عرض کیا ہے۔اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا۔ خواتین و حضرات میرے غلط اندازے کے مطابق یہ شعر اس وقت لکھا گیا تھا کہ جب ریٹائرمنٹ کے بعد ، شاعر کی بیگم نے اسے بازار سے دودھ دہی اور سبزیاں وغیرہ لانے کی ڈیوٹی سونپی ہو گی۔ اس ذمہ داری کا تعین ہوتے ہی شاعر نے بڑےدکھی دل سے (درپردہ ) یہ کہنے کی کوشش کی کہ میں نے (کسی نہ کسی طرح) سرکاری ملازمت تو پوری کر لی تھی۔لیکن اس کے بعد جو میرے ساتھ ہوا ۔ اس کا مجھے اندازہ بھی نہ تھا ۔ تو پیارے بھائیو ، اس مظلوم شاعر پر ہی موقوف نہیں ۔ بلکہ یہ تو ہر اس سرکاری ملازم کا دلی ترانہ ہونا چایئے، جو کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اتفاق سے زندہ بچ گیا ہو ۔زیر نظر کالم بھی ایک ایسے ہی سرکاری ملازم کے بارے میں ہے ۔جس کے متعلق مشہور ہے کہ (قبل از ریٹائرمنٹ ) پیتا تھا وہ سوڈا واٹر ۔کھاتا تھا بادام اخروٹ ۔ نام تھا اس کا چٹا ککڑ ۔
چنانچہ ککٹر شاہ کے بارے میں چاچے راوی کا کہنا ہے کہ تھا تو وہ انسان ہی ۔لیکن اس نے اپنی مدت ملازمت ( طوطے کی طرح ) ، چند رٹے رٹائے فقروں میں ہی گزار دی تھی (سرکاری ملازم جو تھا)۔
مثال کے طور پر اگر باس کہتا کہ اوئے نالائق ادھر آ، تو مسمی رٹا رٹایا جواب دیتا ۔ یس سر ۔جب افسر کہتا، مجھے یہ کام ارجنٹ چاہیئے ،تو وہ جواب دیتا۔۔ اوکے سر ۔اگر کہتا کہ تم اک فضول اور نکمے آدمی ہو ۔تو مسمی اپنی مسکین سی شکل کو یتیم بناتے ہوئے عرض کرتا ۔ سوری سر۔اگر وہ غصے میں کہتا۔ دفعہ ہو جاؤ، گیٹ آؤٹ ۔تو بڑے ادب سے کہتا ۔ٹھیک ہے جناب۔ اور اگر افسر اچھے موڈ میں کہہ دیتا ۔یار تم تو نرے گدھے ہو۔تو وہ نہایت لجاجت سے جواب دیتا۔ شکریہ سر ۔یہ تو آپ کی زرہ نوازی ہے۔
جبکہ افسر اعلیٰ کے پاس آنے والےعام بندے کے لیئے اس کے پاس ایک ہی جملہ ہوتا ۔صاحب میٹنگ میں ہیں۔ اسی طرح کسی کے ہاں مہمان جانے پہ مسمی کو خواہ کتنی بھی سخت بھوک لگی ہو۔ صاحب خانہ کے پوچھنے پر کہ روٹی کھاؤ گے؟ تو چٹے ککڑ کا ایک ہی رٹا رٹایا جواب ہوتا کہ۔ بسم اللہ کریں میں کھا کے آیا ہوں ۔
چاچے راوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ، اپنی بیگم کے سامنے چٹےککڑ کی، عقل گم، زبان کنگ، اور دل گھوں ماؤں کرتا تھا ۔واضع رہے کہ یہ واقعہ ، عام طور پر ہمیشہ ،اور خاص طور پر کبھی کبھار ہی وقوع پزیر ہوا کرتا تھا۔ مزید یہ کہ مسمی اپنی مسمات یعنی خاتون خانہ سے اتنا ہی ڈرتا تھا۔ جتنا کہ اس زمانے میں بیویوں سے ڈرنے کا چلن تھا۔(مطلب بہت زیادہ ڈرتا تھا)۔ریٹائرمنٹ کے بعد جب چٹے ککڑکو امور خانہ اندرونی و بیرونی کی ڈیوٹی سونپی گئی تو اسے احساس ہوا کہ اصل نوکری تو اب شروع ہوئی ہے۔ جس سے بچنے کے لئیے اس نے مناسب سی ککڑوں کوں بھی کی۔ لیکن بے چارے کی ہر فریاد جلالت المک ،رئیس الباورچی خانہ کی بارگاہ سے مسترد کر دی گئی۔چنانچہ چٹا ککٹر جو کسی زمانے میں اچھا خاصہ سرکاری ملازم ہوا کرتا تھا ۔اب "وزیرِ سودا سلفیاتِ برائے باورچی خانہ و امور خانہ داری و دیگر” کے عہدے پر فائز ہو گیا تھا۔چنانچہ بازار سے سودا سلف لانا، ناقص مال واپس کرنا، سب سے بڑھ کر جلالت المک کی وقت بےوقت کی گھرکیوں کو سن کر مسکرانا ،اور بلا وجہ دانت نکالنا، یہ سب اس کے روزمرہ فرائض میں شامل تھا۔گویا وہ گھر کا ایسا ملازم تھا جسے جھاڑ کھا کر بھی تنخواہ نہیں، صرف تازہ ہدایات بلکہ حکم ملا کرتا تھا ۔جسے برداشت کرتے ہوئے ، آئینہ دیکھ وہ اکثر ہی گنگنایا کرتا کہ ۔زندگی اپنی جو اس شکل سے گزری ککڑ۔ ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ ریٹائرمنٹ رکھتے تھے۔
ایک دن مسمی کچھا (نیکر) بنیان پہنے واشنگ مشین میں کپڑے دھو رہا تھا کہ جلالت المک رئیس امور خانہ داری و دیگر،نے بازار سے ٹینڈے لانے کا حکم دیا ۔چونکہ معاملہ سخت اور جان عزیز تھی چنانچہ مسمی فی الفور اور اسی حلئیے میں سبزی والی دکان کی طرف چل دیا ۔ وہاں پر اس کی ملاقات ایک دوسرے مسمی بنام وڈا ککڑ ( کیونکہ بوقت ریٹائرمنٹ ان کا گریڈ مسمی سے بڑا تھا)سے ہو گئی ۔جس نے صرف کھچا (نیکر) پہنا ہوا تھا جبکہ بنیان ندارد تھی۔یہ دیکھ کر مسمی کا دل شق اور منہ فق ہو گیا۔وڈے ککڑ صاحب کے بارے میں مشہو تھا کہ آپ (مہا )سینئر سیٹزن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ریٹائیرڈ افسر اور حاضر سروس زن مرید ہونے کا بھی اسٹیٹس رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ ایک غیر حاضر سروس زن مرید (ان کی بیگم نہیں تھی) بھی کھڑا تھا۔ادھر وڈے ککڑ کو اس حال میں دیکھ کر مسمی سے رہا نہیں گیا ۔چنانچہ اس نے اظہار غم کرتے ہوئے کہا آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں۔ یہ سن کر وڈے ککڑ نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا۔ دھیرے دھیرے بول کوئی سن نہ لے۔پھر وہ بھی مسمی کا حال حلیہ دیکھتے ہوئےکہنے لگا ۔گئےدن کہ تنہا تھا میں انجمن میں۔یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں۔اس کے بعد اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔پھر محتاط نظروں سے چاروں طرف دیکھ کے بولا ،کیا زمانہ تھا کہ ہم لوگ دفاتر میں اچھے خاصے بابو کہلاتے تھے۔اب محلے والے ہمیں باباجی ، بابا جی کہہ کر پکارتے ہیں۔پھر بڑے جوش سے کہنے لگے۔ دیکھو دوستو!۔ تم لوگ ریٹائیر ہو گئے ہو تو کیا ہوا ۔اپنے خواب کبھی نہ چھوڑنا۔یہ سنتے ہی مسمی غیر حاضر زن مزید(جس کی بیگم نہ تھی) جھٹ سے بولا۔تو کیا خیال ہے میں ہمسائی پہ ٹرائی جاری رکھوں؟۔اس پر وہاں قہقہہ پڑا۔۔اس کے بعد وہ لوگ بصد شوق "ممنوعہ” اور کسی کے آنے پر غیر ممنوعہ باتیں کرنے لگے۔ادھر نکے اور وڈے ککڑ دونوں کی موجودہ وضع قطع کو دیکھتے ہوئے نیک دل سبزی والے کا دل بھر آیااس نے ایک سرد آہ بھری، پھر دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ۔۔۔ ہائے افسوس کہ کل تک یہ لوگ بڑے ہی کروفر والے "سرکاری ملازم” تھے، اب حالات کے ہاتھوں "سرکاری یادگار” بن چکے ہیں۔ رہے نام اللہ کا۔
فیس بک کمینٹ

