کاہنہ لاہور کے ایک ٹیوشن سنٹر حادثہ میں 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت کے ترجمانوں نے اسے نجی اسکول قرار دے کر خود اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز صورت حال کو خود مانیٹر کررہی ہیں۔ اس قسم کے دلاسے البتہ اپنے بچوں سے محروم ہونے والے خاندانوں کا دکھ کم نہیں کرسکیں گے۔
صوبائی حکومت یہ کہتے ہوئے کسی سانحہ کی ذمہ داری سے عہد برآ نہیں ہوسکتی کہ یہ تو نجی اسکول تھا ، کوئی سرکاری اسکول تو نہیں تھا کہ حکومت اس کی دیکھ بھال یا حفاظت کی ذمہ دار ہو۔ لیکن اصل سوال تو یہی ہے کہ حکومت چھوٹے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے کے لیے کیوں مناسب ، محفوظ اور مستحکم ماحول میں تدریس کی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ یہ حادثہ تومحض ایک بہت بڑے مسئلہ کی طرف ایک معمولی اشارہ کرتا ہے۔ اس کی اہمیت سمجھنے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تمام سرکاری وسائل صرف کرکے ہی کوئی حکومت یہ احساس دلا سکتی ہے کہ اسے ایک ناگوار اور افسوسناک حادثہ میں درجن سے زائد معصوم بچوں کی جان جانے کا واقعی دکھ ہؤا ہے اور وہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حادثہ سے تمام بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایکشن پلان بنا رہی ہے۔
اسی طرح عظمی بخاری کے اس اعلان کا نہ جانے کیا مقصد ہے کہ مریم نواز خود صورت حال مانیٹرکررہی ہیں؟ ایک غریب بستی میں ایک ایسے خستہ حال مکان کی چھت گرگئی جس میں علاقے کے غریب خاندانوں کے بچے کم فیس دے کر اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے تھے کیوں کہ وزیر علیٰ اور صوبائی حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی تھی۔ حادثہ اور 14 ننھے بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد تو پولیس نے کارروائی ڈالنے کے لیے مکان کے مالک اور وہاں کام کرنے والے ایک مزدور کو گرفتار کرلیا۔ یہ لوگ چند ماہ جیل کی ہوا کھائیں گے پھر کسی عدالت سے ان کی ضمانت ہوجائے گی۔ اسی طرح بچوں کو ان کے سوگوار والدین نے دفن کردیا اور اس حادثہ پر دکھ کی گہری سانس لے کر رہ گئے۔ اب اس سارے معاملہ میں مانیٹر کرنے کے لیے کیا بچا ہے؟ کیا پنجاب کی صوبائی حکومت اور اس کے ترجمانوں کو یہ احساس بھی نہیں کہ اس قسم کے سانحہ اور بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعہ کو کسی وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا اشتہار بنانے سے گریز کیا جائے۔ لیکن پاکستان کے سفاکانہ سیاسی نظام میں ایسے ہی سانحات خود کو نمایاں کرنے اور ان کا ’کریڈٹ‘ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حالانکہ ان لیڈروں کو علم ہونا چاہئے کہ وہ خواہ اس حقیقت کو تسلیم نہ کریں اور چاہے وزیر اعلیٰ، وزیر اطلاعات یا وزیر تعلیم اس سانحہ کے موقع پر موجود نہیں تھے لیکن درحقیقت مکان کی چھت گرنے سے ہلاک ہونے والے بچو ں کا خون وہ خود اپنے ہاتھوں پر تلاش کرسکتے ہیں۔
صوبائی حکومت یاوزیر اعلیٰ کی ذمہ داری اس حادثہ یا کسی بھی حادثہ کے بعد شروع نہیں ہوتی بلکہ وہ تو سانحہ اور جانیں جانے سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے تاکہ ایسے سانحات پر قابو پایا جاسکے اور کسی غریب خاندان کا کوئی بچہ کسی ناقص عمارت یا ’نجی اسکول‘ میں تعلیم کے لیے جانے کی وجہ سے سانحہ کا شکار نہ ہو۔ اگر کوئی حکومت یہ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہے اور اس حادثہ کے بعد بھی یہ طے کیا جارہا ہے کہ یہ سرکاری اسکول نہیں تھا ، اس لیے حکومت سے سوال نہ کیا جائے تو اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ حکمرانوں میں کوئی احساس ذمہ داری موجود نہیں ہے۔ ورنہ وہ کسی بھی جذباتی انسانی صورت حال کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کی جرات نہ کریں۔ اور وزیر اعلیٰ کی ترجمان 14 بچوں کی موت پر یہ دعویٰ کرکے مطمئن ہونے کی کوشش نہ کرتیں کہ وزیر اعلیٰ صورت حال خود مانیٹر کررہی ہیں۔
محترمہ مریم نواز نے اگر اس سانحہ کے بعد واقعی انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلائیں تو یہ اول تو یہ ایک غیر ضروری کاوش ہے جس سے صورت حال تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسرے اس سانحہ میں مرنے والے یا گرفتار ہونے والے یکساں طور سے مظلوم دکھائی دیتے ہیں۔ بھلا اس مزدور کو کیسے اس حادثہ کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جو دہاڑی لگانے کے لیے وہاں کام کرنے آیا تھا۔ یا اس خاندان اور مالک مکان کو کیسے قصور وار مانا جائے جو تھوڑے سے پیسوں کے لیے ایک اہم سماجی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اور خود تو ریڑھی لگا کر بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ اس سارے معاملہ میں وہ تو محض ایک ایسے کردار کی حیثیت رکھتا ہے جو سماجی ناانصافی کے ماحول میں درجنوں کمزوریوں میں سے ایک کا فائدہ اٹھانے کی اپنی سی کوشش کررہا تھا۔
وزیر اعلیٰ کی ’نگرانی‘ میں پولیس کو کارکردگی دکھانے کے لیے چونکہ چند لوگوں کی گردن درکار تھی تو ان میں ایک مزدور کو بھی شامل کرلیا گیا اور مکان کے چار حصہ داروں میں سے ایک کو پکڑ لیا گیا۔ حالانکہ اگر گرفتار کرنا تھا تو لاہور کارپوریشن کے اس افسر کو گرفتار کیاجاتا جو سستی ، نالائقی یا کسی دوسرے عذر کی وجہ سے ایسی عمارتیں بہتر بنانے کا حکم نہیں دیتے جو کسی بھی وقت منہدم ہوکر انسانی جانوں کی قربانی لے سکتی ہیں۔ یا اس ایجوکیشن ڈائریکٹر کی گرفت کی جائے جو اپنے علاقے میں غیر قانونی طور سے چلائے جانے والے اسکولوں یا ٹیوشن سنٹروں کی نگرانی کرنے اور انہیں بند کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ کاہنہ کا حادثہ چند دن خبر وں میں رہنے کے بعد بھلا دیا جائے گا اور پھر وزیر اعلیٰ بھی کسی دوسرے اہم ’وقوعہ‘ کو مانیٹر کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں گی۔
بنیادی تعلیم کا حصول بچوں کا آئینی حق ہے۔ تعلیم کی فراہمی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن اس سانحہ کے بعد بھی اس بنیادی ذمہ داری پر سوال اٹھانے اور اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پانچ سے سولہ سال عمرکے درمیان اڑھائی کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ صرف پنجاب میں ان کی تعداد 97 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کا حادثہ تو یہ خبر دیتا ہے کہ مجبور اور لاچار ماں باپ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو وہ بنیادی تعلیم دلانے کے لیے کیسے اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جو درحقیقت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
عظمی بخاری کیا اپنی باس سے پوچھ کر یہ معلومات فراہم کریں گی کہ اس سانحہ کے بعد وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں ناقص اسکول بند کرانے اور بچوں کوسرکاری تعلیم فراہم کرنے کا انتظام کرنے کے لیے کون سے اقدامات پر غور کیا ہے اور کیا احکامات جاری کیے ہیں؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

