خواتین و حضرات جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آج کی مجلس، شیخ الحکایاتِ فضول، خانوادہ ء نامعقول، عارفِ سلوکِ گڑگڑاہٹ۔ دشمن دین کے لیئے ( گولیوں کی ) ترتراہٹ ، محدثِ موبائلِ چیدہ چیدہ ، مرشدِ ڈیجیٹل میڈیا، عاشق صادق ڈکشت مادھوری حضرت مولانا گڑگڑوی (صاحب دامت برکاتُہُم العالیہ) کی یاد میں منعقد کی گئی ہے ۔ مولانا صاحب کےاوصاف خمیدہ کچھ سنجیدہ اور باقی سب پیچیدہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ نےساری زندگی لوگوں کو وہ باتیں سمجھائیں جو کہ وہ پہلے سے ہی جانتے تھے۔وہ باتیں سکھائیں جو انہیں شروع سے ہی معلوم تھیں ۔ آپ کے دیئے گئےبےشمار فتوے جو لائق ٹوکری (ردی کی) تھے۔ ابھی تک انسٹاگرام ، ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارمز پر پڑے ہیں ۔ مقام شکر ہے کہ نئی نسل انہیں بڑے اہتمام سے نظر انداز کر رہی ہے (کہ اسی میں ان کی بھلائی ہے)۔
حضرت صاحب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کاتب تقدیر نے آپ کی جائے پیدائش تو کہیں اورلکھی تھی ۔لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ دنیا کے نقشے پر ایک ملک ایسا بھی پایا جاتا ہے کہ جہاں پیدا ہونا خطرے سے خالی نہیں ۔( یقیناً یہ ملک پاکستان ہی تھا) ۔ تو آپ نے اسی ملک میں پیدا ہونا پسند فرمایا۔ ( خطروں کے کھلاڑی جو تھے) ۔ جوان ہوتے ہی جناب پر منکشف ہوا کہ آپ تو "گوڈے گوڈے” قرضوں میں دھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ایسے قرضے تھے جو کبھی آپ نے، نہ آپ کے باپ دادا نے لیئے تھے ۔ لیکن چکانے بہرصورت آپ ہی کو تھے ۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں سے قرضوں کا حجم و دیگر معاملات کا پتہ چلتے ہی، آپ نے یہاں سے بھاگنے کے لیئے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔تھک ہار کے جب آپ نے آواز احتجاج بلند کی۔تو "اگلوں” نے آپ پر ایک کم پورے ڈھائی سو مقدمے درج کرا دیئے۔ وہ تو بھلا ہو قبلہ بڑے گڑگڑوی صاحب کا۔جنہوں نے پریس کانفرس کی راہ دکھلائی۔
خواتین و حضرات جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ قبلہ گڑگڑوی صاحب پردے کے سخت حامی تھے ۔ ان کا بس چلتاتو پاکستان کی ساری خواتین کو برقعہ پہنا دیتے۔ لیکن یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کا میلان ِ طبعی بے پردہ بیبیوں کی طرف کچھ زیادہ ہی تھا ۔ چنانچہ ہر کس و ناکس، بلکہ یہ کس اور وہ کس بھی، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ آپ کا جسدِ خاکی ۔ خواتین بے حجاب کے گرد بکثرت منڈلاتا رہتا تھا ۔ حسن زن تو یہی کہتا ہے کہ آپ انہیں پردے کی اہمیت سے آگاہ فرماتے ہوں گے ۔ مقام صد شکر ہے کہ آپ وقت سے بہت پہلے ہی رحلت فرما گئے ۔ ورنہ اگر کہیں اس دور زندیق میں زندہ ہوتے تو ہمیں یقین ہے کہ سب سے پہلے آپ کے ہی نیفے میں پستول چلنا تھا۔
آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھےاور اس بات پریقین کامل رکھتے تھے کہ کدو کی توہین کرنے والا کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اسی لیئے آپ کے ہاں ہر جمعرات کو کدو شریف کا لنگر تقسیم کیا جاتا تھا۔ آپ کے بقول اسرائیل کو گالی دینے سے اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ شریعت کے مطابق کھیرا کاٹنے کا ۔چنانچہ حصول ثواب کی نیت سے آپ صبح و شام اسرائیل کی طرف منہ کر کے خوب گالیاں ارشاد فرماتے اور دونوں ہاتھوں سے ثواب دارین کی دولت لوٹا کرتے تھے۔آپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ عہد جوانی میں بھی آپ حدود شرعیہ کا بہت خیال رکھتے تھے۔۔ آپ غیرت اسلامی میں اس قدر گندھے ہوئے تھے کہ جب تک صنف نازک شرعی پردہ نہ اختیار کر لیتی ۔آپ اس کے ساتھ ” ڈیٹ” پر نہیں جاتے تھے۔ ۔ بلکہ پروگرام بننے سے پہلے ہی صاف لفظوں میں فرما دیا کرتے تھے کہ پہلے پردہ شرعی اختیار کرو پھر ڈیٹ پر چلوں گا۔ آپ بہت باکردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ ہمیشہ وہ بات کہتے ، جو خود نہیں کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دل کی گہرائیوں سے سچے پاکستانی اور پکے مسلمان تھے۔ایک زمانے میں۔ آپ کے جسد خاکی نے سیاست میں بھی طبع آزمائی کی تھی اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ بات کر کے جگہ پرمنکر ہو جاتے تھے۔ مطلب گرم جگہ پاؤں نہیں رکھتے تھے۔البتہ جہاں اپنا فائدہ نظر آتا۔۔ وہاں ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔آپ کے بارے میں بلا خوف و خطر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اصولوں پر کبھی بھی سودے بازی نہیں کی تھی ہاں اس کی کوشش ضرور کرتے رہے ۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مولانا گڑگڑوی صاحب اتحاد امت مسلمہ کے بہت بڑے داعی و علمبردار تھے آپ کی دلی خواہش تھی کہ نیل کے ساحل سے لے کر، تابخاک کاشغر ساری دنیا کے لوگ مسلمان ہو جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دل میں یہ تڑپ بھی موجود تھی کہ ا ے کاش انہیں کسی کافر (یورپی) ملک کی شہریت مل جائے ۔اور وہ کسی ایسے شہر جا بسیں جو کہ ساحل سمندر کے قریب پڑتا ہو۔ اس تڑپ کا اصل مقصد یہ تھا کہ مختصر لباس پہن کر غسل آفتابی کرنے والی فرنگی عورتوں کو نور اسلام سے منور کیا جا سکے۔اس سلسلہ میں آپ نے ایک دفعہ حج کی بجائے، (اس طرف )ہجرت کی کوشش بھی کی تھی تا کہ بکنی پہننے والی کافر خواتین کو سمجھا بجھا کر دائرہ اسلام میں لا یا جا سکے۔ لیکن یہاں بھی قبلہ بڑے گڑگڑوی صاحب آڑے آ گئے۔ضد کرنے لگے کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو کہ میں اس سعادت دنیاوی و ثواب ا خروی سے محروم نہیں رہنا چاہتا ۔لیکن ان کی پیرانہ سالی کو دیکھتے ہوئے آپ نے ہجرت کا ارادہ ( عارضی طور پر)موقوف کر دیا تھا ۔ تاہم پرکھوں سے شنید ہے کہ آپ اہل فرنگ کی ” نیلی پیلی ” فلمیں بکثرت دیکھا کرتے تھے۔ اس کا مقصد ظاہر ہے حصول علم و معلومات کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟۔ اس سلسلہ میں آپ کا فرمان عالیشان بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ میں اس قسم کی فلمیں اس لیے دیکھتا ہوں تاکہ جان سکوں کہ انسان پر شیطان اور نفس امارہ کتنے زاویوں ،اور کس کس سمت سے حملہ آور ہوتا ہے۔ مختصرا ً ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کے اس دار فانی سے پردہ کرنے پر جس علمی خلا نے جنم لیا تھا۔اسے تو پُر ہوئے عرصہ بیت گیا ۔چنانچہ گڑگڑوی صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کا اب ایک ہی طریقہ بچا ہے کہ آپ کے دیئے ہوئے فتوں اور لکھے گئے لٹریچر سے جس قدر ممکن ہو اجتناب برتا جائے۔
فیس بک کمینٹ

