بلوچستان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی صبغت اللہ شاہ جی کو فرنٹیر کورپس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزائیں غیر معمولی طور پر سخت ہونے کے ساتھ بلوچستان کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے بے یقنی میں اضافہ کا سبب بنیں گی۔
ماہرنگ بلوچ نے بلوچستان یک جہتی کمیٹی کے نام سے ایک ایسی عوامی تحریک کا آغاز کیاتھا جس میں گھریلو خواتین کی اکثریت شامل تھی ۔ اس تنظیم کے تحت دسمبر 2023میں خواتین اور پر امن بلوچ شہریوں کی کثیر تعداد نے ایک شخص کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا ۔اور ایک ماہ تک دارالحکومت میں پر امن دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے دوران اس احتجاج کے جائز مطالبوں، شرکا میں خواتین اور دیگر اہل خاندان کی شرکت اور ماہرنگ بلوچ کی ولولہ انگیز قیادت کی وجہ سے سول سوسائیٹی اور میڈیا کی خاص توجہ حاصل کی۔ متعدد تنظیموں کی طرف سے دھرنے میں شریک لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنے اور سردیوں کے موسم میں ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں یکجہتی کمیٹی نے ایسے ہی متعدد دیگر دھرنے بھی منظم کیے اور سلجھے ہوئے طریقے سے احتجاج کرنے پر داد حاصل کی۔
مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کے حصول کے لیے احتجاج شروع کیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر پر امن احتجاج کا راستہ ترک کرکے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم اور ٹکراؤ کاراستہ اختیار کیا۔ اسی تنازعہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بیشتر لیڈر گرفتار ہوئے۔ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو پہلے پبلک مین ٹیننس آرڈی ننس کے تحت گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں ان پر گوادر میں ایک احتجاج کے دوران فرینٹر کورپس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کا الزام عائد ہؤا۔ یک جہتی کمیٹی کے مشتعل کارکنوں نے ایف سی کے دستے پر پتھراؤ کیا تھا ۔ متعلقہ اہلکار اسی پتھراؤ میں شدید زخمی اور بعد میں جاں بحق ہوگیا۔ تشدد کے دیگر متعدد واقعات کی طرح اس سانحہ کی بھی متعدد وضاحتیں دی جاسکتی ہیں لیکن ایک ایسی پر امن تحریک کا پرتشدد ہوجانا جس نے خواتین کی سربراہی میں ایک پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع دیا تھا، بلوچ سیاست کے لیے شدید دھچکے کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سوال پر بھی بحث کی جاسکتی ہے کہ ایک پرامن تحریک کیوں کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی اور اس کے بالغ النظر اور پڑھے لکھے لیڈر کس طرح تشدد کی ان کارروائیوں کی قیادت کرنے لگے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے اسی الزام کے تحت ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ کہنا بے حد مشکل ہے کہ اب یہ نوجوان اور باصلاحیت خاتون کب جیل کی سلاخوں سے رہا ہوسکے گی لیکن ایک عمدہ، باصلاحیت اور ایک پر امن تحریک کا آغاز کرنے والی لیڈر کایہ انجام یک طرف عبرت ناک ہے تو دوسری طرف بلوچ سیاست کے تناظر میں بے حد افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی اور حکومت باہم مل جل کر ان اختلافی موضوعات پر بات چیت کرلیتے اور کوئی ایسا راستہ اختیار کیاجاتا کہ براہ راست تصادم کی نوبت نہ آتی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے میں ریاستی بیانیہ کا حصہ بننے کی بجائے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا جن کے بھارتی ایجنسیوں سے روابط کا پردہ فاش ہوچکا تھا۔ اس دوران دہشت گردوں کی لاشیں حاصل کرنے اور ان پر اپنا حق جتاتے ہوئے بعض عناصر نے بلوچ یک جہتی کمیٹی کو پر امن طور سے مطالبے پیش کرنے کی بجائے پولیس تھانوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ حکمت عملی ناکام رہی۔ اب اس تحریک کے لیڈروں کو پیچیدہ اور مشکل عدالتی طریقہ کار کا سامنا ہے۔
یہ مان لینے کے باوجود کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے ایک مرحلے پر ٹھوکر کھائی اور متعدد غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کیے۔ تاہم یہ باور کرنے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ماہ رنگ بلوچ اور یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی نیت صرف احتجاج ہی کی حد تک تھی۔ یہ لوگ کسی کو ہلاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ تصادم کی صورت میں کسی کو بھی حتمی نتائج کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس معاملہ میں بھی اسی قسم کی صورت حال پیدا ہوئی ہوگی۔ بلوچستان میں محرومیوں اور قوم پرست تحریکوں کی ایک طویل داستان رقم ہے۔ اب بھی متعدد گروہ ریاست کے خلاف ’آزادی‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں لاپتہ افراد کا معاملہ بھی ایک سنگین مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملکی عدالتوں کی مداخلت اور سیاسی قیادت کے وعدوں کے باوجود لاپتہ افراد کا معاملہ پوری طرح حل نہیں ہوسکا۔ نہ ہی ریاست نے کبھی اپنی غلط حکمت عملی کو قبول کیا اور نہ ہی بے گناہ لوگوں کو رہا کرنے یا ان پر باقاعدہ مقدمے چلا کر سزائیں دلانے کا اقدام ہو سکا ہے۔
بلوچستان کی سیاست اور محرومیوں کے تناظر میں بلوچ یک جہتی کمیٹی جیسی عوامی اور پر امن تحریکوں کو عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور سیاسی قیادت کو ان کی کمزوریوں کی طرف رہنمائی کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اس طرح عوامی غم و غصہ کا اظہار بھی ہوتا ہے اور حکمران زمینی حقائق سے بھی آگاہ ہوسکتے ہیں۔ ایسی ہی کوئی تحریک درحقیقت بلوچستان کی سیاست سے غلط فہمیاں دور کرنے اور عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریکوں کو بیرونی عناصر کی مداخلت اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب حکومت بھی پر امن احتجاج کی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے گروہوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے اور کچھ مطالبے منوانے کا موقع فراہم کرے گی۔
حکومت کو ماہ رنگ بلوچ ور اس کے ساتھیوں کے معاملات کو ایک خاص اضطراری ماحول میں سامنے آنے والے رد عمل اور اس کے افسوسناک نتائج ہی کی روشنی میں نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ بلوچستان سیاست کے وسیع تر تناظر میں اس کا جائزہ لیتے ہوئے ایسی پرامن تحریک کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ موجودہ حالات میں بلوچ عوام کے ساتھ پل بنانے اور ان کی ناراضی جاننے کا اس سے بہتر کوئی دوسرا ذریعے نہیں ہوسکتا۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )

