نیو یارک : فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں سپین دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا کو ایک صفر سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپیئن بن گیا ہے۔
امریکی ریاست نیویارک کے نیو جرسی سٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ فائنل میں کھیل کے مقررہ 90 منٹ میں دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کر پائیں اور یوں میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔
فیصلہ کن گول سپین کے فیران ٹوریس نے اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں کیا جس سے سپین کو برتری حاصل ہوئی اور پھر اس فتح کے ساتھ سپین نے 16 سال بعد دوسری بار ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ارجنٹینا اور سپین کے درمیان ورلڈ کپ کی ٹرافی کے لیے سخت مقابلہ جاری رہا اور آخرکار کھیل کے تقریبا 105 منٹ سے زائد گزرنے کے بعد سپین نے پہلا گول حاصل کر کے برتری حاصل کی۔
جیت کے لیے درکار اس گول کی ابتدا سپین کے نیکو ولیمز اور پیڈرو پورو کی عمدہ پیش قدمی سے ہوئی تھی جب سپین کے پیڈرو پورو نے گیند دور پوسٹ کی جانب بھیجی جہاں نیکو ولیمز نےاسے برقرار رکھا اور سر کے ذریعے اسے آگے بڑھا دیا۔
اس کے بعد ٹوریس نے وہ طاقتور شاٹ لگایا، جو سیدھا نیٹ کی چھت میں جا لگا۔ ٹوریس کے شاندار گول کے ساتھ سپین نے میچ میں برتری حاصل کی۔
اس سے قبل عالمی کپ جیتنے کا اعزاز ارجنٹینا کے پاس رہا تھا۔ اس میچ کی خاص بات یہ بھی رہی کہ لیونل میسی نے اپنے کیریئر کا تیسرا ورلڈ کپ فائنل کھیلا۔
تاہم یہ ورلڈ کپ کا واحد میچ تھا جہاں میسی پچ پر اپنا معمول کا جادو دکھانے میں ناکام رہے اور کوئی گول نہ کر سکے۔
بین الاقوامی فٹبال میں ارجنٹینا کو اکثر ایک روایتی منفی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، خصوصاً انگلینڈ کے شائقین کی جانب سے۔ سپین کے خلاف بھی پہلے ہاف میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ خود فٹبال کھیلنے کے بجائے کھیل کے کسی بھی بہاؤ کو روکنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔
لیاندرو پاریڈیس اس حکمت عملی کے مرکزی کردار تھے جبکہ اینزو فرنانڈیز ان کے معاون تھے۔
اگرچہ ارجنٹینا کے چار کھلاڑیوں کو پیلا کارڈ دکھایا گیا، بہت سے لوگوں کا خیال ہو گا کہ اس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں انھیں حکام کی جانب سے قدرے نرم رویہ ملا۔
ارجنٹینا نے مجموعی طور پر 464 پاسز کیے جبکہ سپین نے 852۔
لیکن انگلینڈ کے خلاف میچ کے برعکس، سپین دوسرے ہاف میں بکھرا نہیں۔ اگر وہ ٹوریس کے 106ویں منٹ کے گول سے بہت پہلے یہ میچ جیت لیتے تو شاید ہی کسی کو شکایت ہوتی۔
ارجنٹینا کے ایمیلیانو مارٹینیز کو 11 سیوز کرنا پڑے، جو ورلڈ کپ فائنل میں کسی بھی گول کیپر کی جانب سے ریکارڈ ہے۔
دوسری جانب، دفاعی چیمپیئن ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی ٹیم بنی جو فائنل کے 90 منٹ میں ایک بھی شاٹ نہ لگا سکی۔ ان کی پہلی کوشش 117ویں منٹ میں دباؤ کا شکار لیونل میسی کے ذریعے سامنے آئی۔
ارجنٹینا نے اپنا تاج کھو دیا اور سیٹی بجنے کے بعد کے مناظر نے بہت سوں کو یہ محسوس کرایا کہ انھوں نے اپنا وقار بھی کھو دیا ہے۔
فرنانڈیز کو پہلے احتجاج کرنے پر پیلا کارڈ دکھایا گیا۔ پھر ایک انتہائی تاخیر سے کی گئی ٹیکل پر دوسرا پیلا کارڈ ملا جس سے کوبارسی قلابازیاں کھاتے ہوئے گرے۔
میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

