جو چیزیں میرے حلق سے اتر سکتی تھیں وہ تو میں نے وہیں کھڑے کھلوتے پیٹ کی نذر کر دیں۔ اور جو چیزیں باقی بچ گئیں انہیں پیکر بے دانش سے نظریں بچا کر جیب میں ٹھونسا شروع کر دیا۔ کہ آفٹر آل (ہمیں بھی) موقع ملے کدی کدی۔
فیس بک کمینٹ

