Browsing: امریکا

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران-امریکا جنگ بندی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال جانیے

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ شاندار ہیں شخصیت کے مالک ہے اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں۔‘

تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘
اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!

ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔

1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔

ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔