کوئٹہ : انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سنا دی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون کے جج محمد علی مبین نے پیر کے روز یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا جب نہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر گرفتار رہنماؤں اور ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ کیا بلکہ گرفتار رہنما ڈسٹرکٹ جیل ہدہ میں 12 جون سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ شاہ اور دیگر کے خلاف یہ مقدمہ 2024 میں گوادر میں ’بلوچ راجی مچی‘ نامی جلسے میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے درج ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ عدالت نے اس مقدمے میں دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یاد رہے بی وائی سی نے 28 جولائی 2024 میں گوادر میں ہونے والے اجتماع کو میرین ڈرائیو پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اس دوران گوادر سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع میں چھوٹے بڑے دھرنے دیے گئے تھے اور بی وائی سی کے کارکنان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
پیر کو نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنی بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف فیصلے کو ایک ’فیس لیس عدالت‘ کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 12 جون سے بی وائی سی کے رہنماؤں نے عدالت کے خلاف نہ صرف دھرنا دیا تھا بلکہ ان کے علاوہ ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ بائیکاٹ کے دوران حکومت کی جانب سے ماہ رنگ اور دیگر رہنماؤں کے لیے وکیل مقرر کیا گیا، لیکن ان تمام افراد نے سرکار کی جانب سے مقرر کردہ وکلا کو مسترد کیا تھا۔
انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ’جس شخص پر ایف سی اہلکار کو مارنے کا الزام تھا اسے پہلے ہی بری کر دیا گیا تھا جبکہ جن لوگوں نے تقریر کی، ان کو سزا سنائی گئی۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف مقدمات
گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کو دیگر کیسز کا بھی سامنا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر کئی رہنماؤں کو گذشتہ برس مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس دوران ان کے خلاف تین مزید مقدمات بھی قائم کیے گئے۔
ان کے خلاف تین افراد کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے، جو بی وائی سی کے ایک دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

