ایران کی سرزمین صدیوں سے تہذیبوں، مذاہب اور اقوام کا سنگم رہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں بلکہ گلیوں، عبادت گاہوں اور انسانی یادداشت میں سانس لیتی ہے۔ اسی سرزمین پر مختلف مذہبی برادریوں کی کہانیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ، جن میں کلیمی، مسیحی ، زرتشتی اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں۔ یہ داستانیں محض بقا کی نہیں بلکہ شناخت، رواداری اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بھی ہیں۔
تاریخ کے دریچوں سے جھانکیں تو ہمیں وہ دور نظر آتا ہے جب بابل کی جلاوطنی نے کلیمی برادری کو اپنے وطن سے جدا کر دیا تھا۔ اس کڑے وقت میں امید کی شمع مدھم ہو چکی تھی، مگر پھر سائرس اعظم نے بابل کو فتح کر کے نہ صرف انہیں آزادی دی بلکہ ان کے مذہب اور شناخت کو بھی تسلیم کیا۔ یہ ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا جس نے ایران اور کلیمی برادری کے درمیان تعلق کی بنیاد رکھی۔
وقت کے ساتھ یہ برادری ایران کے مختلف شہروں ، اصفہان، شیراز اور ہمدان میں آباد ہوئی۔ انہوں نے تجارت، تعلیم اور ثقافت میں اپنا کردار ادا کیا اور اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھا۔ اسی طرح مسیحی برادری، خصوصاً آرمینیائی مسیحی ، اصفہان کے جلفا علاقے میں آباد ہوئے جہاں آج بھی ان کے گرجا گھر اور تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ زرتشتی برادری، جو قدیم ایران کی تہذیبی روح سمجھی جاتی ہے، یزد اور کرمان میں اپنی روایات کے ساتھ موجود ہے۔
اسلامی ادوار میں ان برادریوں کو مختلف اوقات میں سماجی و انتظامی سطح پر تسلیم کیا جاتا رہا، اور انہیں اپنی عبادات، رسوم اور معاشرتی زندگی کو جاری رکھنے کے مواقع ملتے رہے، اگرچہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ صفوی اور قاچار ادوار میں ان کے حالات میں اتار چڑھاؤ آیا، مگر انہوں نے ہر دور میں صبر اور حکمت کے ساتھ اپنی بقا کو یقینی بنایا۔
جدید ایران میں رضا شاہ پہلوی اور محمد رضا شاہ پہلوی کے ادوار میں اقلیتوں کو تعلیم، تجارت اور شہری زندگی میں بہتر مواقع میسر آئے۔ یہ وہ دور تھا جب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نسبتاً کھلے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے تھے۔
پھر ایرانی انقلاب 1979 آیا، جس نے پورے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس وقت کلیمی برادری کی تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب تھی، مگر انقلاب کے بعد ایک بڑی ہجرت دیکھنے میں آئی۔ اندازاً 60 ہزار سے زیادہ افراد ایران چھوڑ کر امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں جا بسے۔ یہ ہجرت صرف مذہبی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے سیاسی غیر یقینی صورتحال، معاشی تبدیلیاں اور مستقبل کے خدشات جیسے عوامل بھی شامل تھے۔
آج ایران میں کلیمی برادری کی تعداد تقریباً 8 ہزار سے 15 ہزار کے درمیان ہے، جبکہ مسیحی اور زرتشتی برادریاں بھی اپنی محدود مگر مستقل موجودگی رکھتی ہیں۔ تہران سمیت بڑے شہروں میں یہ لوگ عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ایرانی آئین ان اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے اور پارلیمنٹ میں ان کے لیے مخصوص نشستیں بھی موجود ہیں، جو ان کی آئینی حیثیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اگر سیکیورٹی کے پہلو کو دیکھا جائے تو ایران کو مختلف ادوار میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ جدید دور میں ان چیلنجز کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ Stuxnet سائبر حملہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو متاثر کیا اور دنیا کو سائبر جنگ کے نئے خطرات سے روشناس کرایا۔
اسی طرح ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ اور قاسم سلیمانی کی بغداد ڈرون حملہ 2020 میں ہلاکت نے یہ واضح کیا کہ جدید جنگ میں معلومات، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کس قدر فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج کی جنگ صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ڈیٹا، سائبر اسپیس اور معلوماتی برتری کی جنگ بن چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے مواصلاتی اور نگرانی کے نظام کو متعدد بار نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو اس بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے کا حصہ ہے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ذمہ دارانہ تجزیہ ضروری ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے مسائل کو کسی ایک مذہب یا کمیونٹی سے جوڑ دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایران جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں یہ حساسیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
درحقیقت، ایران اور اس کی مختلف مذہبی برادریوں کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تنوع کے باوجود ایک معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تجزیہ تعصب سے پاک ہو اور حقائق کی بنیاد پر کیا جائے۔
ایران کی سرزمین آج بھی مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں تاریخ، سیاست اور ثقافت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں—اور جہاں اصل ضرورت تعصب نہیں بلکہ توازن، تحقیق اور سچائی کی ہے۔
فیس بک کمینٹ

