تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔
Browsing: امریکا
ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔
عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کے امکانات روشن ہوگئے…
کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ شاندار ہیں شخصیت کے مالک ہے اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں۔‘
امریکی نائب صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا جو اس پورے مذاکراتی عمل کا ایک مرکزی نکتہ رہا ہے۔
تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘
اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
