امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی یہ تجویز مسترد کردی ہے کہ آبنائے ہرمز کو عام جہاز رانی کے لیے کھولنے پر اتفاق کرکے مستقل جنگ بندی کرلی جائے ۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان دیگر معاملات مناسب وقت پر طے ہوتے رہیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ سخت کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہےکہ یہ ناکہ بندی کئی ماہ طویل ہوسکتی ہے۔
یہ صورت حال تیل و گیس کی سپلائی اور عالمی تجارت کے لئے ایک تشویشناک خبر ہے جس کی وجہ سے آج عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھی۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اور آبنائے ہرمز کھلنے کا امکان پیدا نہیں ہوتا تو سپلائی میں رکاوٹ اور توانائی کی فراہمی میں کمی کی وجہ عالمی پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی اور منڈیوں کو کساد بازاری کا سامنا ہوگا۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ضروریات زندگی کی چیزیں مہنگی ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ امریکہ سمیت دنیاکا کم و بیش ہر ملک اس مشکل صورت حال کا سامنا کررہا ہے لیکن کسی کے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
بارودی سرنگوں اور ایران کی تیز رفتار چھوٹی کشتیوں کی وجہ سے اس بحری گزرگاہ کو طاقت کے ذریعے کھولنے کی کوئی کوشش فی الوقت کارگر ہونے کی امید نہیں ہے۔ تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا اثر زائل کرنے کے لیے ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ اپریل کے شروع سے جاری اس ناکہ بندی کی وجہ سے خیال کیا جارہا ہے کہ ایران کو تیل کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہوگا اور اس کے تیل کے کنوئیں بند ہونے کی نوبت آسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ جو کام بمباری اور اسلحہ و بارود استعمال کرنے سے نہیں ہوسکا، وہی مقصد بحری ناکہ بندی سے پورا ہوسکتا ہے۔ تاہم اس طریقے میں قباحت یہ ہے کہ ایرانی عوام یا حکومت پر اس کا اثر مرتب ہونے سے پہلے دنیا بھر کی معیشت اس کا اثر قبول کررہی ہے۔ اسی لیے تیل و دیگر اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور عالمی معاشی صلاحیت کے بارے میں مسلسل منفی اندازے قائم کیے جارہے ہیں۔
یہ طے کرنا آسان نہیں ہے کہ اس معاملہ میں امریکہ یا ایران میں سے کون غلطی پر ہے۔ اگر یہ طے بھی کرلیا جائے کہ امریکہ نے ناجائز طور سے ایران پر حملے شروع کیے اور اس کی اس یک طرفہ اور اشتعال انگیز کارروائی کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ اسی حملہ کی وجہ سے ایران کو اپنی کمزور پڑتی عسکری صلاحیت کو سہارا دینے کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنا پڑی اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ دوسری طرف فروری میں شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں پر بحث سے بہر حال یہ بحران حل نہیں ہوگا ۔ اور نہ ہی امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانے سے ایران جنگ سے نجات پاسکے گا یا دنیا بے یقینی سے باہر نکل سکے گی۔ اس لیے جنگ کے حوالے سے قصور وار کا تعین کرنے کی بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اب اس تصادم کو کیسے ٹالا جائے اور کس طرح امریکہ اور ایران کسی ایسے معاہدہ پر متفق ہوجائیں کہ جنگ بھی بند ہوجائے اور آبنائے ہرمز کی عالمی بحری گزرگاہ کے طور پر حیثیت بھی بحال ہوجائے۔
اپریل کے شروع میں پاکستان نے ایک ایسے مشکل اور حساس وقت میں امریکہ سے جنگ بندی کی اپیل کرکے مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی تھی جب امریکی صدر غصے اور طیش کے عالم میں ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور پوری تہذیب کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کررہے تھے۔ اس مقصد کے لیے الٹی میٹم بھی دے دیا گیا تھا۔ پاکستان نے دونوں ملکوں کو اسلام آباد میں بات چیت کرنے اور کسی حل کی طرف بڑھنے میں معاونت کی۔ اسلام آباد مذاکرات کا پہلا دور کسی حد تک کامیاب رہا تھا لیکن طرفین عدم اعتماد اور آخری مرحلے پر نت نئی شرائط زیر بحث لانے کی وجہ سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد امریکہ کو اپنی ناکہ بندی کے ذریعے کامیابی کا یقین ہے جبکہ ایرانی قیاس کررہے ہیں کہ امریکی عوام اور دنیا بھر کے ممالک جب اس تعطل سے تنگ آجائیں گے تو امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس طرح ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرکے اپنا جنگی نقصان پورا کرسکے گا اور امریکہ سے یورینیم افزودگی کے سوال پر رعائتیں بھی لے سکے گا۔
اس حکمت عملی میں بڑے صبر اور کثیر وسائل کی ضرورت ہے۔ ایران میں چونکہ غیر عوامی حکومت مسلط ہے جو اپنے عوام کی بہبود پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اسلام پھیلانے میں دلچسپی لیتی رہی ہے، ا س لیے اسے اب بھی اپنے عوام کی پریشانیوں کا زیادہ احساس نہیں ہے۔ ایران میں نہ تو کسی کو رائے دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی شخص حکومت سے سوال کرسکتا ہے کہ جنگ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟ جب ایران جنگ سے پہلے جوہری صلاحیت کے حوالے سے بیشتر نکات پر متفق ہوچکا تھا تو اب اسی بنیاد پر امریکہ کو راضی کرکے جنگ کا خاتمہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ دوسری طرف امریکہ میں صدر ٹرمپ جیسا عجلت باز منہ زور صدر ہونے کے باوجود عوامی رائے مسلسل جنگ کے خلاف ہے ۔ عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کو ٹرمپ کی شروع کی ہوئی غیر ضروری جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ بہر حال امریکہ جیسی بڑی طاقت کا سربراہ ہے ۔ اگر اس کی انا کو روندا جائے گا اور ایرانی لیڈر بار بار امریکہ کو شکست دینے اور ذلیل و خوار ہوکر ایران سے بھاگنے پر مجبور کرنے کی بات کریں گے تو اس کی ضد اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوگا۔ اس صورت میں رائے عامہ کے جائزے یا کانگرس میں ہونے والی بظاہر مخالفت کسی امریکی صدر کو من مانی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔
یہ بھی درست ہے کہ صدر ٹرمپ نے یکم مئی تک اگر اپنے جنگی فیصلوں کے بارے میں کانگریس کی حمایت حاصل نہ کی تو ان کے لیے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ اول تو اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کی اکثریت کے ہوتے ٹرمپ کو کانگرس میں حمایت نہیں ملے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اب بحری ناکہ بندی کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اس کے بارے میں وضاحت کی جاسکتی ہے کہ یہ کسی ملک پر حملہ نہیں بلکہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ اسٹریٹیجک طریقہ ہے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔ واضح رہے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ایران نے گزشتہ 47 سال کے دوران تخریبی پالیسیوں کے ذریعے خود کو غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد ایران کے پاس اس شہرت سے نجات حاصل کرنے کا موقع ضرور تھا لیکن آبنائے ہرمز کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اور ہمسایہ عرب ممالک کو غیر ضروری طو ر پر جنگ میں ملوث کرکے اس نے اسے ضائع کردیا۔ آبنائے ہرمز ہمیشہ سے ایک عام بحری گزرگاہ رہی ہے لیکن اب ایران اسے اپنی ملکیت قرار دے کر ایک تو گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی طے کرنا چاہتا ہے کہ کون سے ممالک اس راستے سے گزر سکتے ہیں اور کن ملکوں کے جہازوں کو دشمن کے جہاز کہہ کر انکار کیا جائے گا۔ یہ رویہ درحقیقت ایران کے ذمہ دار ریاست کے تصور کو دھندلاتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کے ذریعے ایران اس تاثر کو زائل کرسکتا تھا ۔ تاہم اس وقت تہران کے لیڈر طویل المدت ایرانی مفاد دیکھنے کی بجائے صرف وقتی طور سے امریکہ کو زچ کرنے ہی کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔
پاکستان نے خلوص دل سے ایک اچھے پڑوسی اور ایک ذمہ دار ملک کے طور پر سفارتی کوششو ں سے اس مسئلہ سے نکلنے کا راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کو امریکی ایجنڈے کی تکمیل کا طعنہ دے کر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی بھی ثالث دو ایسے فریقوں کو تنازعہ سے دور نہیں رکھ سکتا جو بہر صورت ایک دوسرے کا گریبان پکڑے رہنا چاہتے ہوں۔ پاکستان اگر امریکہ کو مجبور نہیں کرسکتا تو ایران بھی ا س معاملہ میں پاکستان کی رائے سننے کی بجائے اپنے انتہاپسند پاسداران لیڈروں کے نرغے میں ہے۔ اس صورت میں تنازعہ جاری رہنے کا الزام پاکستان پر عائد نہیں ہوتا بلکہ اب بھی پاکستان ہی ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے ایرا ن ، امریکہ جیسی سپر پاور کے ساتھ کوئی باعزت معاہدہ کرکے اس تنازعہ کو ختم کرسکتا ہے۔ تاہم اسے یہ ماننا ہوگا کہ تمام تر مجبوریوں کے باوجود امریکہ بے پناہ مالی و عسکری وسائل کا حامل ہے اور ایران اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ مان لینا شکست نہیں بلکہ معروضی حالات سے سمجھوتہ کرنا ہے۔
ایران ماضی قریب میں ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کرتا رہا ہے ۔ اسی لیے اس نے اپنی جوہری صلاحیت کی نگرانی کے لیے 2015 کا معاہدہ کیاتھا۔ وہ اس سال کے شروع میں امریکہ کے ساتھ اپنی جوہری صلاحیت ختم کرنے کی شرط قبول کرکے ہی آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ اب اس بنیاد سے انکار ایران کے لیے امن کا راستہ ہموار نہیں کرے گا۔ اب بھی ایران کو اسلام آباد سے امن معاہدہ میں پیش رفت کی درخواست کرنی چاہئے۔ تاہم یہ طے ہے کہ امریکہ ایسا رویہ قبول نہیں کرے گا جس میں جوہری صلاحیت کو مسلسل سودے بازی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔
( بشکریہ : کاروان ناروے )
فیس بک کمینٹ

