محرم الحرام شروع ہو چکا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ احترام اور حرمت کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کے دوران جنگ و جدل ممنوع قرار دی گئی تھی۔ لیکن گزشتہ چودہ صدیوں سے یہ مہینہ واقعۂ کربلا کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
واقعۂ کربلا کے دوران دس محرم کو چند گھنٹوں پر مشتمل ایک جنگ نواسۂ رسولؐ، امام حسین علیہ السلام، اور یزید کے نمائندوں کے درمیان لڑی گئی۔ اگرچہ جنگ کا نتیجہ بظاہر یک طرفہ رہا اور یزیدی فوج فتح یاب ہوئی، لیکن سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے امام حسینؑ یہ جنگ جیت گئے۔ اسی لیے امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے نام تاریخِ عالم میں امر ہو گئے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اس سانحے کی یاد مناتی ہے اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
اس جنگ کو امامت اور ملوکیت کے درمیان ایک تاریخی معرکے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مذہبی اور غیر مذہبی، دونوں طرح کے انسان دوست افراد اس واقعے سے ظلم کے خلاف مزاحمت اور انسانی وقار کے تحفظ کا سبق حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ظلم و جبر کے لیے "یزیدیت” اور اس کے خلاف مزاحمت کے لیے "حسینیت” بطور استعارہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس سال محرم کے آغاز کے ساتھ ہی، دو محرم الحرام کو، ایران سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ گلوکارہ پرستو احمدی اور ان کے کم از کم آٹھ ساتھیوں کو ایک مزاحمتی گیت گانے کے جرم میں 74، 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس گیت کا مرکزی پیغام وطن سے محبت، ظلم کے خلاف مزاحمت اور شہیدوں کی قربانیوں کی یاد ہے۔ شاعر ایک طرف بہار، پھولوں اور زندگی کی خوب صورتی کا ذکر کرتا ہے اور دوسری طرف وطن کے نوجوانوں کے بہائے گئے خون کو یاد کرتا ہے۔ اس کے مطابق شہداء کے لہو سے لالے کھل اٹھے ہیں، درخت سوگوار ہیں اور بلبل غم سے خاموش ہو گئی ہے۔ شاعر زمانے کی بے انصافی اور جبر پر احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ اگر ان کے دل میں وطن کی محبت موجود ہے تو وہ ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کریں، اپنے وطن کو عزت دیں اور دشمن کے تیروں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں۔ گیت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قربانی، آزادی اور انسانی وقار ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
1979ء کے ایرانی مذہبی انقلاب کے بعد سے خواتین کو مختلف نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں جرمانے، مختصر یا طویل قید، 74 کوڑوں تک کی سزا، سفری پابندیاں، ملازمت اور تعلیم پر پابندیاں، گاڑیوں کی ضبطی، کاروبار یا دکانوں کی بندش، "اخلاقی” یا مذہبی تربیتی کلاسوں میں شرکت کے احکامات، اور سوشل میڈیا و آن لائن سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ بعض سنگین الزامات کے تحت طویل قید کی سزائیں بھی دی گئی ہیں، جبکہ 2024ء کے متنازع قانون میں بعض حالات میں سزائے موت کی گنجائش بھی شامل کی گئی تھی۔
مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کے دوران ہزاروں خواتین گرفتار کی گئیں۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی رپورٹس میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا ذکر موجود ہے، اگرچہ مجموعی تعداد کے بارے میں اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دسیوں ہزار خواتین کی گاڑیاں حجاب قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ضبط کی گئیں۔ 2024ء اور 2025ء کے دوران نگرانی کے لیے کیمرے، چہرہ شناسی، ڈرون اور دیگر جدید ذرائع استعمال کیے گئے تاکہ خواتین کے لباس کی نگرانی کی جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں قائم مذہبی آمریت کے نمائندہ مذہبی افراد اثناعشری شیعہ ہیں۔ مسلمانوں کا یہ مکتبۂ فکر خود کو حسینیت کا علم بردار قرار دیتا ہے۔ یہ تضاد سمجھ سے بالاتر ہے کہ امام حسینؑ کے یہ دعوے دار پیروکار خواتین پر جبر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
واقعۂ کربلا میں دس محرم کے سانحے کے بعد خانوادۂ رسولؐ کی خواتین نے اس واقعے کی ترویج اور اس کے پیغام کی اشاعت میں اہم سیاسی کردار ادا کیا۔ ان خواتین کی قیادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کی۔ انہیں یزیدی فوج نے قیدی بنا کر کوچہ و بازار میں پھرایا اور ان کی بے حرمتی کی۔ ان پر مختلف مظالم ڈھائے گئے، جن میں جسمانی تشدد اور کوڑوں کی سزائیں بھی شامل تھیں۔ ان کے سروں سے چادریں اتار دی گئیں اور انہیں قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہیں یزید بن معاویہ کے دربار میں بھی پیش کیا گیا۔
دربار میں حضرت زینبؑ نے اپنا مشہور خطبہ دیا، جس میں انہوں نے یزید کو تنبیہ کی کہ وہ قرآنی آیات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت زینبؑ کے نام لیوا اپنے مذہبی عقائد کو ایرانی خواتین پر جبر و استبداد مسلط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنی مذہبی آمریت کو برقرار رکھ سکیں۔
آئیے اس محرم الحرام میں یہ عہد کریں کہ ہم ہر قسم کے ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کریں گے، مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گے، اور ظلم کرنے والوں کو پہچان کر ان کی مذمت کریں گے، خواہ انہوں نے اپنے بدنما چہروں پر حسینیت کا نقاب ہی کیوں نہ اوڑھ رکھا ہو۔