میں ایک جذباتی انسان ہوں۔ کیا جذبات ہماری طاقت ہوتے ہیں یا ہماری کمزوری؟ اداکاروں کے لیے جذبات ایک سپر پاور ہوتے ہیں۔ دلیپ کمار کو شہنشاہِ جذبات کہا جاتا تھا اور مینا کماری کو ملکۂ جذبات۔ اپنی ذاتی زندگیوں میں یہ اداکار اپنے جذبات کو کیسے سنبھالتے تھے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ مینا کماری اپنی اصل زندگی میں ذہنی جدوجہد کا شکار رہیں اور وہ شراب نوشی بھی کرتی تھیں۔
کل پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا لیگ مرحلہ اختتام پذیر ہو گیا۔ آٹھ میں سے چار ٹیمیں مقابلے سے باہر ہو گئیں، جن میں پچھلے سال کی فاتح ٹیم لاہور قلندرز بھی شامل ہے۔ لاہور کو کل حیدرآباد کنگزمین نے راولپنڈی کو ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کیا۔
اس دلچسپ مقابلے کے اختتام پر حیدرآباد کے کھلاڑیوں کی خوشی دیدنی تھی۔ اگرچہ تین اور ٹیموں نے بھی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا، لیکن انہیں شاید جیت کے یہ جذباتی لمحات میسر نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حیدرآباد ان چاروں میں واحد ٹیم ہے جو اس سال اپنا پہلا پی ایس ایل کھیل رہی ہے۔ یعنی بالکل نئے کھلاڑی، نیا کمبینیشن، نئی قیادت، نئی مینجمنٹ اور نئے کارکن۔
حیدرآباد کی قیادت آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز مارنس لیبوشین کر رہے ہیں۔ اس ٹیم کو ٹورنامنٹ کے آغاز میں پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح راولپنڈی کی ٹیم بھی اپنا پہلا ٹورنامنٹ کھیل رہی تھی، لیکن وہ آخر تک شکست کے چکر سے باہر نہ نکل پائی، جبکہ حیدرآباد نے مضبوط واپسی کی۔
آخر میں اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اسے کراچی اور لاہور کی ٹیموں سے آگے نکلنا تھا، اور وہ آگے نکل گئی۔ اس کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ لیبوشین کی کپتانی بھی بہت شاندار رہی۔ ان کی ٹیم نے اہم مواقع ضائع نہیں کیے، بروقت مشکل کیچ پکڑے اور وکٹیں حاصل کیں۔ بیٹرز، بالخصوص عثمان خان، نے موقع کی مناسبت سے شاندار کارکردگی دکھائی۔
یہاں تک کہ گلین میکسویل، جو طویل عرصے سے آؤٹ آف فارم تھے، فارم میں واپس آئے اور اپنی روایتی چھکوں اور چوکوں سے مزین برق رفتار اننگ کھیل کر رن آؤٹ ہوئے۔ حنین شاہ، جو اسٹار بولر نسیم شاہ کے چھوٹے بھائی ہیں، بولنگ کے شعبے میں چھا گئے۔ انہوں نے کل کے میچ میں چار کھلاڑی آؤٹ کیے اور راولپنڈی کے آخری بلے باز کو اپنے تیز رفتار یارکر سے کلین بولڈ کیا۔
ہم نہیں جانتے کہ اگلے میچوں میں یہ ٹیم کس کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، لیکن اب تک حیدرآباد نے توقعات سے بڑھ کر ہی پرفارم کیا ہے۔ کھیل کے میدان میں ہنرمندی، مستعدی اور دانشمندی کے ساتھ ساتھ جذبات بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹیم کا مورال بلند ہو تو وہ میدان میں حیران کن کارکردگی پیش کر سکتی ہے۔
ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ہارتے ہارتے واپس آنے والی ٹیمیں اکثر چیمپئن بن جاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی فتح ہے۔
آج کل ایموشنل انٹیلیجنس کی بات کی جاتی ہے۔ جذباتی انسانوں کو کمزور اور غیر حقیقت پسند کہا جاتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ جذباتی افراد کسی ٹیم کی جان ہوتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم بھی بہت جذباتی ہیں۔ کرکٹ میں تو ہم سے زیادہ ہمارے بھارتی ہمسائے جذباتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی ٹیم، جو ایک زمانے میں پاکستان سے کم تر سمجھی جاتی تھی، آج ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ تینوں فارمیٹس میں دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔
اپنے جذباتی اور پُرجوش انداز کی وجہ سے حیدرآباد کنگزمین میری پسندیدہ ٹیم ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں اپنا مورال بلند رکھے گی اور ہم سب کو ایک بڑا سرپرائز دے گی۔
فیس بک کمینٹ

