مولانا اکڑ بکڑ نے اپنی اس غیر متزلزل داڑھی پہ ہاتھ پھیرا ۔جس کی ہریالی میں سرکاری کھاد کا بہت بڑا حصہ تھا ۔ پھر ایک ایسا خوف ناک ہنکارا بھرا جسے سن کر اونگھتے ہوئے حاضرین مجلس ہڑبڑا کر واپس حالت ایمان میں آ گئے۔ آپ نے ایک نگاہ مجمعے پر ڈالی پھر حلق کی گہرائیوں سے آواز برآمد کرتے ہوئے بولے، الحمدللہ! ایسی خوشحالی تو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھی تھی۔
مولانا کی یاوہ گوئی سنتے ہی ( غصے سے) میرے کان لال ہو گئے۔ میں نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ کیا بات کر رہے ہیں مولانا؟ ۔اس مہنگائی نے تو ہماری مت مار رکھی ہے۔ ہمارا پرس صرف شناختی کارڈ رکھنے کے کام آتا ہے۔ نقدی تو کب کی اڑن چھو ہو چکی ۔ اس سے پہلے کہ میں مزید کچھ کہتا، مولوی ہدہد نے میری بائیں پسلی میں ایسے زور کا ٹہوکا دیا کہ درد کی شدت سے میں کہنے ہی والا تھا کہ مولوی تیری تو۔۔۔۔۔ لیکن اس کا موقع دئیے بغیر ہی وہ سرگوشی میں بولا ۔ جان پیاری ہے تو خاموش رہو۔ کہ مملکت اندھیر نگری کی طرف سے انہیں اسی کام پر مامور کیا گیا ہے۔ جوابا” میں نے بھی ان کے کان میں پھس پھس کرتے ہوئے کہا۔ بے شک اکڑ بکڑ صاحب اس کام پہ مامور ہوں گے۔ پر جھوٹ بول کر ہمیں تو نہ ماموں بنائیں۔
میری پھس پھس سن کر مولوی ہدہد برا سا منہ بناتے ہوئے ( آہستہ سے) بولے۔ ہوش کر بیٹا! حضرت کی پہنچ بہت اوپر تک ہے اور تیری پہنچ تو سپاہی کے پائنچے تک بھی نہیں۔ میں نے ملا کی اس بات پر غور کیا پھر اکڑ بکڑ کی طرف دیکھا ان کی جسمانی ساخت و پرداخت کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ ولیمے کا آدھا کھانا تو موصوف اکیلے ہی کھاتے ہوں گے۔ان کی شکل سے پتہ چل رہا تھا کہ آپ سرکاری سانڈ ہیں ۔ میں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان کا حلیہ مبارک دیکھا پھر ایک نظر اپنے پاپی وجود پر ڈالی تو اندر سے آواز آئی پاپی پاپی۔پاپی چولو۔ ناچار میں وہیں دبک کر بیٹھ گیا۔کہ رسم دنیا بھی تھی موقع بھی تھا اور دستور تو تھا ہی تھا۔
اس دوران مولانا اکڑ بکڑ نے اپنی داڑھی کے چند باغی بالوں کی سرزنش کی جو خلاف شرع ادھر ادھر بھٹکتے پھر رہے تھے۔ پھر مجھ کو تاڑتے ہوئے بولے۔ بھئی! مہنگائی تو اللہ کی نعمت ہے۔ ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے قوم ترقی کر رہی ہے۔ پھر حاضرین مجلسِ کو گھورتے ہوئے کہنے لگے۔ دوستو شاید تم لوگ اعداد و شمار کی برکت سے محروم ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی۔ پہلے جو چیز سو روپے کلو بکتی تھی۔ آج وہی چیز آٹھ سو روپے کلو بک رہی ہے۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ چیزوں کی قدر و قیمت میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے؟ پھر وجد میں آ کر جھومتے ہوئے بولے۔ اسے کہتے ہیں ترقی! حضور والا کی برکت سے ہم اونچی اڑان میں ہیں۔ مولوی ہدہد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے توضیح و توصیف کے چند جملے کہے۔میں نے غور کیا تو وہ مولانا کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بڑی خاموشی سے ( ان کی) پلیٹ میں پڑے لوازمات بھی اڑا رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پسلیوں میں ایک اور ٹہوکا رسید کر دیا جس کا مطلب تھا واہ واہ کرو ورنہ حوالات کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی چپکے سے لوازمات والی پلیٹ میں ہاتھ ڈالا۔ پھر کافی سارے میوہ جات مٹھی میں دابتے ہوئے بہ آواز بلند بولا۔ حضور والا کا علامہ اقبال بلند ہو۔ اتنے میں اک شخص نے کہا مولانا! اس حساب سے تو پٹرول کی قیمتیں ہمیں عرشِ بریں تک لے جائیں گی؟
پٹرول کا تذکرہ سنتے ہی مولانا بڑے ہی جاہ و جلال سے گرجے۔ عزیزم! یہی تو وہ روحانی نکتہ ہے جو تم جیسے کم عقل نہیں سمجھتے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے لوگ پیدل چلیں گے۔ سانس پھولے گا تو زبان پر بے اختیار یا اللہ! میری سچی توبہ! کا ورد جاری ہوگا۔ حکومت تمہیں سڑکوں پر ذکرِ الہیٰ میں مشغول دیکھنا چاہتی ہے اور تم ناشکرے احتجاج کی بابت سوچ رہے ہو؟ یاد رہے کہ ایسے شر پسندوں کے لیے ویگو ڈالے تیار کھڑے ہیں۔ اسی دوران مجمے میں سے ایک لاغر آدمی نے ہمت مرداں کرتے ہوئے پوچھا۔مولانا! آٹے کا تھیلا تو اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
مولانا نے بڑی ہی سنجیدگی سے اس نحیف آدمی کی طرف دیکھا پھر لہک لہک کر فرمانے لگے ۔ اکڑ بکڑ بمبے بو۔۔۔اسی نوے پورے سو۔ بھئی سادہ سی بات ہے۔ یہ آٹے کا بحران نہیں بلکہ عوام کے لئے حکومت کا ‘فٹنس پروگرام’ ہے۔ زیادہ روٹیاں توڑو گے تو توند نکل آئے گی جس کی وجہ سے تم معیشت کا بوجھ نہیں اٹھا پاؤ گے۔ جبکہ سرکار چاہتی ہے کہ تم اتنے دبلے ہو جاؤ کہ تمہاری پسلیاں بھی گنی جا سکیں۔تا کہ انہیں دکھا اور گنوا کر ہمیں امداد لینے میں آسانی ہو۔ پھر مجمعے پر اک گہری نظر ڈالتے ہوئے بولے۔اور میں جلد ہی یہ کام ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ پھر اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا حضور والا کا اقبال بلند ہو۔
ہدہد نے مکرر تحسین بلند کی اور اپنا ہاتھ پلیٹ کی طرف بڑھاتے ہوئے آہستہ سے کہنے لگا ۔ دیکھا! کس قدر وزنی استدلال ہے۔ ماموں بننے میں ہی عافیت ہے۔پھر ڈرائی فروٹ سے بھرا ہاتھ جیب میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے چپ چاپ ماموں بن جا ورنہ تم ‘مامور’ بندوں کے حوالے کر دیئے جاؤ گے۔یہ سنتے ہی میں نے لمبی آہ بھرتے ہوئے مولانا سے کہا حضرت! آپ کی منطق تو ‘یوریا کھاد’ سے بھی زیادہ تیز نکلی۔ اتنی گروتھ تو شاید خود معیشت کی بھی نہیں ہوئی جتنی آپ کی باتوں سے میری عقل کی ہو رہی ہے۔ بس دعا کریں کہ یہ خوشحالی ہمیں زندہ رہنے کی مہلت دے دے۔
مولانا نے نسوار کا ایک بڑا سا چونڈا اپنے منہ میں ایسے دبایا۔ جیسے حکومت بجٹ خسارے کو چھپایا کرتی ہے۔ اور کہنے لگے میاں! جب پیٹ خالی ہوتا ہے تو دماغ میں ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے خواب زیادہ صاف نظر آتے ہیں۔ میں نے اسی وقت اپنا تربوز نما سر ہلاتے ہوئے سوچا کہ اس ‘خوشحالی’ سے بچنے کے لیے کسی ‘ناخوشحال’ ملک کا ویزا ہی کام آ سکتا ہے۔ حضور والا کا اقبالِ جرم بلند ہو!
فیس بک کمینٹ

