آج سے 13 سال قبل 9 مئی 2013 کو ملتان کی تاریخ کا ایسا دن تھا جب پورا شہر خصوصاً گیلانی ہاؤس سوگوار اور شہید غلام مصطفی محی الدین بھٹہ اور ایک گن مین کے گھر قیامت صغریٰ کا سماں تھا کیونکہ 9 مئی 2013 کو ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہوا تھا جسے تا دیر فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
ا س واقعہ میں ہمارے نوجوان سیاستدان رکن صوبائی اسمبلی موجودہ چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سید علی حیدر گیلانی کو اسلحہ کے زور پر نہ صرف اغوا کیا گیا بلکہ اس سانحہ میں ان کے دو ساتھیوں کو جائے وقوع پر شہید بھی کیا گیا
میں ملتان کا پہلا صحافی تھا جو سب سے پہلے جائے وقوعہ متی تل روڈ نزد کھاد فیکٹری پہنچا ۔ علی حیدر گیلانی کو تو اغوا کار لےجا چکے تھے مگر اہل علاقہ وہاں موجود تھے میں نے بہت سے احباب کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا زمین پر دو شہداء کا خون موجود تھا ۔کچھ ہی لمحات کے بعد جب سید علی حیدر گیلانی کے دو بھائی موجودہ ایم این اے سید عبدالقادر گیلانی اور اور ایم این اے سید علی موسی گیلانی جائے وقوعہ پر پہنچے تو ماحول بہت جذباتی ہوگیا ۔ دونوں بھائیوں نے دو قیمتی جانوں کی شہادتوں پر دکھ کا اظہار کیا۔ دونوں بھائی زار و قطار رو رہے تھے اور اس وقت کی فضا ان کے قابو اور بس میں نہیں تھی۔ پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود تھی ۔ چند لمحات کے بعد میڈیا ٹیمیں جائے وقوعہ پر آ کر آنکھوں دیکھا حال ریکارڈ کر رہی تھیں جائے وقوعہ پر میری جب سئنیر فوٹو جرنلسٹ حاجی نوبہار نیاز سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ جس گھر میں پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ تھی اس کے سامنے گراسی پلاٹ میں اغوا کار سید علی حیدر گیلانی کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی سید علی حیدر گیلانی گھر سے پانی پیتے ہوئے باہر نکلے تو اغواء کاروں نے ان کا گریبان پکڑ لیا اس دوران شہید غلام مصطفی محی الدین بھٹہ، سید علی حیدر گیلانی کے سامنے دیوار بن گئے اور بلند آواز سے کہا کہ میں اپنے سائیں کو نہیں لےجانے دوں گا غلام مصطفی محی الدین بھٹہ ایڈووکیٹ شہید نے اس روز بوسکی کی قمیض اور سفید شلوار پہن رکھی تھیں جو علی حیدر گیلانی کو بچانے کے لئے ان سے لپٹ گئے تھے اغوا کاروں نے سب سے پہلے شہید کو پسٹل کا بٹ مارا پھر پیٹ میں گولیاں برسائیں تو آنتیں باہر نکل آئیں اور آخر کار اغواء کاروں نے شہید پر 16 گولیاں برسائیں اور آخری گولی منہ کے اندر ماری۔اسی طرح گارڈ کیونکہ نہتا تھا اس نے بھی علی حیدر گیلانی کو بچانے کی کوشش کی مگر اغوا کاروں نے ایسے بھی موقع پر ہی شہید کر دیا ۔
سید علی حیدر گیلانی کیونکہ انتخابی مہم پر تھے اس لئے انہوں نے پہلے ہی گارڈ کا اسلحہ گاڑی میں رکھوا دیا تھا ان دو شہادتوں اور سید علی حیدر گیلانی کے اغواء کے بعد پورے علاقے میں کہرام برپا ہو گیا یہاں تک کہ خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں ۔
یہ کیونکہ ملتان کی تاریخ کا انوکھا اور دل خراش واقعہ تھا اس لئے جائے وقوعہ اور پھر گیلانی ہاؤس پر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئی۔ جائے وقوعہ کے بعد ہم گیلانی ہاؤس پہنچے اس واقعہ کی الیکٹرانک میڈیا نے بریکنگ نیوز جبکہ اگلے روز تمام قومی اور علاقائی اخبارات نے یہ خبر ہیڈ لائین کے ساتھ شائع کی اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دن مجھے درگاہ حضرت موسی پاک شہید کے سجادہ نشین مخدوم محمد وجاہت حسین گیلانی نے اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور کہا کہ میں سید یوسف رضا گیلانی سے کہوں کہ وہ دربار حضرت موسی پاک شہید پر جائیں اور سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کے لیے دعا فرمائیں چنانچہ ایسا ہی ہوا جب سید یوسف رضا گیلانی میڈیا ٹیموں کے ہمراہ دربار حضرت موسی پاک شہید پر گئے اور اللہ کے حضور دعا کی تو چند ہی دنوں بعد علی حیدر گیلانی کا افغانستان سے ڈاکٹر جاوید صدیقی کے نمبر پر ٹیلی فون آیا اس وقت سید یوسف رضا گیلانی جلال پور پیر والا میں ایک قل خوانی میں موجود تھے ان کے ایک طرف علامہ مظہر سعید کاظمی اور دوسری طرف مخدوم شاہ محمود حسین قریشی موجود تھے سید یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں شخصیات سے سید علی حیدر گیلانی کی بات کرائی اور پھر حکومت پاکستان کے خصوصی طیارہ کے ذریعے سید علی حیدر گیلانی کو پاکستان لایا گیا۔ بہرحال سید علی حیدر گیلانی 9 مئی 2013 کو اغواء ہوئے اور 9 مئی 2015 کو بازیاب ہو ئے۔ اس دوران اس واقعہ کے بعد اخبارات میں نمایاں طور پر خبریں اور کلر ایڈیشن بھی شائع کئے گئے۔ اس واقعہ کے ٹھیک ایک سال بعد 9 مئی 2014 کو سئنیر صحافی چیف ایگزیکٹو جناب ضیاء شاہد مرحوم نے میری تحریر پر مشتمل روزنامہ خبریں کا کلر ایڈیشن قومی سطع پر شائع کیا ۔ الحمداللہ میں گزشتہ 13 سال سے سید علی حیدر گیلانی کو اغوا ہونے سے بچانے کی کوششیں میں شہید ہونے والے نوجوان قانونی مشیر پیپلز پارٹی ملتان شہر کے سئنیر نائب صدر نذر محی الدین بھٹہ کے بھائی شہید غلام مصطفی محی الدین بھٹہ ایڈووکیٹ کی یادوں کے حوالے سے ایک مضمون لکھتا ہوں جو اب چیف ایڈیٹر روزنامہ افتاب گروپ جناب اسد ممتاز کی زیر نگرانی گزشتہ کئی سالوں سے روزنامہ آفتاب ملتان میں نما نمایاں طور پر شائع ہوتا ہے اس اشاعت کا وعدہ میں نے شہید کی والدہ محترمہ سے پہلی ملاقات میں کیا تھا جو ہماری بھی والدہ ہیں۔۔
آپ اس دکھیاری ماں کو دیکھیں جو ہر برسی کے موقع پر شہید کے کپڑوں کو بکس سے نکال کر سینے سے لگاتی ہیں اور ان کو سینے سے لگا کر آنسوؤ ں کا خراج عقیدت پیش کرتی ہیں پھر جب ماں جی سید علی حیدر گیلانی کو گلے لگاتی ہیں تو ان میں سے بیٹے کی خوشبو کو محسوس کرکے صبر اور سکون محسوس کرتی ہیں ماں جی اس وقت علیل ہیں اللّٰہ تعالیٰ انہیں مکمل صحت کاملہ عطا فرمائیں اور ان کا سایہ بچوں پر تا دیر قائم رکھیں
اصل میں 2013 کے الیکشن میں بندہ ناچیز خبریں اخبار میں کام کرتا تھا سید علی حیدر گیلانی سے انتخابی مہم کے حوالے سے روزانہ صبح سات بجے موبائل فون پر بات ہوتی تھی چنانچہ وقوعہ کے روز بھی یہ روایت بر قرار رہی اغوا کے حوالے سے ٹیلی فون کالز کو جب پولیس اور مختلف سیکورٹی اداروں کی جانب سے ٹریس کیا جانے لگا تو مختلف سیکورٹی اداروں نے بندہ ناچیز سے بھی سوالات کیے مگر الحمدللہ صحافی ہوتے ہوئے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
اگر ہم سید علی حیدر گیلانی کے اغوا کا جائزہ لیں تو آپ کی واپسی بھی کسی معجزے سے کم نہیں تھی بہرحال یہ ایک طویل داستان ہے جس کے مطابق سید علی گیلانی کو اغوا کاروں نے پاکستان کے کئی شہروں میں رکھا اور پھر افغانستان منتقل کیا جہاں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت خاص سے ایک آپریشن کے نتیجہ میں سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی ہوئی ۔
فیس بک کمینٹ

