کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مرتبہ پھر موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ میں موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سروس کی معطلی کا سلسلہ جمعرات کی شام شروع ہوگیا تھا تاہم سرکاری حکام کی جانب سے شہر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
اس سے قبل بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی تھی تاہم 23 مارچ کی شام اسے بحال کردیا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے شہر میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو ایک مرتبہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار ہونے والے دیگر رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔جہاں ان گرفتاریوں کے خلاف بی وائی سی کے زیر اہتمام بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے وہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ضلع خضدار کے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کیا جارہا ہے۔مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے اگر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں اور کارکنوں کو رہا نہیں کیا گیا تو لانگ مارچ کو دھرنے میں تبدیل کیا جائے گا۔تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ دفعہ 144کے نفاذ کے باعث شاہراہوں پر احتجاج کی اجازت نہیں اور بی این پی کو احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینی پڑے گی۔
پریس کلب کوئٹہ کے سامنے سڑکیں سیل
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے پیش نظر جمعرات کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا۔پولیس کی جانب سےسختی کے باعث صحافیوں کو بھی پریس کلب آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بدھ کے روز کوئٹہ شہر میں کارکنوں کی گرفتاری اور شیلنگ کی وجہ سے بی وائی سی کوئٹہ شہر میں احتجاج نہیں کرسکی تھی جبکہ جمعرات کو بی وائی سی کے پریس کلب کے باہر احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پریس کلب کے سامنے نہ صرف شارع عدالت کو دونوں اطراف سے سیل کیا تھا بلکہ اس کے سامنے والی روڈ کو سیل کیا گیا تھا۔جمعرات کو پریس کلب میں جماعت اسلامی کے رہنماوں کو پریس کانفرنس کرنی تھی لیکن پارٹی کے متعدد مقامی رہنمائوں کو پولیس نے پریس کلب آنے نہیں دیا۔پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنما زاہد اختر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان کو ویسے جیل میں تبدیل کردیا ہے اب پریس کلب کے سامنے بھی پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔دوسری جانب بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کہنا ہے کہ حب سے بی وائی سی کی دو خواتین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

