اُ س پری رخ کا پیکر
غزل کے کسی شعر یا نظم کی روپ میں
ڈھالنے کے لیے لفظ بے چین ہیں
لفظ دل کی ہر ا ک بات ہونٹوں پہ لانے کی کوشش میں مدت سے مصروف ہیں
لفظ مجبور ہیں
لفظ مجبور ہیں اور آ نکھوں کے رستے
ستاروں کی صورت یونہی جگمگانے کے
قائل بھی ہیں
لفظ گھائل بھی ہیں
لفظ میری طرح
لفظ میری طرح چند اچھے دنوں کی تمنا لیے
ایک مدت سے زندہ ہیں مرتے نہیں
لفظ ڈرتے نہیں
لفظ ڈرتے بھی ہیں
لفظ ڈرتے ہیں اس ایک گھڑی سے کہ جب
وصل موسم میں بھی ہجر موسم کی باتیں
لبوں پر سجانے کی مہلت نہ ہو
ان میں ہمت نہ ہو
لفظ بے چین ہیں
( کتاب : دن بدلیں گے جاناں ۔۔ اشاعت 1995 )
فیس بک کمینٹ

