ناروے کے دورہ کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے نارویجئن وزیر اعظم کے ساتھ باہمی تعلقات پر بات چیت کے بعد پریس کانفرنس تو منعقد کی لیکن کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر ایک خاتون صحافی نے اونچی آواز میں پوچھا کہ ’وہ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا کے سوالات کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟ اس دورہ کے دوران ان کی شان میں کہے گئے شاندار الفاظ اس سادہ اور پروقار سوال کی گونج میں دب کر رہ گئے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت ناروے کے دو روزہ دورہ پر ہیں۔ آج انہوں نے ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار ستورے کے ساتھ بات چیت کی اور سرکاری ضیافت میں شریک ہوئے اور منگل کو وہ اوسلو میں نارڈک ممالک کی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ تاہم آج جس وقت آکرس ہس قلعہ پر نریندر مودی اپنے اعزاز میں عشائیہ سے ’لطف اندوز ‘ ہورہے تھے، اسی وقت ستورتنگ کے باہر سینکڑوں لوگوں نے بھارت کی کشمیر پالیسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج کا اہتمام ناروے کی کشمیر کمیٹی نے کیا تھا جس میں کشمیری عوام کے حقوق سلب کرنے کے خلاف آواز بلندکرتے ہوئے نارویجئن حکومت سے سوال کیا گیا کہ ناروے جیسا جمہوری ملک ایک ایسے لیڈر کو کیسےدعوت دے سکتا ہے جو اپنے ملک میں آمرانہ ہتھکنڈوں سے کام لیتا ہے اور اقلیتوں کو حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ یہ مظاہرہ ناروے کی جمہوری روایت کا شاندار اظہار تھا۔ اس ملک میں کسی بھی سرکاری فیصلے پر سوال اٹھانے اور اختلاف رائے رجسٹر کرانے کا حق حاصل ہے۔ ملک کا کوئی بھی شہری اس حق کو استعمال کرسکتا ہے۔ ناروے کے کشمیری نژاد شہریوں نے بھی اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال بیان کرنے کا اہتمام کیا تھا۔
یہ احتجاج شام چھے بجے شروع ہؤا تھا جس دوران بھارتی وفد کو حکومت ناروے کی طرف سے روائیتی سرکاری دعوت دی گئی تھی۔ گو کہ مین اسٹریم میڈیا کی توجہ تو اس موقع پر ہونے والی باتوں اور سرگرمیوں پر مرکوز رہی لیکن مظاہرے کے دوران مودی کی انسان دشمن پالیسیوں کو للکارتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاہم نریندر مودی کو اس سے پہلے ہی اس وقت شدید ہزیمت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب دن کے دوران نارویجئن وزیر اعظم یوہان گار ستورے سے ملاقات کے بعد روائیتی انداز میں انہیں میڈیا سے بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ نریندر مودی نے پہلے سے تیار تقریر کرتے ہوئے اپنے دورہ کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گزشتہ سال پہلگام سانحہ کی وجہ سے وہ ناروے کا طے شدہ دورہ نہیں کرسکے تھے۔ اس لیے وہ اب یہ دورہ کرنے آئے ہیں جس میں تجارتی و سائنسی تعاون میں اشتراک کے متعدد منصوبوں پر اتفا ق کیا گیا ہے۔
روائیتی چالاکی سے کام لیتے ہوئے نریندر مودی نے اس موقع پر بھی پہلگام سانحہ کو دہشت گردی بتا کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ ناروے نے اس دہشت گردی کے خلاف بھارت کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ناروے اور دنیا کا ہر مہذب ملک دنیا میں کہیں پر بھی ہونے والی دہشت گردی کو مسترد کرتا ہے اور اس کی مذمت کی جاتی ہے لیکن مودی نے اس وقوعہ کو دنیا میں بھارت اور اپنی حکومت کی بگڑتی ہوئی ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم انہیں یہ بتانے کا حوصلہ نہیں ہؤا کہ اس کے بعد بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور پاکستان کی جوابی کارروائی میں ہزیمت اٹھائی تھی۔ اور یہ کہ بھارت ابھی تک گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے سانحہ کے حقیقی ملزموں کو سامنے لانے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عام طور سے میڈیا کے سامنے دئے گئے بیانات کے بعد صحافی اپنے سوالوں سے ان تشنہ پہلوؤں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں کوئی لیڈر نظر انداز کرتا ہے۔ تمام جمہوری ممالک کے لیڈر اس صورت حال کے لیے تیار ہوتے ہیں اور کسی بھی طرح صحافیوں کو مطمئن کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ تاہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں گزشتہ12 سال سے حکومت کرنے والا وزیر اعظم میڈیا کا سامنا کرنے اور سوالوں کاجواب دینے سے گھبرا تا ہے۔ اوسلو میں میڈیا سے ملاقات کے دوران نریندر مودی کو اپنے اس رویہ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ مودی نے تقریر کرنے اور اپنے تئیں دنیا میں امن کی خواہش کا بھرپور اظہار کرنے کے بعد جانے کے لیے قدم اٹھایا ہی تھا کہ ایک مقامی اخبار ’داگس اویسن‘ کی صحافی ہیلے لینگے سوندسن نے ان سے پوچھا: ’مسٹر وزیر اعظم کیا وجہ ہے کہ آپ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں
اس سوال کا پس منظر رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا عالمی پریس فریڈم انڈکس ہے جس میں ناروے گزشتہ ایک دہائی سے بدستور پہلی پوزیشن پر ہے، جب کہ سال رواں کے انڈکس کے مطابق بھارتی میڈیا کو 180 میں سے 157 واں نمبر دیا گیا ہے۔ اس سوال کی گونج نے اگرچہ نریندر مودی کے دورہ ناروے کی شان و شوکت کو ماند کردیا لیکن بھارتی وزیر اعظم کو ایک چھوٹے سے ملک کی نوجوان صحافی کے اس سادہ اور آسان سوال کا جواب دینے کے لیے رکنے کا حوصلہ نہیں ہؤا۔ گھاگ مودی جانتے تھے کہ یہ سادہ سوال ان کا سارا جمہوری بھرم اور انسان و امن دوستی کی قلعی کھولنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تاہم خاموشی سے چلے جانے کے باوجود اس سوال نے ناروے سے لے کر بھارت تک لوگوں کو بھارتی نظام اور وہاں کے لیڈروں کی جمہوریت پسندی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ حتی کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگرس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے ایکس پر اس سوال پر مبنی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’ جب دنیا دباؤ میں آئے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم کو چند سوالوں سے گھبرا کر بھاگتے ہوئے دیکھتی ہے تو بھارت کی ساکھ پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘
نریندر مودی لگ بھگ ڈیڑھ ارب آبادی کے حامل ایک بڑے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا رہنما قرار دیتے نہیں تھکتے۔ جمہوری لیڈر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سوال کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن بدحواس مودی کے ساتھ ناروے کی ایک صحافی نے وہی سلوک کیا ہے جو 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’یشونت ‘ میں نانا پاٹیکر کے اس ڈائیلاگ سے نمایاں ہوسکتا ہے: ’ایک مچھر سالا آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے ‘۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

