ڈاکٹر صلاح الدین حیدر سے میرے تعلق کی داستان چار عشروں پر محیط ہے۔ جلیل آباد میں قیام کے دنوں میں وہ ہمارے قریب کے ہمسائے تھے، اور آج اگرچہ وہ گارڈن ٹاؤن میں رہتے ہیں اور میں قاسم بیلہ میں، مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ہمسائیگی کا رشتہ آج بھی قائم ہے، بس فاصلے کچھ بڑھ گئے ہیں۔وہ ترقی پسند نظریات کے نہ صرف امین ہیں۔ بلکہ انہوں نے اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہو کر اس کو نئی زندگی عطا کی۔ وہ ہر اس نظام کے خلاف رہے، جس نے عوام کے حقوق غضب کیے۔ وہ ہمارے خطے کی ایسی شخصیت ہیں۔ جہنوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے شعور پھیلانے کی تحریک کو نئی زندگی بخشی
ان سے میری پہلی ملاقات کالج کے زمانے میں ہوئی۔ وہ دن جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت کے تھے، اور ڈاکٹر صلاح الدین حیدر شاہی قلعہ لاہور کی قید کاٹ کر واپس آئے تھے۔ اس اذیت ناک اسیری نے ان کے حوصلے کو متزلزل نہیں کیا بلکہ ان کے عزم کو مزید استحکام بخشا۔ انہوں نے نہ صرف وہ کٹھن دن بڑی پامردی سے گزارے بلکہ پوری زندگی حق گوئی، بے باکی اور اصول پسندی کا علم بلند رکھا۔
روزنامہ نوائے وقت کی پیشانی پر درج یہ جملہ کہ "جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے”، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی عملی زندگی کی بہترین تعبیر معلوم ہوتا ہے۔ میں نے انہیں کبھی حق بات کہنے سے گریز کرتے نہیں دیکھا۔ ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی یہی ہے کہ وہ منافقت سے کوسوں دور ہیں۔ جو کچھ سوچتے ہیں، وہی لکھتے ہیں، اور جو لکھتے ہیں، اسی پر عمل کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں بھی یہی بے لاگ صداقت جھلکتی ہے۔
ڈاکٹر صلاح الدین حیدر بیک وقت مزاح نگار، انشائیہ نگار، خاکہ نگار، ناول نگار، سفرنامہ نگار، نقاد، مترجم، ماہرِ تعلیم اور ایک صاحبِ مطالعہ دانش ور ہیں۔ ان کی شخصیت میں تصنع نہیں، سادگی ہے؛ بناوٹ نہیں، خلوص ہے۔ وہ جیسے نظر آتے ہیں، ویسے ہی اپنی نجی زندگی میں بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں ان جیسی بے ساختہ، صاف گو اور باوقار شخصیت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔
مادّیت کے اس دور میں، جہاں اکثر قلم بھی مصلحتوں کا اسیر ہو جاتا ہے، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے اپنے قلم کو کبھی فروخت نہیں ہونے دیا۔ نہ وہ دولت کے تعاقب میں نکلے، نہ اقتدار کی راہداریوں کے مسافر بنے۔ انہوں نے پوری زندگی قلم و قرطاس کی رفاقت میں گزاری اور علم و ادب کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
انہوں نے فیض احمد فیض پر پی ایچ ڈی کی، چند برس قازقستان میں تدریسی خدمات انجام دیں، تراجم کیے، حکایات لکھیں اور مسلسل مطالعہ کرتے رہے۔ آج بھی کتابیں خریدنے اور انہیں پوری انہماک سے پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں، پھر ان پر مدلل اور بصیرت افروز تبصرے بھی لکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے ہم عصروں میں وہ سب سے زیادہ فعال اور مسلسل لکھنے والے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اس وقت میرے سامنے ان کی تازہ ترین کتاب "روسی ناول: چند مطالعات” رکھی ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے چھ ممتاز روسی ناول نگاروں کے فن اور فکر کا نہایت عمیق اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے دیرینہ دوست عطا اللہ ملک اور ان کے ادارے "نیا مکتبہ” کے نام کیا ہے، جو ان کی رفاقت اور ادبی وابستگی کی خوب صورت علامت ہے۔
روسی ادب، بالخصوص روسی ناول، پر ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی گرفت غیر معمولی ہے۔ اسی لیے یقین ہے کہ یہ کتاب روسی ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت اہم اضافہ ثابت ہوگی اور انہیں اس عظیم ادبی روایت کے کئی نئے پہلوؤں سے روشناس کرائے گی۔
ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی تحریروں میں ہمیشہ فکر کی نئی جہتیں، تازہ زاویے اور گہرا مطالعہ نمایاں ہوتا ہے۔ "روسی ناول: چند مطالعات” بھی اسی تخلیقی اور تحقیقی سفر کی ایک درخشاں کڑی ہے۔

کتاب کا سرورق نہایت دیدہ زیب اور دل کش ہے۔ اسے گرد و پیش نے شائع کیا ہے۔ 120 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 600 روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم اگر اسے براہِ راست گرد و پیش سے حاصل کیا جائے تو پچاس فیصد رعایت بھی دستیاب ہے۔
یہ کتاب صرف روسی ادب کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے شفاف اسلوبِ ترجمہ اور گہرے ادبی شعور سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ضرور خریدنی چاہیے۔ ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری کو کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے اصل تخلیق اردو ہی میں لکھی گئی ہو۔
دعا ہے کہ ہمارے محترم استاد ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کا قلم اسی طرح رواں دواں رہے، ان کی صحت و توانائی قائم رہے، اور وہ اپنی علم افروز اور فکر انگیز کتابوں سے اردو ادب کے دامن کو اسی طرح مالا مال کرتے رہیں۔
فیس بک کمینٹ

