Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جون 23, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
  • کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
  • روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ
  • سفارتی کامیابی کے بعد وزیر اعظم قومی مسائل پر بھی توجہ دیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پیٹرول کی قیمت میں 74 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان
  • امریکا اورایران کے درمیان سوئس مذاکرات ملتوی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
تجزیے

ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ایڈیٹرجون 23, 202615 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
mah rang baloch
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

بلوچستان کی  ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی صبغت اللہ شاہ جی کو فرنٹیر کورپس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزائیں غیر معمولی طور پر سخت ہونے  کے ساتھ  بلوچستان کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے بے یقنی میں اضافہ کا سبب بنیں گی۔

ماہرنگ بلوچ نے بلوچستان یک جہتی کمیٹی کے نام سے ایک ایسی عوامی تحریک کا آغاز کیاتھا جس میں گھریلو خواتین کی اکثریت شامل تھی ۔  اس تنظیم کے تحت   دسمبر  2023میں خواتین اور پر امن بلوچ شہریوں کی کثیر تعداد نے  ایک شخص کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا ۔اور ایک ماہ تک  دارالحکومت میں پر امن دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے دوران  اس احتجاج کے جائز مطالبوں، شرکا میں خواتین اور دیگر اہل خاندان کی شرکت اور ماہرنگ بلوچ کی ولولہ انگیز قیادت کی وجہ سے سول سوسائیٹی اور میڈیا کی خاص توجہ حاصل کی۔ متعدد تنظیموں کی طرف سے دھرنے میں شریک لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنے اور سردیوں کے موسم میں ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں یکجہتی کمیٹی نے ایسے ہی متعدد دیگر دھرنے بھی منظم کیے اور سلجھے ہوئے طریقے سے احتجاج کرنے پر داد حاصل کی۔

مارچ  2025 میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد  بلوچ یکجہتی کمیٹی نے   ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کے حصول کے لیے احتجاج شروع کیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر پر امن احتجاج کا راستہ ترک کرکے  سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم اور ٹکراؤ کاراستہ اختیار کیا۔ اسی تنازعہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بیشتر لیڈر گرفتار ہوئے۔  ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو پہلے پبلک مین ٹیننس آرڈی ننس کے تحت گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں ان پر گوادر میں ایک احتجاج کے دوران فرینٹر کورپس کے ایک  اہلکار کی ہلاکت کا الزام عائد ہؤا۔ یک جہتی کمیٹی کے مشتعل کارکنوں نے ایف سی  کے دستے پر پتھراؤ کیا تھا ۔  متعلقہ اہلکار اسی پتھراؤ میں شدید زخمی اور بعد میں جاں بحق ہوگیا۔   تشدد کے دیگر متعدد واقعات کی طرح اس سانحہ کی بھی متعدد  وضاحتیں دی جاسکتی ہیں لیکن ایک ایسی پر امن تحریک کا پرتشدد ہوجانا جس نے خواتین کی سربراہی میں ایک پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع دیا تھا، بلوچ سیاست کے لیے شدید دھچکے کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سوال پر بھی بحث کی جاسکتی ہے کہ ایک پرامن تحریک کیوں کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی اور اس کے  بالغ النظر اور پڑھے لکھے لیڈر    کس طرح تشدد کی ان کارروائیوں  کی  قیادت  کرنے لگے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے اسی الزام کے تحت ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ کہنا بے حد مشکل ہے کہ اب  یہ نوجوان اور باصلاحیت خاتون کب جیل کی سلاخوں سے رہا ہوسکے گی لیکن ایک  عمدہ، باصلاحیت اور ایک پر امن تحریک کا آغاز کرنے والی لیڈر کایہ انجام یک طرف عبرت ناک ہے تو دوسری طرف بلوچ سیاست کے تناظر میں بے حد افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی اور حکومت باہم مل جل کر ان اختلافی موضوعات پر بات چیت کرلیتے اور کوئی ایسا راستہ اختیار کیاجاتا کہ براہ راست تصادم کی نوبت نہ آتی۔  بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے میں ریاستی بیانیہ کا حصہ بننے کی بجائے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا جن کے بھارتی ایجنسیوں سے روابط کا پردہ فاش ہوچکا تھا۔  اس دوران  دہشت گردوں کی لاشیں حاصل کرنے اور ان پر اپنا حق جتاتے ہوئے بعض عناصر نے بلوچ یک جہتی کمیٹی کو پر امن طور سے مطالبے پیش کرنے کی بجائے پولیس تھانوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ حکمت عملی ناکام رہی۔ اب اس تحریک کے لیڈروں  کو پیچیدہ اور مشکل عدالتی طریقہ کار کا سامنا ہے۔

یہ  مان لینے کے باوجود کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے ایک مرحلے پر ٹھوکر کھائی اور متعدد غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کیے۔ تاہم یہ باور کرنے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ماہ رنگ بلوچ اور یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی نیت صرف احتجاج  ہی کی حد تک تھی۔ یہ لوگ کسی کو ہلاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ  تصادم کی صورت میں کسی کو بھی حتمی نتائج کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس معاملہ میں بھی اسی قسم کی صورت حال پیدا ہوئی ہوگی۔    بلوچستان میں محرومیوں اور قوم پرست تحریکوں کی  ایک طویل داستان رقم ہے۔ اب بھی متعدد گروہ ریاست کے خلاف ’آزادی‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی صوبے میں لاپتہ افراد کا معاملہ بھی ایک سنگین  مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملکی عدالتوں کی مداخلت اور سیاسی قیادت کے وعدوں کے باوجود لاپتہ افراد کا معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوسکا۔ نہ ہی ریاست نے کبھی اپنی غلط حکمت عملی کو قبول کیا اور نہ ہی بے گناہ لوگوں کو رہا کرنے  یا ان پر باقاعدہ مقدمے چلا کر سزائیں دلانے کا  اقدام ہو سکا ہے۔

بلوچستان کی سیاست اور محرومیوں کے تناظر میں بلوچ یک جہتی کمیٹی جیسی عوامی اور پر امن تحریکوں کو عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور سیاسی قیادت کو ان کی کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اس طرح عوامی غم و غصہ کا اظہار بھی ہوتا ہے اور حکمران زمینی حقائق سے بھی آگاہ  ہوسکتے ہیں۔   ایسی ہی کوئی تحریک درحقیقت  بلوچستان کی سیاست سے غلط فہمیاں دور کرنے اور عوام  کے حقوق  کی بحالی کے لیے کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریکوں کو بیرونی عناصر کی مداخلت اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب  حکومت بھی پر امن احتجاج کی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے گروہوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے اور کچھ مطالبے منوانے کا موقع فراہم کرے گی۔

حکومت کو ماہ رنگ بلوچ ور اس کے ساتھیوں کے معاملات  کو ایک خاص اضطراری ماحول میں سامنے آنے والے رد عمل اور اس کے افسوسناک نتائج  ہی کی روشنی میں نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ بلوچستان سیاست کے وسیع تر تناظر میں اس کا جائزہ لیتے ہوئے ایسی پرامن تحریک کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ موجودہ حالات میں بلوچ عوام کے ساتھ پل بنانے اور ان کی ناراضی جاننے کا اس سے بہتر کوئی  دوسرا   ذریعے نہیں ہوسکتا۔

( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleگوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا

جون 22, 2026

کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی

جون 22, 2026

کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم

جون 21, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 23, 2026
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا جون 22, 2026
  • کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی جون 22, 2026
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم جون 21, 2026
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.