مری/ ملتان ۔۔ملتان سے تفریح کی غرض سے مری جانے والے سیاحوں کے لیے سفر ایک المناک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔ مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے خوفناک حادثے میں 10 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 23 سیاحوں پر مشتمل ایک وین مری کی جانب رواں دواں تھی کہ مبینہ طور پر مری کھجٹ ایکسپریس وے پر تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے حفاظتی دیوار سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حادثے کے نتیجے میں متعدد مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمی ہونے والوں کو ریسکیو ٹیموں نے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر دل خراش مناظر دیکھنے میں آئے، فائر بریگیڈ کی گاڑی ایک گھنٹے کے بعد آئی جبکہ اس دوران متاثرین جلتی گاڑی میں چیخ و پکار کرتے رہے۔
حادثے کا المناک پہلو یہ بھی ہوا کہ گاڑی جب حادثے کا شکار ہو کر گری تو اس کا دروازہ نیچے والی سائیڈ پر آ گیا جس سے متاثرین گاڑی میں قید ہو گئے تاہم چند افراد کھڑکیاں توڑ کر بمشکل باہر نکلے۔ ۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، بدقسمت خاندان ملتان سے مری کی جانب جا رہا تھا، وین میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، جن کی تعداد 10 تھی، وین اس جانب گری جہاں سے دروازے کھولنا ممکن نہ تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس کی بھاری نفری اور مری انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں، واقعے کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونیوالوں اور زخمیوں کو فاروق ہسپتال اور پمز اسلام آباد میں شفٹ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مری کا کہنا ہے کہ حادثہ اوور اسپیڈنگ کی وجہ سے ہوا، کچھ کی حالت تشویشناک ہے، واقعہ سےمتعلق کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے مری ایکسپریس وے پر ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں کا تعلق ملتان کے محلہ سوتری وٹ علم چوک سے ہے۔
زخمیوں میں 48 سالہ دیبا اسلم، ڈیڑھ سالہ عائرہ شہباز،22سالہ عباس اسلم،19سالہ دعا،2سالہ انعم، 13سالہ ابیہا، 7سالہ فارس رضا،11 سالہ ایاز، 8سالہ منزہ،13سالہ ذیشان،19سالہ مہناز،42سالہ نازیہ بتول اور 3سالہ علی اصغر شامل ہیں۔
( بشکریہ : سوسائیٹی نیوز )
فیس بک کمینٹ

