Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, مئی 2, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار
  • امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب :سیدمجاہد علی کا تجزیہ
  • پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے نئے وائس چانسلر : چارج سنبھال لیا
  • مزدوروں کے عالمی دن پر پیٹرول پھر مہنگا کر دیا گیا: سات روپے لیٹر اضافہ
  • معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام
  • ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»کہانیاں رفتگان ملتان کی ایک جائزہ : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم
ادب

کہانیاں رفتگان ملتان کی ایک جائزہ : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم

ایڈیٹرنومبر 16, 20259 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
raftgan titles
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

” کہانیاں رفتگان ملتان کی ” رضی الدین رضی کی تازہ تصنیف ہے ا س سے پہلے اُن کی شاعری اور نثر کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 2006میں رفتگان ملتان کے نام سے شائع ہوا تھا، یہ اضافوں کے ساتھ دو جلدوں پر مشتمل اُس کتاب کادوسرا ایڈیشن ہے ۔ یہ کتاب مختلف لوگوں کی وفات پر لکھے گئے مضامین اور کالموں پر مشتمل ہے۔پہلی جلد جنوری1968 سے جنوری 2006 تک بچھڑنے والے افراد پر مشتمل ہے جبکہ د وسری جلد میں جنوری 2006 سے اکتوبر 2018 تک وفات پانے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔کتاب کے پہلی جلد میں27 جبکہ دوسری جلد میں26 مضامین یا اور کالم شامل ہیں۔پہلی جلد میں کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں ڈاکٹر اسلم انصاری، بشریٰ رحمن اور ڈاکٹر انور زاہدی کے مضامین شامل ہیں۔ڈاکٹر اسلم انصاری ملتان کی تہذیبی زندرگی کی دستاویز کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ” رفتگان ملتان” ایک اُداس کرنے والی کتاب ہے۔ یہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو ماضی قریب میں خوابِ خاک میں جاکر سوئے۔وہ ترا شیدہ لوگ تھے ، روا یت کے تراشیدہ تھے، اِن کے ہونے سے ملتان میں علم وادب کی بہت سی روایتیں زندہ تھیں۔ رضی صاب نے ان کے بارے میں لکھ کر ایک فرض ادا کیا اور ملتان کی تاریخ کا ایک اہم باب رقم کیاہے۔
بشریٰ رحمن رضی رفو گر کے عنوان سے لکھتی ہیں کہ رضی نے یاد نگاری کو نیا موڑ دیا ہے اور رسم وفا کو زندہ و پائندہ کیا ہے اور بچھڑنے والوں کی مالا اپنے قلم سے پرو کر رکھ دی ہے۔ڈاکٹر انور زاہدی کے بقول رفتگان ملتان رضی کی ایک ایسی کتاب ہے جوملتان کی ادبی شخصیات کا احاطہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس میں دوسرے اصحاب بھی شامل ہیں جن کا تعلق صحافت، ٹریڈ یونین ، مصوری اور عوامی زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے ۔
اب آتے ہیں کتاب کے پیش لفظ کی طرف رضی الدین رضی موت کا پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ مرنے والوں کو اگر ہم مردہ سمجھ لیں تو وہ مر جاتے ہیں، لیکن اگر ہم اُنہیں زندہ ہی سمجھیں اور اُن کی رفاقت کو قدم قدم پر محسوس کریں ، تنہائی میں اُن سے باتیں کریں اور اُن کے ساتھ گزارے ہوئے ایک ایک لمحے کو ہر پل یاد کریں تو وہ کبھی نہیں مرتے۔
ہمارے ہاں عموماً کسی خاص یا بڑے آدمی یا پھر کسی قریبی عزیز کی وفات پر تعزیتی مضامین لکھے جاتے ہیںاور اُن مضامین میں مرنے والے کی خوبیاں بیان کی جاتیں ہیں بلکہ وہ خوبیاں بھی بیان کی جاتیں ہیں جو اُن میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں۔رضی الدین رضی نے اُن لوگوں پر بھی آنسو بہائے ہیں، جن پر آنسو بہانے والا کوئی نہیں ہوتا ۔اُس نے ادیبوں، شاعروں اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاوہ قوتِ گوائی سے محروم برف بیچنے والے ، کاغذ چننے والے بچے، رکشہ ڈرائیور، کھیل کھیل میں پھانسی لگا کر مرنے والے بچے اور کالونی ٹیکسٹائل ملز میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مزدوروں کو موضوع بنایا ہے۔
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی ادیب، شاعر یا فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والا اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو شروع شروع میں لوگ اُس کا سوگ مناتے ہیں ، اُن کی یاد میں تعزیتی تقریبات منعقد کی جاتیں ہیں، کسی سڑک یا گلی کو اُن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، اخبارات میں کالم اور مضامین لکھے جاتے ہیں جن میں اُن کی وفات کو ناقابل تلاقی نقصان قرار دیا جاتا ہے ۔ پھر رفتہ رفتہ لو گ اُن کو بھولتے جاتے ہیں۔مثال کے طور پرعرش صدیقی، ارشد ملتانی، اقبال ساغر صدیقی، حسین سحراور ضیاء شبنمی سمیت کئی نام ایسے ہیں جو کبھی ملتان کی پہچان تھے، لیکن اب اُنہیں کوئی یا د نہیں کرتا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ رضی کو اتنے سارے لوگوں کی تاریخ وفات کس طر ح یاد رہتی ہے۔
رضی نے پہلا جنازہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق والے اپنے والد کا دیکھا، جب وہ ساڑھے تین سال کاتھا، اُس وقت اُسے یہ نہیں معلوم تھا کہ موت کیا چیز ہوتی ہے۔ صحن میں میت رکھی تھی اور اُس کے چاروں طرف عورتیں بیٹھی بین کر رہی تھیں،ساڑھے تین سال کا بچہ اپنی کھیل میں مصروف تھا، کھیلتے کھیلتے وہ کبھی میت کی طرف دیکھتا اور کبھی عورتوں کی طرف اور دوبارہ کھیل میں مصروف ہو جاتا۔ کتاب کا پہلا مضمون، پہلا جنازہ اُس کے والد پر ہے ، جس میں وہ لکھتے ہیں ” جیپ نے راہگیر کو کچل دیا’ 30 سالہ ذکا الدین کی موت کی سنگل کالمی خبر 9جنوری کے اخبارات کے صفحہ آخرپر اُن کی نعش کی تصویر کے ساتھ شایع ہوئی۔ میں نے یہ خبر امروز اور کوہستان میں کئی برس بعد پڑھی۔ کوہستان کا وہ شمارہ میرے دادا نے 1965 کی جنگ کے دوران اُن اخبارات کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہوا تاجن میں میرے تایا میجر ضیائ الدین کی شہات کے حوالے سے فیچر اور خبریں موجود تھیں۔ میں نیو ز ڈیسک پر کام کے دوران جب بھی کسی راہگیر کی ہلاکت کی خبر بناتا تو مجھے وہ خبر اور اپنے والد ہمیشہ یاد آتے تھے اور میں سوچتا تھا کہ آج میں جو یہ خبر بنا رہا ہوںکئی برس بعد اس راہگیر کا بچہ جب بڑا ہوگا اور اپنی ماںیا دادا کے سامان میںرکھا ہوا اخبار نکالے گا تو اس خبر کو ضرورپڑھے گااور پھر میری طرح یہ بھی سوچے گا کہ کون ہوگا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہوگی۔
یہ واقعہ ہم میں سے کسی کو بھی یاد نہیں ہوگا کہ کچھ سال پہلے ملتان کی بستی مانہ ہمدانی میں کھیل کھیل میں ایک بچہ پھانسی پر جھول گیا تھا،
رضی نے اُ س واقعے پر بھی کالم لکھا ، جس کا عنوان تھا” گردن اور رسی کا تعلق” رضی کے بقول بظاہریہ کھیل کھیل میں پھانسی چڑھ جانے والے بچے کی کہانی ہے لیکن یہ خبر ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ پھانسیاں کیوں بچوں کا کھیل بنتی جا رہی ہیں ۔دور افتادہ علاقے مانہ اہمدانی کے ایک بستی میں رہنے والے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کر دیا ہے تو ہم کس طرف جا رہے ہیں، ہمارا انجام کیا ہوگا،ہم اتنے اذیت پسند کیوں ہوتے جا رہے ہیں ؟
اسی طرح رضی نے کاغذ چننے والے خانہ بدوش بچے کی موت پر کالم لکھ کر اُسے ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا ہے ۔ یہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ غالاً سدو حسام چوک پر یا اُس کے آس پاس کسی دکان کے باہر ٹریکٹر کے باہر ٹریکٹر کے پیچھے لگایاجانے والا ہل رکھاتھا دکاندار نے رات کو دکان بند کرتے وقت اُس پر کرنٹ چھوڑ دیا تھا، اگلی صبح کاغذ چننے والا بچہ کاغذ چنتے چنتے جب وہاں پہنچا تو کسی طرح اُس پاؤں ہل پر لگا جس سے وہ موت کا شکار ہو گیا،رضی الدین رضی موت چننے والا بچہ کے
عنوان سے لکھتے ہیں کہ سنا ہے اب پولیس خانہ بدوش غلام حسین کی صلح کروا رہی ہے۔خانہ بدوش کی کسی سرمایہ دار کے ساتھ صلح کی بھلا حیثیت ہی کیا ہوتی ہے، اُسے ڈرا دھمکا کر کچھ رقم تھما دی جائے گی اور وہ غریب خاموش ہو جائے گا۔ رقم بھی کیا ہوگی دس بیس ہزار یا زدہ سے زیادہ پچیس ہزار، اور گلی گلی کاغذ چننے والا اس پر خاموش ہو جائے گا۔ خاموش کیوں نہ ہو، دن بھر کاغذ جمع کر کے دس بیس روپے کمانے والے کے لیے دس بیس ہزار کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ وہ اس رقم کو حاصل کرنے کے بعد شو روم کے مالک کو صحت اور سلامتی کی دعا بھی دے گا، وہ اپنے بچے کی موت کے باوجود اُس کے بچوں کی زندگی کے لیے دعائیں کرے گا
کتاب کے پہلے حصے کے آخر میں آخری جنازہ کے عنوان سے 18 جنوری 2007 کو کتاب کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا مضمون شامل ہے،اُن کے بقول ” رفتگان ملتان” صرف شخصیات ہی نہیں ، اقدار اور روایات کی رخصت ہونے کی بھی کہانی ہے،کیسے کیسے لوگ اپنے ساتھ کیسی شاندار روایات بھی اپنے ساتھ لے گئے، مسند توخالی ہو گئی مگر کوئی جاں نشیں نہ آیا۔اپنے اسی مضمون میں وہ آگے چل کر لکھتے ہیںکہ المیہ صرف یہی نہیں کہ لوگ جارہے ہیں، روایات اور اقدار رخصت ہو رہی ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ پرسہ دینے والے بھی باقی نہیں رہے، موت اس شہر کے گلی کوچوں کو وہ بے گانگی اور تنہائی عطا کر گئی کہ اب دکھ کے لمحات میں جی بھر کے رونے کے لیے بھی کوئی شانہ میسر نہیں، گویا موت ہیںآنسو دیتی ہی نہیں، بعض اوقت ہم سے آنسو چھین بھی لیتی ہے اور موت کا یہ وار سب سے اذیت ناک ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہم آخری جنازے کا انتظار کرتے ہیںوہ جنازہ جس میں ہم موجود تو ہوں مگر شریک نہ ہوں۔
اب آتے ہیں کتاب کے دوسرے حصے کی طرف، کتاب کے دوسرے حصے میں 26 مضامین شامل کئے گئے ہیںاور کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں پروفیسر انور جمال صاحب کی رائے موجود ہے، وہ رفتگان ملتان اور دھرتی کا قرض کے عنوان سے لکھتے ہیںکہ رضی کی ہر تحریر سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص جس کے بارے میں نوحہ لکھ رہا ہے اس کا بہت قریبی رشتہ دار ہے، خون کا رشتہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر چہ وہ شخص اس کا دوست ہوتا ہے یا شاعر ایب ہوتا ہے، لیکن رضی کے مضامین کے بین السطور میںایک دکھ ہوتا ہے اور یہ غم جھلکتا دھرکتا اور چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ بہت غم کے ساتھ اُن کا ذکر کرتا ہے۔
دوسرے حصے کے شروع میںموت کا پہلا صفحہ اور یوم محبت کے عنوان سے رضی کالکھا ہوا دیباچہ یا ہیش لفظ شامل ہے ، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ اب جب ہم ” رفتگان ملتان” کا دوسرا حصہ مکمل کر چکے تو یہ مشکل آن پڑی کہ ہم اب کی لکھیںموت پیش لفظ تو ہم نے 2010 میں ہی لکھ دیا تھا اور اُس وقت ہمیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ ہم اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی لکھیں گے۔حقیقت تو یہی ہے کہ ہم بچپن میں ہی موت سے آشنا ہونے کے باوجودزندگی کی طرح موت کو نہیں سمجھ سکے۔ موت کی حقیقت ہمیں اصل میںتو اُس وقت معلوم ہوئی جب اس نے اپنے وارتسلسل کے ساتھ جاری رکھے اور ہم سے ہمارے وہ پیارے بھی چھین لیے جن کے ساتھ ہم قہقہے لگاتے تھے یا جو ہم سے بہت چھوٹے تھے۔ یہ ایسا دکھ اور اذیت تھی جسے برداشت کرنا ہمارے لیے دشوار ہوگیا۔اتنا دشوار ہو گیا کہ پھر اس دکھ اور اذیت کو کم کرنے کے لیے موت کی کہانیوں میں پناہ لینا پڑی۔
کتاب کے دوسرے حصے میں” موت کے بعد مسکرانے والا بد مزاج شاہیا” کے عنوان سے معروف شاعر نجم الااصغر شاہیا کی وفات پر مضمون شامل ہے۔ نجم الاصغر شاہیا دوریش صفت انسان تھے ۔ دو تین مرتبہ میں رضی کے ساتھ اُن کے گھر گیا۔ اُن کا گھر میرے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا ،میں جب گھر کا سودا سلف لینے کے لیے پرانا شجاع آباد روڈ پر جاتا تو اُن سے اکثر ملاقات ہو جاتی تھی ، وہ اکثر برتنوں کی دکان پر بیٹھے ملتے تھے ، جو شائد اُن دوست کی دکان تھی۔ وہ ہمیشہ کہتے آپ تو میرے ہمسائے ہو میرے پاس آجایا کرو ۔ میں وعدہ تو کر لیتا لیکن کبھی جانے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ ایک مرتبہ اُنہوں نے شکوہ کے انداز میں کہا کہ یار میں دل کا مریض اکیلا گھر میں پڑا ریتا ہو، آ جایا کرو۔یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی ۔ اس کے کچھ ہفتے بعد رضی نے فون پر بتایا کہ شاہیا صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، ظہر کے بعد جنازہ اُٹھایا جائے گا۔مولوی نور محمد والی مسجد میں اُن کا جنازہ تھا ، میں اُن کے گھر پہنچا ، گھر کے باہر بہت سے لوگ جمع تھے ، جنازہ اُٹھایا گیا بہت سے لوگ پہلے سے مسجد میں پہنچے ہوئے تھے۔گھر میں اکیلے پڑے رہنے والے شخص کے جنازے میں اتنے لوگ دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہم زندگی میں اُن سے ملتے رہتے تو شائد وہ کچھ دن اور جی لیتے ۔ گھر واپس آتے ہوئے اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ میں نے اُن سے کیا ہوا وعدہ کیوں نہ پوراکیا۔اب جب کبھی اُن کے گھر کے پاس سے گزرتا ہوں اور دروازے پر اُن کے نام کی تختی دیکھ کر اُن کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور ایسا لگتا کے کہ ابھی بیٹھک کی کھڑکی سے آواز دے کر بلا لیں گے ۔
رٰضی الدین رضی کے بقول نجم الاصغر شاہیاکی آواز اُردو شاعری میں ایک منفرد آواز تھی۔ موضوعات اور ہیئت دونوںحوالوں سے وہ اپنے فن پر گرفت رکھتے تھے۔ بہت سے حیران کر دینے والے مضوعات اُن کی شاعری میں ملتے ہیں، غزل اور نظم دونوں میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔
رضی الدین رضی نے کالونی ٹیکسٹائل ملزکے مزدوروں پر پولیس کی فائرنگ ہلاگ ہونے والوں پر بھی قلم اُٹھایا ہے وہ اسے پاکستان کی تاریخ میں مززدوروں پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دیتے ہیں۔ شکاگو میں مزدوروں پر فائرنگ کے یہ ددوسرا بڑا واقعہ ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ بظاہر تو یہ بونس کا طالبہ کرنے والے مزدوروں کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش تھی، لیکن درحقیقت اس قتل عام کے ذریعے جنرل ظیائ الحق اپنے اقتدار کومضبوط کرنا چاہتا تھا۔ وہ مزدور جنہیںبھٹو صاحب کے دور میں زباں ملی اور جو عوامی حکومت کے خاتمے کے بعدڈکٹیٹر کے خلاف احتجاج میں فعال کردار ادا کر رہے تھے، ظیائ الحق اُن کی آواز کو دبانا چاہتا تھااور اُنہیں بتانا چاہتا تھا کہ اب اُنہیں سر اُٹھا کر نہیں ، سرجھا کر کا کرنا ہو گا۔
اطہر ناسک صرف رضی کا ہی نہیں وہ سب کا دوست تھا، اُس کی کسی سے دشمنی نہیں تھی، میں نے اُسے جب بھی دیکھا مسکراتے ہوئے دیکھا اُسے جانے کی جلدی تھی اور وہ چلا گیا۔ اطہر ناسک کے بارے میں رضی کا کہناہے کہ میں اطہر ناسک کے سواکوئی ایسا دیکھا ہی نہیں کہ جھوٹ بولنا جس کی خامی نہ ہوخوبی بن جائے۔وہ سچائی کے ساتھ جھوٹ بولتا تھا اچھا لگتا تھا، برے وہ لگتے ہیں جو ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، اس کا جھوٹ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا، نشانہ اس کی اپنی ہی ذات ہوتی تھی، اور اس نے خود کو اتنی کثرت کے ساتھ نشانہ بنایا کہ اندر سے لہو لہان ہو گیا۔ اس نے مانے کی تلخیوں اور کڑواہٹ کو سچے جھوٹ کے ذریعے اپنے وجود کا حصہ بنا لیا اور اس طرح حصہ بنایا کہ وہ زہر اس کی رگوں میں دوڑنے لگااور وہ ایسا ظالم کہ وہ رگوں میں دوڑنے پھرنے کا تو قائل ہی نہیںتھاکلینڈر سامنے ررکھ کر لہو کے ٹپکنے کا انتظار کرتا رہا۔
رضی الدین رضی کی یہ کتاب ہم سے جدا ہونے والے اہلیان ملتان کی حالات زندگی کی کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب رفتگان ملتان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ، اُن کی مشکلات اور دکھوں کی ترجمانی کرتی ہے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

رفتگان کہانیاں رفتگان ملتان کی ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleچٹا ککڑ : حیات ثانیہ بعد از اختتامیہ یعنی فراغتیہ نوکریہ سرکاریہ ۔۔ شاہد مجید کی مزاح نوشت
Next Article قومی ترانے کی بے ادبی، پاکستان مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

اپریل 26, 2026

ملتان میں شدید بارش اور ژالہ باری، گندم کی تیار فصل کو خطرہ

اپریل 2, 2026

ملتان کے مجاہدِ ادب مشتاق کھوکھر کی 13 ویں برسی : رضی الدین رضی کی یاد نگاری

اپریل 1, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ مئی 2, 2026
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم مئی 1, 2026
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم مئی 1, 2026
  • باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار مئی 1, 2026
  • امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب :سیدمجاہد علی کا تجزیہ مئی 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.