اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے سوال پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید محمد مہر علی شاہ ، وفاقی وزیروں اور سیاسی لیڈروں نے بھارت کی طرف سے اس معاہدے کو معطل رکھنے کے طریقہ کو سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔
ان تقریروں میں یہ حقیقت واضح تھی کہ بھارت کا عدم تعاون جوہری ہتھیاروں کے حامل دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی کی خطرناک صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔ اگرچہ مقررین نے سفارتی حدود میں رہتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کی لیکن پاکستان کی طرف سے دوٹوک الفاظ میں بتایا گیا کہ یہ معاملہ محض بھارت کی ضد یا خودمختاری سے متعلق نہیں ہے۔ بالائی علاقوں میں دریاؤں کے حامل ممالک اگر نشیب میں آباد ممالک کا پانی روکنے اور کسی قوم کو پیاسا مارنے کا اعلان کرنا شروع کردیں تو یہ دنیا ایک لمحہ بھی امن سے نہیں رہ سکتی۔
سند طاس معاہدہ دنیا بھر میں ایک ایسے معاہدے کے طور پر جانا جاتا ہے جو 1960 میں طے پانے کے بعد سے اب تک موجودہ ہے۔ اس معاہدے میں طے شدہ اصول کے تحت کوئی ایک فریق اس معاہدے کو یک طرفہ طور سے ختم نہیں کرسکتا ۔ تاہم بھارت میں مودی حکومت گزشتہ چند برس سے اس خواہش پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ایک ذمہ دار ملک کے طور پر بھارت کو احساس ہونا چاہئے کہ اگر پاکستانی علاقے کا پانی بند کیا جائے گا یا اس کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ رویہ تادیر برداشت نہیں ہوسکے گا۔ پاکستانی مؤقف کو اس معاہدے کے تحت عالمی ثالث کی تائید بھی حاصل ہے۔ واٹر کمشنر سید محمد مہر علی شاہ نے سیمنار میں بتایا کہ عالمی ثالث نے اس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے بھارتی اعلان کے خلاف پاکستانی مؤقف کی حمایت کی ہے۔ مئی 2026 میں عالمی ثالث نے بھارت کا یہ مؤقف مسترد کردیا کہ بھارت نے چونکہ اس معاہدے کو معطل کیا ہؤا ہے، اس لیے ثالث اس معاملہ کی سماعت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر بھارت عالمی ثالث کے سامنے اس تنازعہ پر کسی شکایت کی پیروی نہ بھی کرے تو بھی ثالث شکایت کا جائزہ لے کر ایوارڈ دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی ثالث نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ حتمی اور ناقابل تبدیلی ہے اور دونوں ممالک اس کی پابندی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس معاہدہ کے حوالے سے سامنے آنے والا تنازعہ صرف اسی معاہدے میں طے کیے گئے اصولوں کے تحت حل کیا جاسکتا ہے۔
بھارت نے گزشتہ سال پہلگام سانحہ کے بعد اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ سال مئی کے شروع میں پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ کے نام سے جنگی کارروئی کی گئی تھی۔ یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی معاملہ طے نہیں کرسکی اور دونوں سیز فائر پر متفق ہوگئے۔ البتہ جنگ ختم ہونے کے باوجود بھارت سندھ طاس معاہدے یا ان تین دریاؤں کے پانی کو پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے جوسندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کا حق ہے۔ اس معاہدہ کے تحت تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو حق دیاگیا تھا جبکہ تین مغربی دریاؤں سندھ ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا استحقاق مانا گیا تھا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر سے نشیب کی طرف بہنے والے ان دریاؤں کا پانی روکنے کا مجاز نہیں ہے۔ پاکستان کے واٹر کمشنر نے بتایا ہے کہ پاکستان ان دریاؤں پر ایسے منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا جس سے پانی کا بہاؤ متاثر نہ ہو لیکن ایسے ڈیم یا منصوبے قبول نہیں کیے جاسکتے جن کے ذریعے بھارت ان دریاؤں کا پانی ذخیرہ کرکے پاکستانی علاقوں کو خشک سالی کا شکار بنا دے۔
واٹر کمشنر مہرعلی شاہ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے ماہرین کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا طریقہ 2023 سے معطل ہے لیکن گزشتہ سال اس معاہدہ کو معطل قرار دینے کے بعد سے بھارتی کمیشن نے پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی مواصلت کا جواب دینا بند کیا ہؤا ہے۔ اس سے پاکستان کو دریاؤں میں بہاؤ کی صورت حال اور سیلاب یا دیگر مسائل کے بارے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ابھی تک عالمی ثالث کے ایوارڈ کے باوجود بھارت نے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے چناب بیاس پراجیکٹ کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریا چناب کا 1،9 ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے بیاس میں شامل کردیا جائے گا تاکہ یہ پانی پاکستان کو نہ مل سکے۔ بھارت اس قسم کے کسی منصوبے پر عمل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ واٹر کمشنر نے بتایا کہ پاکستان کے چوبیس کروڑ شہری اس پانی سے اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ پاکستان میں زیر کاشت رقبے کا 80 فیصد سندھ، چناب اور جہلم سے حاصل ہونے والے پانی کا محتاج ہے۔ اس وقت پاکستان میں زراعت مجموعی قومی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ پورا کرتی ہے جبکہ ورک فورس کی ایک تہائی اس شعبہ سے وابستہ ہے۔ بالائی علاقے میں دریاؤں کو کنٹرول کرنے والا کوئی ملک محض نشیب میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کو پانی سے محروم نہیں کرسکتا۔ پانی کے بحران سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی درحقیقت قومی ایمرجنسی ہوگی۔ اسے پاکستان کے لوگوں کی زندگی اور موت کا سوال کہا جاسکتا ہے۔
پاکستان کا یہ مؤقف صائب اور درست ہے کہ سندھ طاس معاہدہ حتمی ہے اور دونوں ملک اس کے پابند ہیں۔ یہ اتنا اہم اور طاقت ور معاہدہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران بھی اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔لیکن مودی حکومت پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا یک طرفہ الزام لگاتے ہوئے اب اس معاہدے سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن سیاسی بیان بازی میں زمینی حقائق نظر انداز کیے جارہے ہیں۔ دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہوسکتا ہے لیکن کوئی بھی ملک اس عذر پر کسی خطے میں آباد کروڑوں لوگوں کو زندہ رہنے کے حق سے محروم نہیں کرسکتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تو پانی کی تقسیم کے بارے میں معاہدہ موجود ہے لیکن اگر یہ معاہدہ نہ بھی ہو تو بھی کسی ملک کو اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے نشیبی ملک کو جانے والے دریاؤں کے فطری بہاؤ کو روکنے کا حق نہیں دیاجاسکتا۔
ایک طرف بھارت کا یہ غیر منصفانہ اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ ہے تو دوسری طرف محض طاقت پر انحصار کرنے والی دنیا میں اب اصولوں، سفارت کاری یا بات چیت کی بجائے دھونس ذبردستی سے معاملات حل کرنے کی روایت استوار کی جارہی ہے۔ یوکرین میں روس کی جنگ جوئی، غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور ایران کے خلاف امریکی عسکری کارروائی سے یہ صورت حال سنگین ہوئی ہے۔ طاقت ور ملک، کمزور ممالک پر اپنے فیصلے ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم یوکرین اور ایران جنگ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کوئی طاقت ور ملک محض اسلحہ کے زور پر کسی کمزور کو دبا کر اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ سفارتی طریقہ ہی حتمی راہ ہموار کرتا ہے۔ بھارت ضرور ا س گمان میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ وہ بڑا اور طاقت ور ملک ہے اور پاکستان کو پانی سے محروم کرکے وہ اسے سزا دے سکتا ہے لیکن یہ قیاس یک طرفہ اور خطرات سے بھرا ہؤا ہے۔ پاکستان میں اگر پانی کی قلت کی وجہ سے کوئی ناگہانی آفت آتی ہے تو بھارت خود کو اپنے حجم کی وجہ سے تباہی سے بچا نہیں پائے گا۔
اس قسم کا کوئی شدید بحران پیدا ہونے میں شاید کچھ مدت بیت جائے لیکن اس کے امکانات کو نظرانداز کرنا کسی بھی صورت عالمی امن اور پاکستان و بھارت کی کثیر آبادیوں کی فلاح و بہبود اور امن کے لیے مناسب نہیں ہے۔ دانشمندی کا تقاضہ ہوگا کہ تصادم کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی مسئلہ کا کوئی باہمی طور سے قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے۔ پاکستان اور بھارت اگر ایسی پیش رفت میں ناکام رہتے ہیں تو دنیا کی بڑی طاقتوں کو اس معاملہ کی سنگینی سمجھتے ہوئے مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔
اس اندیشے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ پانی کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والی کوئی جنگ مکمل تباہی کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔ اس جنگ کی لپیٹ میں برصغیر ہی نہیں دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اسے جتنی جلدی پڑھ کر سمجھ لیا جائے دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

