خواتین و حضرات ! ۔۔راویان اخبار عجائب و قصہ پردازن غرائب بارے اس مملکت خداداد کہ جہاں سنی نہیں جاتی کسی کی روداد نہ فریاد ، لکھتے ہیں کہ ایک تھا بادشاہ (ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ) پتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ یکایک وہ اپنے سینے پہ چونیاں اٹھنیاں لگانے لگا۔بوقت ضرورت وہ انہیں توڑ توڑ کے مونگ پھلیاں کھاتا ۔اور باقیوں کو ٹھینگا دکھاتا تھا۔ عزیزان ملک و ملت صاحبان عقل قلت، یہ بات اتنی پرانی ہے کہ ابھی کی تازہ لگتی ہے۔ اس ملک بےبس میں اک عجب بزدل شخص بھی رہتا تھا جو کہ صبع سویرے اٹھ کر غنیم کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگتا اور پھر ٹپوسیاں مارا کرتا تھا۔ اس کی دعا سن کر اکثر دائیں کندھے پر بیٹھا فرشتہ ہنستا اور ساتھ والے سے مخاطب ہو کر کہتا۔ ۔ اس مسکین کی شکل دیکھ اور دعادیکھ۔۔ حالت یہ ہے کہ اس کی اپنی بیوی بھی اسے دوسری دفعہ مانگنے پر سالن نہیں دیتی ۔تیسری دفعہ پانی نہیں دیتی اور چوتھی دفعہ وہاں بیٹھنے بھی نہیں دیتی ہے۔۔۔یہ خود کچھ کرتا نہیں ۔بس دعاؤں پہ زور رکھتا ہے۔تو عزیزو!جہاں تک اس کی شکل کا تعلق ہے۔تو اس بزدل اعظم نے خود اپنے بارے میں یہ معرکہ آرا شعر کہہ رکھا تھا کہ۔۔ جے میں ویکھاں شکل ولے تے کج نہیں میرے پلے۔۔
ماں تے آکھے چن ورگا اے۔پر کوئی نہ اینوں ٹھلے
(اگر میں اپنی صورت کی طرف دیکھوں تو میرے پاس (خوبصورتی یا قابلیت کے نام پر) کچھ بھی نہیں ہےمگر جب ماں کہتی ہے کہ میں چاند سا ہوں، تو اس بات کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا) ۔ جب اس کے نالہ و شیون کا اوپر سے کوئی جواب نہ آیا۔ تو تنگ آ کر اس نےدعا کی بجائے، اللہ میاں کے نام ایک ای میل لکھ ماری ۔۔جس کی ایک کاپی بغرض اطلاع مولوی الف دین کو بھی ٹیگ کر دی۔۔(کہ پاکستان میں دین کا فرینچائز انہی کے پاس تھا)۔ الیکٹرانک میل پڑھتے ہی مولوی صاحب مانند تیرحاضر آتے ہی غصب ناک ہو کر بولے۔مورکھ۔۔ اس قسم کی میل نہ بھیجا کر۔ اگر بھیجنا ہی تھا۔ توپھر کوئی کام کا "ٹوٹا” بھیجا ہوتا۔ اس ٹائپ کی میلز لکھ کر تو جہنم میں جائے نہ جائے، البتہ جیل ضرور جائے گا۔اس پر وہ بزدل شخص سہم کر بولا مولوی صاحب خود ہی سوچو ذرا ۔۔ہم جہاں رہ رہے ہیں وہ جیل اور جہنم کا بد ترین امتزاج نہیں تو پھر اور کیا ہے؟۔یہ سن کر مولوی صاحب لاجواب ہوئے۔.اور فوراً وہاں سے بھاگ لئیے کہ کہیں سہولت کاری کے الزام میں دھر نہ لئیے جائیں۔.تو بھائیو اور بہنو۔۔اس بزدل شخص نے اللہ میاں کے نام جو ای میل سینڈ کی تھی۔ وہ ہمارے ہاتھ لگ گئی ہے ۔۔ میل کچھ اس طرح سے ہے ۔
بخدمت جناب اللہ میاں صاحب ۔ مؤدبانہ گزارش ہے کہ یہ ای میل آپ کا وہ بندہ لکھ رہا ہے جو کہ ہر یوٹیلیٹی بل کی وصولی پر آپ کوسچے دل سے یاد کرتا ۔۔۔اور "ڈالہ” دیکھ کرچھپ جاتا ہے۔ عرض ہے کہ ہم یہاں ہر طرح کی خیریت نیک مطلوب تو چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر مطلوبہ چیز نیک کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ مولوی الف دین کہتا ہے کہ یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ ڈنڈے والا کہتا ہے کہ یہ میری پلانگ کا نتیجہ ہے۔جبکہ دانشور کا کہنا ہے کہ یہ ہماری کاہلیوں اور دو نمبریوں کا پھل ہے ۔۔اصل وجہ کیا ہے؟ اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔اللہ جی! یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ فیض صاحب نے آپ سے بذریعہ شعر گذارش کی تھی کہ منصف ہو تو ابھی حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے۔ لگتا ہے کہ آپ نے ان کی یہ التجا بڑی نیڑے(نز دیک) ہو کے سنی تھی ۔جبھی تو اس فریاد کے بعد پاکستان میں ایسا حشر بھیجا ہے کہ ہر طرف حشر نشر ہو رہا ہے۔
حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہم لوگ مانگ تانگ کر گزارا کر رہے ہیں۔گھر پہ ان لوگوں کا راج ہے جن کے منہ بڑے، ہاتھ لمبے،اور پیٹ مانند جہنم ہیں۔ مہنگائی اتنی ہے کہ وہ بیویاں جو کہ پلیٹ میں دوسری دفعہ بھی سالن بخوشی ڈال کے دیتی تھیں اب منت ترلوں کے باوجود بھی اسے ” ری فِل” کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ اب تو پیاز کاٹتے ہوئے آنکھوں میں آنسو نہیں آتے، بلکہ پیاز خریدتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ٹماٹر آنکھیں دکھاتا ہے۔ جبکہ لہسن منہ چڑاتا ہے۔ ۔یا اللہ! یہ بات بھی درست ہے کہ یہ دنیا آپ ہی کی بنائی اور سجائی ہوئی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے "سافٹ ویئر کا اپڈیٹ ورژن” عرصہ دراز سے رکا ہوا ہے ۔ مہربانی فرما کر اسے اپ ڈیٹ کر دیجئے۔شاید اس نئے ورژن سےمخلوق خدا کو کچھ راحت نصیب ہو۔
یاد دلاتا چلوں کہ غنیم کی توپوں میں کیڑے پڑنے والی بدعائیں بھی میں ہی مانگا کرتا تھا۔ مگر بجائے دعا پوری ہونے کے الٹا ہمیں ہی بدعائیں لگ رہی ہیں۔۔ ان کی توپیں پہلے سے بھی زیادہ چمکدار، جبکہ ہمارا مستقبل بےکار ہوتا جا رہا ہے۔جہاں تک کیڑے وغیرہ پڑنے کا تعلق ہے۔۔ تو وہ غنیم کی توپوں کی بجائے ہماری جیبوں میں پڑ رہے ہیں۔مہربانی فرما کر غنیم کا انٹرنیٹ بند، وائی فائی ختم اور ان کے موبائل چارجر خراب کر دیں۔تا کہ نیٹ کے دکھ کا کچھ تو انہیں بھی اندازہ ہو ۔ ۔ اللہ میاں جی! آپ سے اک گذارش اور بھی ہے ۔ بس اتنا کر یں کہ دنیا میں تھوڑا سا سکون ڈاؤن لوڈ کر دیں۔یہ زمانہ جو اس وقت ہم گذار رہے ہیں۔ اسے فاسٹ فارورڈ کر دیں۔خوشیاں جو کہ ابھی تک ٹو جی( G 2) والے زمانے میں پھنسی ہوئی ہیں ۔انہیں فائیو جی ( 5 G) کردیں اور ہاں "ڈائریکٹ میسج” (DM) کا جواب اپنی رحمتوں کی صورت میں دیتے رہیے کہ مجھے اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ کہیں کل کلاں فرشتےآپ کے حضور نامہ اعمال کی جگہ میری "براؤزر ہسٹری” نہ پیش کر دیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ بندہ بے موت مارا جائے گا ۔اس لئیے درخواست ہے کہ کسی فرشتے کی ڈیوٹی لگا دیں کہ وہ ابھی سے میری۔۔۔ ‘ براؤزنگ ہسٹری’ ۔۔۔کو ڈیلیٹ کرنا شروع کر دے۔ امید ہے قیامت تک صاف ہو ہی جائے گی ۔
میرے پیارےاللہ میاں! آخر میں ایک دفعہ پھر آپ سے گزارش ہے کہ "توں جے میرے ہمیشہ کول رہویں ۔۔تے میں دینا نوں کہہ داں پرے پرے۔ ورنہ ان حالات میں یہاں رہ کے بندہ جیوے یا مرے؟ ۔۔فقط زمین پر مقیم ایک عرصہ دراز سے پرانا ۔۔اور پرماننٹ بزدل بندہ۔(جو ہر بجلی پانی اور گیس کا بل دیکھ کر آپ کو دل وجان سے یاد کرتا ہے)
ایک بے سرا بانسری نواز
محمد یتیم چوچا ولد محمد قدیم چوچا۔۔
عرف ہیرو سائیں ملوک، المعروف میدا کن کجھورا۔۔۔۔غیر معروف شیدا چام چھٹ ۔
فیس بک کمینٹ

