کراچی : انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچ یوتھ کونسل (بی وائے سی) کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کو بری کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ ان کے بیانات کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کے تحت گذشتہ برس 11 اکتوبر کو درج کیا گیا تھا۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر پانچ کے جج ایاز مصطفیٰ جوکھیو نے بریت کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف درج ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ مختلف دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہیں، ان کی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں، نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں، ریاست کے خلاف دشمنی کو بڑھاوا دیتی ہیں اور قومی مفاد کے خلاف کام کرتی ہیں۔
وکیل اور سماجی کارکن جبران بلوچ نے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے فیصلے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست بلوچ آوازوں کے خلاف بدنیتی سے کارروائی کرتی ہے اور شہری ادارے ان کے بنیادی حقوق کو بروقت یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس مقدمے میں شکایت کنندہ خود اسی تھانے میں تین ایف آئی آرز کا ملزم تھا اور اسے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ پولیس کو مجبور کیا گیا کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے ماہ رنگ بلوچ کے خلاف چالان پیش کرے۔
جبران بلوچ کے دعوے کے مطابق استغاثہ پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قانونی بنیاد کے بغیر مقدمہ چلائے اور اب عدالتی فیصلے سے یہ عیاں ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ نے ماہ رنگ بلوچ کو 13 ماہ تک ایک جھوٹے مقدمے میں الجھائے رکھا، حالانکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کئی ماہ پہلے ہی اس ہراسانی کو ختم کر سکتے تھے جب ہم نے درخواست اور اپیل دائر کی تھی۔
ان کی رائے میں ’یہ بریت پاکستان بھر میں حقوق کے کارکنوں کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ریاست بی وائے سی رہنماؤں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر رہی ہے، انھیں قید میں رکھے ہوئے ہے اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ان پر پابندیاں لگا رہی ہے، بطور افراد اور بطور تنظیم دونوں حیثیت میں کام کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘
جبران بلوچ نے کہا کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے بی وائے سی کی قیادت کی وکالت کی اور بلوچستان اور بلوچ عوام کے حقوق کی ان کی جائز سیاسی جدوجہد میں معاونت کی ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )

