وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کے خلاف ایک غیر سفارتی، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان جاری کرکے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اگرچہ ایکس پر جاری ہونے والے اس بیان کو فوری طور پر ہی ڈیلیٹ کردیا لیکن اس کے اسکرین شاٹ اور متن سوشل میڈیا پر عام ہؤا اور اسرائیل نے اس کی شدید مذمت کی۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کی تیاری کررہی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ پاکستان کے جذبہ خیر سگالی سے دونوں ملک مستقل جنگ روکنے اور ایک ایسے معاہدے پر متفق ہوجائیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور علاقے میں امن و خوشحالی کا پیامبر بن جائے۔ لبنان میں اسرائیلی دہشت گردی میں اضافے کی پوری دنیا میں مذمت کی جارہی ہے حتی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل وزیر اعظم سے فون پر بات کرکے تحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے ۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے اسرائیلی جارحیت ختم کرانے کے لیے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی سہولت کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ مذاکرات اگلے ہفتے ہونے والے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر جو بات ایران، پاکستان اور دنیا بھر کے لیڈروں کو سمجھ آرہی تھی، وہ خواجہ آصف جیسا جہاں دیدہ سیاست دان اور وزارت دفاع کے ذمہ دار عہدے پر فائز ایک شخص دیکھنے اور سمجھنے میں ناکام ہے۔ پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اسرائیل لبنان میں جارحیت کے ذریعے درحقیقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ اس بدنیتی کو محسوس کرتے ہوئے ایرانی لیڈروں نے ضرور سخت تنبیہی بیانات دیے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام آباد مذاکرات کی تیاری بھی جاری ہے اور اعتماد سازی کی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے آج ہی ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ سمیت ہر ملک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ البتہ انہیں بارودی سرنگوں سے بچنے اور حفاظت کے لیے پاسداران سے رابطہ رکھنا چاہئے۔
اسی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی مثبت اشارے دیے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ ان مذاکرات کی کامیابی اور حتمی معاہدے کی امید ظاہر رکرہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ لبنان میں معاملات بگاڑ کر مذکرات کو خراب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس وقت فریقین کے علاوہ ثالثی کی ذمہ داری لینے والے ملک پر بھی لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور خیر سگالی کا ماحول پیدا ہو۔ نفرت اور ضد کی بجائے احترام اور باہمی افہام و تفہیم کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کو سفارت کاری میں جنگ بندی کا کریڈٹ ملنے کے بعد میزبان ملک کے طور پر بھی اس کی ذمہ داریوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اندیشہ موجود ہے کہ ایک طرف اسرائیل لبنان میں جنگ جوئی کی طرح دوسرے اقدامات کے ذریعے ان مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرسکتا ہے تو دوسری طرف بھارت اور افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کی نیک نیتی کی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی۔ درحقیقت پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ تاریخ کی وجہ سے ان اندیشوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔ اسی لیے پاکستان کے سکیورٹی ادارے غیر ملکی وفود کی آمد کے موقع پر غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
پاکستانی لیڈر محتاط انداز میں ایک خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اسی حکومت کا وزیر دفاع اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز اور ہتک آمیز ایکس پیغام کے ذریعے نہ جانے کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس ٹوئٹ سے خواجہ آصف نے ملک کے مذہبی جنونیوں اور نفرت کے سوداگروں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ انتہائی عاقبت نااندیشانہ حرکت ہے۔ اس قسم کے بیانات امن معاہدہ کرانے کے لیے وزیر اعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔ لیکن خواجہ آصف سیاست میں ساری زندگی گزارنے کے باوجود معاملات کی سنگینی اور حساسیت سمجھنے سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم کسی شخص کو خاص طور سے جب وہ وفاقی کابینہ میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہو ، پاکستان کے تاریخ ساز کردار کو مثبت سے منفی شکل دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ایکس پر پیغام کو ڈیلیٹ کرنے سے یہ تو واضح ہؤا ہے کہ وزیر اعظم نے اس کا فوری نوٹس لیا ہے۔ لیکن محض ٹوئٹ واپس لینے سے اس مزاج کا قلع قمع نہیں ہوسکتا جو پاکستان کو شدت پسند اور انتہاپسند ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ وزیر اعظم کو نوٹ کرنا چاہئے کہ ایسے عناصر شدت پسند گروہوں کی صورت میں پورے ملک میں متحرک ہیں لیکن خواجہ آصف جیسے لوگوں کی صورت میں انہیں وفاقی حکومت میں بھی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ پاکستان اگر عالمی سطح پر امن کے پیامبر کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور اگر دہائیوں کے بعد دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست کی جگہ خود کو امن و خوشحالی کا داعی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کررہاہے تو خواجہ آصف جیسے کرداروں سے کابینہ کو صاف کرنے اور انہیں ریٹائر ہونے کا مشورہ دینا ضروری ہے۔
اسرائیل کی تمام تر منفی، سفاکانہ اور استحصال پسندانہ پالسیوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اس نام کا ملک مشرق وسطیٰ کے قلب میں واقع ہے جسے تسلیم کیے بغیر کسی سفارت کاری میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے گزشتہ روز یہ گزارش کی گئی تھی کہ پاکستان کو ثالثی میں کامیابی اور مستقبل میں علاقائی سیاست میں اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کے خلاف نفرت و ضد کا رشتہ ختم کرکے ، اس کے وجود کو تسلیم کرنے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہئے۔ پاکستان میں دہائیوں تک اس یہودی ریاست کے خلاف نفرت پھیلائی گئی ہے جس کی وجہ سے نفرت اور تعصبات کا ایک طوفان بپا ہے اور کوئی لیڈر پاکستانی عوام کو حقیقی عالمی سیاسی و سفارتی حقائق سے آگاہ کرنے اور راست اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ البتہ موجودہ حکومت نے ایران امریکہ کی سیز فائر سے ایسا عالمی وقار و اعتماد حاصل کیا ہے کہ وہ اسے استعمال کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو حقیقت حال تسلیم کرنے اور درست سیاسی و سفارتی اقدامات پر قائل کرسکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس عمل میں خواجہ آصف جیسے متعدد عناصر کا سامنا ہوگا۔ لیکن اب اگر اس نفرت کو مسترد نہ کیا گیا تو پاکستان کبھی اپنی موجودہ مشکلات سے جان نہیں چھڑا سکے گا۔
ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔
کسی ملک کے وجود پر انگلی اٹھا کر اسے بددعائیں دینے کا یہ بچگانہ طرز عمل پاکستان کے لیے اقوام عالم میں سانس لینا دشوار کرسکتا ہے۔ ایسے بیانات اسرائیل کو تو نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن پاکستان کی رہی سہی ساکھ تباہ کرسکتے ہیں۔ اسرائیل نے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے ۔ پھر بھی نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والا بیان خواجہ آصف کے واہیات بیان کی طرح سفارتی حدود عبور نہیں کرتا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’ اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت قابلِ مذمت ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے برداشت نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانبدار ثالث قرار دیتی ہو‘۔
اس تلخ تجربہ کے بعد شہباز شریف حکومت کو یقینی بنانا چاہئے کہ کوئی بھی وزیر یا پارٹی کا رکن وزارت خارجہ سے پیشگی کلیرنس کے بغیر خارجہ امور پر بیان بازی سے گریز کرے۔ صرف اسی طرح مستقبل میں اس نقصان سے بچا جاسکتا ہے جو خواجہ آصف کے ایک غیر ضروری بیان سے پاکستان کے مفادات کو پہنچا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

