Browsing: شاہد مجید جعفری

پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ تھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیا گیا لنک کھولیں

پٹرول کا تذکرہ سنتے ہی مولانا بڑے ہی جاہ و جلال سے گرجے۔ عزیزم! یہی تو وہ روحانی نکتہ ہے جو تم جیسے کم عقل نہیں سمجھتے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے لوگ پیدل چلیں گے۔ سانس پھولے گا تو زبان پر بے اختیار یا اللہ! میری سچی توبہ! کا ورد جاری ہوگا۔ حکومت تمہیں سڑکوں پر ذکرِ الہیٰ میں مشغول دیکھنا چاہتی ہے

ہمارے قدموں کی چاپ یا گفتگو کا شور شرابہ نہ پہنچ جائے، اس لیے پورے شہر کو حکم ہے کہ سر پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چلا جائے ۔اتنا کہہ کر وہ بڑے تفاخر سے میری طرف دیکھ کے بولا۔ آفٹر آل ایسے موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ موقع ملے کدی کدی ۔

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔