پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ یہاں قیادت کا بحران محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی المیہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک قوم ایک ایسی قیادت کی متلاشی رہی ہے جو نہ صرف فکری طور پر بالغ ہو بلکہ عوامی شعور کی ترجمان بھی ہو۔ مگر بدقسمتی سے یہ خلا کبھی پُر نہ ہو سکا۔ اسی خلا نے ایک ایسا ذہنی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا جس میں اقتدار مخصوص طبقات کے گرد گھومتا رہا اور عوام محض تماشائی بن کر رہ گئے۔
اسی پس منظر میں جب ذوالفقار علی بھٹو منظرِ عام پر آئے تو وہ محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تحریک کے نمائندہ بن کر ابھرے۔ ان کی شخصیت میں ایک غیرمعمولی کشش، ایک فکری گہرائی اور ایک عوامی ربط موجود تھا۔ وہ اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھنے والے نابغہ روزگار رہنما تھے۔ انہوں نے اس دور میں جب دنیا دو بڑے بلاکوں ۔۔ سوشلسٹ اور سرمایہ دار۔۔میں تقسیم تھی، تیسری دنیا (Third World) کا تصور پیش کر کے کمزور اقوام کو ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کی۔
بھٹو کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انھوں نے سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عوامی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ وہ گونگوں کو زبان دینے والے، محروموں کو حوصلہ دینے والے اور مظلوموں کو شناخت دینے والے رہنما تھے۔ ان کی سیاست میں ایک رومانویت بھی تھی اور ایک انقلابی حرارت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کمزور طبقات کے لیے امید اور طاقتوروں کے لیے خطرہ بن گئے۔
مگر تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو شخص تہذیب کو نئی سمت دینے کی کوشش کرتا ہے، وہی سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی مقبولیت، ان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور ان کا عوامی بیانیہ عالمی اور مقامی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔ نتیجتاً ایک ایسی سازش نے جنم لیا جس کا مقصد صرف ایک فرد کو ختم کرنا نہیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک تہذیبی سمت کو مٹانا تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھٹو کا قتل دراصل ایک انسان کا قتل نہیں تھا بلکہ ایک تہذیب کا قتل تھا۔ کیونکہ بھٹو صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک سوچ، ایک جذبہ اور ایک اجتماعی شعور کا نام تھے۔ ان کی موجودگی ایک ایسے معاشرے کی علامت تھی جہاں سوال اٹھانے کی جرات تھی، جہاں حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ تھا، اور جہاں عوام اپنی تقدیر خود لکھنے کا خواب دیکھ سکتے تھے۔
مرزا غالب کا یہ شعر آج بھی ہمارے حالات کی عکاسی کرتا ہے:
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
آج وہ "فاقہ مستی” اپنے تلخ رنگ دکھا رہی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اقدار مفقود، نظریات کمزور اور قیادت بے سمت نظر آتی ہے۔ پیسے کی چمک نے شعور کو ماند کر دیا ہے اور اوسط درجے کی سوچ رکھنے والے افراد قوم کی تقدیر کے فیصلے کر رہے ہیں۔
بھٹو کا قتل دراصل اسی عمل کا نقطۂ آغاز تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک ابھرتی ہوئی تہذیبی سمت کو روک دیا گیا، ایک عوامی شعور کو دبانے کی کوشش کی گئی اور ایک قوم کو اس کی اصل قیادت سے محروم کر دیا گیا۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ افکار کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو آج بھی ایک فکر، ایک استعارہ اور ایک امید کے طور پر زندہ ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سانحے کو محض ایک سیاسی واقعہ سمجھنے کے بجائے ایک تہذیبی تناظر میں دیکھیں۔ کیونکہ جب کسی قوم کی قیادت کو ختم کیا جاتا ہے تو درحقیقت اس کی تہذیبی روح کو زخمی کیا جاتا ہے۔ اور جب تہذیب زخمی ہو جائے تو قومیں محض ہجوم بن کر رہ جاتی ہیں۔
بھٹو کی فکر آج بھی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل طاقت عوام میں ہے، اصل قیادت وہی ہے جو عوام کے دلوں میں زندہ رہے، اور اصل تہذیب وہی ہے جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرے۔ یہی وہ روشنی ہے جسے بجھانے کی کوشش کی گئی، مگر جو آج بھی دلوں میں روشن ہے۔
تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو شخص تہذیب کو نئی سمت دینے کی کوشش کرتا ہے، وہی سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی مقبولیت، ان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور ان کا عوامی بیانیہ عالمی اور مقامی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔
فیس بک کمینٹ

