ڈاکٹر علی شاذف کی کتاب "لیڈز سے لاہور۔ایک سال کی کہانی” حال ہی میں گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے شائع ہوئی۔اس کے متعلق کچھ کہنے سے قبل رضی الدین رضی اور پروفیسر انور جمال صاحب کی آراء ملاحظہ کریں۔
” ڈاکٹر علی شاذف کے یہ کالم ہمارے عہد کی آواز ہیں۔انہوں نے بلا خوف و جھجک جو دیکھا،اسے قلم بند کر دیا۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ کسی کے پے رول پر نہیں۔ یہ کتاب آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاسی و سماجی اور معاشرتی تاریخ کے حوالے سے ایک اہم دستاویز کا درجہ رکھے گی…”
رضی الدین رضی
شاذف کی شاعری آفاقی محبت کے موسم کی خوش آواز سرمدی نغمگی ہے۔جبکہ اس کی نثر کی دو سطحیں ہیں۔ زیریں سطح احترام انسانیت کی نرم جھلملاہٹ میں جینے کی آرزو ہے۔اور اوپر کی سطح معاشرتی عدم مساوات کے منظر نامے کے بارے میں چبھتے ہوئے فکر انگیز سوالات پر مبنی ہے۔ شاذف کا شمار ان معدود چند لوگوں میں ہوتا ہے جو خیر عدل اور صداقت کے اقدار کے علمبردار ہیں۔”
پروفیسر انور جمال
یہ کتاب اپنے عہد کی فکری، سماجی اور معاشرتی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔ اس میں شامل کالم بظاہر مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں، لیکن ان سب میں ایک مشترک عنصر انسانی زندگی، معاشرے اور ریاستی ڈھانچے کے بارے میں سوال اٹھانے اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دینے کا ہے۔ڈاکٹر شاذف نے محبت، مذہب، سیاست، طبقاتی تقسیم، ذہنی صحت، جدید تہذیب، سماجی رویوں اور قومی شعور جیسے موضوعات پر نہایت جرات مندی اور فکری گہرائی کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے۔
کتاب کا ایک نمایاں وصف اس کی موضوعاتی وسعت ہے۔ ایک طرف "محبت مذہب اور معاشرتی تضادات”، "محبت انسان کو بناتی ہے یا تباہ کرتی ہے” اور "محبت کی ایک المیہ کہانی” جیسے مضامین انسانی جذبات اور نفسیاتی کیفیات کا احاطہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف "طبقاتی تقسیم، مارکسزم، مذہبی طبقہ اور لبرل دانشور”، "سیلاب، سیاست، استحصال اور اللہ کی رضا” اور "ریاست کی بنیاد پرست سوچ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا؟” جیسے کالم سیاسی اور سماجی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔ یوں مصنف فرد اور معاشرے دونوں کو اپنی تنقید کا موضوع بناتا ہے۔
ڈاکٹر علی شاذف کے کالموں میں جدید انسان کی نفسیاتی الجھنیں بھی نمایاں ہیں۔ "ذہنی صدمے کے مراحل”، "مینٹل بلاک سے کیسے نکلیں”، "بلھا کی جاناں میں کون” اور "زندگی کا مقصد: ایک داخلی مکالمہ” جیسے مضامین وجودی اور نفسیاتی مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔انہوں نے محض مسئلے کی نشاندہی نہیں کی بلکہ قاری کو خود شناسی اور فکری بیداری کی طرف بھی مائل کیا ہے۔
اس کتاب کا ایک اہم پہلو اس کی تنقیدی فکر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے روایتی بیانیوں کو بغیر سوال اٹھائے قبول نہیں کیا بلکہ انہیں عقل و شعور کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔
"28 مئی: جھوٹی عظمت کا نشان اور شعور سے عاری قوم کا نوحہ”، "مجھے مطالعہ پاکستان پر یقین ہو گیا” اور "انقلاب کے لیے بنجر زمین” جیسے مضامین میں یہی تنقیدی رویہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر فاضل مصنف کے خیالات متنازع یا یک طرفہ محسوس ہوتے ہیں، لیکن یہی امر اس کتاب کو فکری مباحث کا حصہ بھی بناتا ہے۔
اسلوب کے اعتبار سے ڈاکٹر علی شاذف کی تحریر سادہ، رواں اور مکالماتی ہے۔ وہ علمی اور فلسفیانہ مباحث کو بھی عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں استدلال کے ساتھ ساتھ جذباتی اپیل بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ موضوع کے ساتھ ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی جڑ جاتا ہے۔
تاہم تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بعض سیاسی اور نظریاتی مباحث میں غیر جانب داری کی بجائے مصنف کی فکری وابستگی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود کتاب اپنے عہد کے فکری اور سماجی مباحث کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
مختصراً، "لیڈز سے لاہور۔ایک سال کی کہانی” ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے دور کے انسان، معاشرے اور ریاست کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بناتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو محض واقعات سے آگاہ نہیں کرتی بلکہ اسے سوال اٹھانے، سوچنے اور اپنے عہد کے مسائل کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ فکری جرات، موضوعاتی تنوع اور تنقیدی شعور اس کتاب کی نمایاں خصوصیات ہیں، جن کی بنا پر اسے عصرِ حاضر کے سماجی اور فکری ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ رضی الدین رضی صاحب کے ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نمبر
03186780423
فیس بک کمینٹ

